Wednesday, 19 August 2026

ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی

 تاجر کی موت


ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی

کوئی اب چال چل عقل و ہنر کی

بسر کی زندگی عیش و طرب میں

خبر کب تھی اجل کے نامہ بر کی

مآلِ زندگی سوچا نہ تاجر

عجب ماحول میں تُو نے بسر کی

تعلق صرف رکھا مال و زر سے

نہ کیں تیاریاں کچھ اس سفر کی

خدا حافظ ہے جا ملکِ عدم کو

مبارک ہو تجارت سیم و زر کی

مآلِ زندگی کا جائزہ لے

کہاں ہیں اب وہ شانیں کر و فر کی

چلا خاکی سپردِ خاک ہونے

کمائی اب لُٹے کی عمر بھر کی

جو زر کی طرح فکرِ دیں بھی کرتا

مرادِ دل سے دامن آج بھرتا


رضی بدایونی

مولوی رضی احمد

No comments:

Post a Comment