جہاں ساری خدائی جا رہی تھی
وہاں سُولی سجائی جا رہی تھی
بس اتنا یاد ہے سُولی پہ مجھ کو
کوئی آیت سُنائی جا رہی تھی
وہ میری عُمر تھی پردے کے پیچھے
جو میرے ساتھ لائی جا رہی تھی
مِرے خوابوں کی بوسیدہ سی گٹھڑی
بُلندی سے گِرائی جا رہی تھی
وہاں پر جُگنوؤں کا شور تھا بس
جہاں تِتلی جلائی جا رہی تھی
مِرا دل بھی بنایا جا رہا تھا
محبت جب بنائی جا رہی تھی
قمر تاثیر میرے آنسوؤں کی
زمینوں میں چُھپائی جا رہی تھی
کامران قمر
No comments:
Post a Comment