رِم جِھم یادیں
رم جھم سی برسات، یادوں کی بارات
بند اکھین بھِیگت جاؤں ان یادوں کے ساتھ
اب کام کاج میں جیا نہ لاگے
نہ پڑھائی میں مورا دھیان
میں باوریا، پرِیت میں تُمری
ہوئی احمق، پاگل اور نادان
ہو کافی گرم یا تپتی چائے
بِن پیئے ، پڑی رہ جائے
تُم بن ، ساجن ، پریتم مورے
جیئا اک پل چین نہ پائے
اب تم بن کیسے گُزرے ساون؟
کوئی آئے، موہے سمجھائے
من اگن پریت کی بھڑکے ہے
اب ملن کی رم جھم ہو جائے
شہزاد احمد اعوان
No comments:
Post a Comment