Tuesday, 11 August 2026

سمجھتے خود کو جو فاضل ہیں آپ کیا جانیں

 مِری نگاہ میں جاہل ہیں آپ کیا جانیں

سمجھتے خود کو جو فاضل ہیں آپ کیا جانیں

یہ وار کرتے ہیں لیکن دلوں پہ کرتے ہیں

یہ حُسن والے بھی قاتل ہیں آپ کیا جانیں

کِھلا رہے ہیں جو کھانا یہاں فقیروں کو

وہ لوگ پیار کے قابل ہیں آپ کیا جانیں

جو آپ کہتے ہیں وہ بات ہے غلط ناصح

کہ میرے پاس دلائل ہیں آپ کیا جانیں

جو بولتے تھے تھے کبھی، ان کے لب پہ تالا ہے

کہ ان کے اپنے مسائل ہیں آپ کیا جانیں

عدالتیں ہی انہیں کرتی ہیں بری شبنم

جو لوگ جُرم میں شامل ہیں آپ کیا جانیں


شبنم بھٹکلی

حنیف شاہ

No comments:

Post a Comment