Showing posts with label عائشہ انمول. Show all posts
Showing posts with label عائشہ انمول. Show all posts

Saturday, 19 June 2021

لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے

 لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے

پھر بھی الزام قسمت کو دیں گے

آپ کس کس کی پرواہ کریں گے

لوگ تو بولتے ہی رہیں گے

زندگی! تُو یہاں سے چلی جا

یاں تجھے لوگ جینے نہ دیں گے

Tuesday, 2 March 2021

اس کے لگتے ہیں یہ انداز نرالے مجھ کو

 اس کے لگتے ہیں یہ انداز نرالے مجھ کو

خود ہی ناراض کرے، خود ہی منا لے مجھ کو

یاد ہیں اب بھی محبت کے حوالے مجھ کو

کاش آواز تو دے، کاش بُلا لے مجھ کو

اپنی دلہن کے حسیں روپ میں ڈھالے مجھ کو

ساری دنیا کی نگاہوں سے چُھپا لے مجھ کو

Monday, 1 March 2021

یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیے ہو

 یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیے ہو

مِری زیست لرزاں شجر کس لیے ہو

کوئی تہمتیں آپ پر بھی لگائے

ہر الزام میرے ہی سر کس لیے ہو

ہر اک ظلم ہنس کر کہاں تک سہیں ہم

ہر اک بات پر درگزر کس لیے ہو

Sunday, 28 February 2021

بات بے بات برہمی صاحب

 بات بے بات برہمی صاحب

ہم سے کوئی خطا ہوئی صاحب

مجھ کو بھائے نہ دشمنی صاحب

میرا مسلک ہے دوستی صاحب

میں نے سچ بولنے کی جراءت کی

بات سب کو لگی بری صاحب

Saturday, 27 February 2021

کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے

 کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے؟

جو کھائی تھیں قسمیں بھلا تو نہ دو گے

مجھے بھی اسی سمت جانا ہے ہمدم

میں تیار ہو لوں، ذرا سا رکو گے

میری بات چھوڑو، کچھ اپنی سناؤ

مِرے غم کی رُوداد کب تک سنو گے