لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے
پھر بھی الزام قسمت کو دیں گے
آپ کس کس کی پرواہ کریں گے
لوگ تو بولتے ہی رہیں گے
زندگی! تُو یہاں سے چلی جا
یاں تجھے لوگ جینے نہ دیں گے
لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے
پھر بھی الزام قسمت کو دیں گے
آپ کس کس کی پرواہ کریں گے
لوگ تو بولتے ہی رہیں گے
زندگی! تُو یہاں سے چلی جا
یاں تجھے لوگ جینے نہ دیں گے
اس کے لگتے ہیں یہ انداز نرالے مجھ کو
خود ہی ناراض کرے، خود ہی منا لے مجھ کو
یاد ہیں اب بھی محبت کے حوالے مجھ کو
کاش آواز تو دے، کاش بُلا لے مجھ کو
اپنی دلہن کے حسیں روپ میں ڈھالے مجھ کو
ساری دنیا کی نگاہوں سے چُھپا لے مجھ کو
یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیے ہو
مِری زیست لرزاں شجر کس لیے ہو
کوئی تہمتیں آپ پر بھی لگائے
ہر الزام میرے ہی سر کس لیے ہو
ہر اک ظلم ہنس کر کہاں تک سہیں ہم
ہر اک بات پر درگزر کس لیے ہو
بات بے بات برہمی صاحب
ہم سے کوئی خطا ہوئی صاحب
مجھ کو بھائے نہ دشمنی صاحب
میرا مسلک ہے دوستی صاحب
میں نے سچ بولنے کی جراءت کی
بات سب کو لگی بری صاحب
کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے؟
جو کھائی تھیں قسمیں بھلا تو نہ دو گے
مجھے بھی اسی سمت جانا ہے ہمدم
میں تیار ہو لوں، ذرا سا رکو گے
میری بات چھوڑو، کچھ اپنی سناؤ
مِرے غم کی رُوداد کب تک سنو گے