سکون دل ہو مگر تم بچا سکے نہ مجھے
دلیل درد جگر تم بچا سکے نہ مجھے
تمہی سفینہ، تمہی نا خدا، تمہی ساحل
میں ڈوبتا ہوں مگر تم بچا سکے نہ مجھے
کسی کے دست شفا کیسے میرے کام آئیں
مِرے طبیب! اگر تم بچا سکے نہ مجھے
سکون دل ہو مگر تم بچا سکے نہ مجھے
دلیل درد جگر تم بچا سکے نہ مجھے
تمہی سفینہ، تمہی نا خدا، تمہی ساحل
میں ڈوبتا ہوں مگر تم بچا سکے نہ مجھے
کسی کے دست شفا کیسے میرے کام آئیں
مِرے طبیب! اگر تم بچا سکے نہ مجھے
محبت کی ہوائے دل ربا سے جھوٹ بولے گی
حسیں کاذب ہے وہ اہلِ وفا سے جھوٹ بولے گی
وہ اک اک جھوٹ جھٹلانے کو سو سو جھوٹ بولے گی
وہ خود سے جھوٹ بولے گی خدا سے جھوٹ بولے گی
مِرے معصوم سچ کو کچہری میں لا کھڑا کر کے
کوئی دیکھے کہ وہ کس کس ادا سے جھوٹ بولے گی
پیار کے کھٹے میٹھے نامے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں
ہر شب کو جانے انجانے، وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں
آج بھی فرقت کے لمحوں میں میرے نام کے حرف عداوت
ٹیڑھے میڑھے ترچھے آڑے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں
میں نازک احساس لکھوں تو بوجھ تلے وہ دب جاتی ہے
لفظ جواباً پتھر باندھے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں
بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے
سر پھرے حالات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے
جو مِرے دشمن کو سمجھا کر گئی، کم ظرف ہے
یعنی کس کس بات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے
آج بیرونِ قفس صیاد کی پرواہ نہیں
آپ اپنی ذات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے
سفر میں راستہ جو پر خطر ملا تھا مجھے
بہت ہی خوب تھا کیوں راہبر ملا تھا مجھے
جہاں میں جب کوئی جنس گراں شناس نہ تھا
تو اتنا بیش بہا کیوں گہر ملا تھا مجھے
پھر اس کے بعد مرا سر رہا نہ شانوں پر
دیار عشق میں وہ سنگِ در ملا تھا مجھے
خواب تھا ارمان تھا کیا کچھ تِری پلکوں پہ تھا
وہ ہمارا ذکر جو کل تک تِرے ہونٹوں پہ تھا
وہ مسافر پا بجولاں جانے کیوں لب دوز تھے
ایک جیسا درد افسانہ سبھی چہروں پہ تھا
خوش نصیبوں کو پہاڑوں سے خزانے مل گئے
مجھ کو وہ بھی مل نہ پایا جو مِرے ہونٹوں پہ تھا