Showing posts with label بشیر دادا. Show all posts
Showing posts with label بشیر دادا. Show all posts

Monday, 25 April 2022

سکون دل ہو مگر تم بچا سکے نہ مجھے

 سکون دل ہو مگر تم بچا سکے نہ مجھے

دلیل درد جگر تم بچا سکے نہ مجھے

تمہی سفینہ، تمہی نا خدا، تمہی ساحل

میں ڈوبتا ہوں مگر تم بچا سکے نہ مجھے

کسی کے دست شفا کیسے میرے کام آئیں

مِرے طبیب! اگر تم بچا سکے نہ مجھے

Tuesday, 27 July 2021

محبت کی ہوائے دلربا سے جھوٹ بولے گی

 محبت کی ہوائے دل ربا سے جھوٹ بولے گی

حسیں کاذب ہے وہ اہلِ وفا سے جھوٹ بولے گی

وہ اک اک جھوٹ جھٹلانے کو سو سو جھوٹ بولے گی

وہ خود سے جھوٹ بولے گی خدا سے جھوٹ بولے گی

مِرے معصوم سچ کو کچہری میں لا کھڑا کر کے

کوئی دیکھے کہ وہ کس کس ادا سے جھوٹ بولے گی

Wednesday, 21 July 2021

پیار کے کھٹے میٹھے نامے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں

 پیار کے کھٹے میٹھے نامے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں

ہر شب کو جانے انجانے، وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں

آج بھی فرقت کے لمحوں میں میرے نام کے حرف عداوت

ٹیڑھے میڑھے ترچھے آڑے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں

میں نازک احساس لکھوں تو بوجھ تلے وہ دب جاتی ہے

لفظ جواباً پتھر باندھے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں

Tuesday, 20 July 2021

بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

 بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

سر پھرے حالات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

جو مِرے دشمن کو سمجھا کر گئی، کم ظرف ہے

یعنی کس کس بات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

آج بیرونِ قفس صیاد کی پرواہ نہیں

آپ اپنی ذات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

Wednesday, 19 May 2021

سفر میں راستہ جو پر خطر ملا تھا مجھے

 سفر میں راستہ جو پر خطر ملا تھا مجھے

بہت ہی خوب تھا کیوں راہبر ملا تھا مجھے

جہاں میں جب کوئی جنس گراں شناس نہ تھا

تو اتنا بیش بہا کیوں گہر ملا تھا مجھے

پھر اس کے بعد مرا سر رہا نہ شانوں پر

دیار عشق میں وہ سنگِ در ملا تھا مجھے

Tuesday, 18 May 2021

خواب تھا ارمان تھا کیا کچھ تری پلکوں پہ تھا

 خواب تھا ارمان تھا کیا کچھ تِری پلکوں پہ تھا

وہ ہمارا ذکر جو کل تک تِرے ہونٹوں پہ تھا

وہ مسافر پا بجولاں جانے کیوں لب دوز تھے

ایک جیسا درد افسانہ سبھی چہروں پہ تھا

خوش نصیبوں کو پہاڑوں سے خزانے مل گئے

مجھ کو وہ بھی مل نہ پایا جو مِرے ہونٹوں پہ تھا