Showing posts with label نسرین سید. Show all posts
Showing posts with label نسرین سید. Show all posts

Thursday, 18 June 2026

ہے راہ حق یہی یہی رستہ رسول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا

منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا

لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ

یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا

دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت

ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا

Friday, 13 February 2026

نہیں کافی سلیقہ نعت میں بس خوش بیانی کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا

مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا

جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی

نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا

وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر

نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا

Saturday, 3 January 2026

رکھا ہے مدینے کا سفر سمت نظر میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رکھا ہے مدینے کا سفر سمتِ نظر میں

اشکوں کے خزانے ہیں مِرے زادِ سفر میں

بخشی مِرے دل کو تِری رحمت نے یہ رقت

امیدِ شفاعت ہے مِرے دیدۂ تر میں

وہ نُور تھا رُخ پر جو کرے آنکھ کو خِیرہ

ہے آپ کے جلوے کی جھلک شمس و قمر میں

Sunday, 28 December 2025

یہ زمیں یہ آسماں اے رحمت الالعالمین

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ زمیں، یہ آسماں اے رحمت الالعالمین

آپ کے مدحت کناں، اے رحمت ا لالعالمین

نام لوں میں آپ کا گر نطق زم زم سے دُھلے

با وضو ہو لے زباں، اے رحمت ا لالعالمین

ڈر ہو کیوں ہم عاصیوں کو اے شفیع المجتبیٰ

آپ کا دامن اماں اے رحمت ا لالعالمین

Friday, 5 December 2025

سرکار مدینہ کی وساطت پہ نظر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سرکارِ مدینہؐ کی وساطت پہ نظر ہے

اُس رحمت عالمؐ کی شفاعت پہ نظر ہے

پائی وہ بلندی کہ ہے افلاک کو حیرت

رفعت کی ، نبی پاکؐ کی رفعت پہ نظر ہے

بِن مانگے عطا ہوتے ہیں دنیا کے خزانے

آقاﷺ تہی داماں ہوں، عنایت پہ نظر ہے

Monday, 23 September 2024

ہوں شرمندہ اگرچہ ہر خطا پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہوں شرمندہ اگرچہ ہر خطا پر

بھروسہ ہے مجھے انؐ کی سخا پر

نبیؐ کے در پہ ہوں پھیلائے دامن

نظر میری ہے اُس دستِ عطا پر

ہیں جن کے واسطے افلاک کُھلتے

خدا کی مہر ہے بدرالدجیٰ پر

Sunday, 22 September 2024

مجھ گنہگار پہ، سب تیری عطا ہے مالک

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مجھ گنہگار پہ، سب تیری عطا ہے مالک

میری اوقات سے بڑھ کر ہی دیا ہے مالک

ہے کرم تیرا، مِرے درد کا درماں جو بنا

تیری رحمت سے ہر اک زخم سِلا ہے مالک

تیرے ہی ذکر سے مٹتا ہے ہر اک رنج مِرا

تیرا ہی نام مجھے ردِ بلا ہے مالک

Thursday, 19 September 2024

سایۂ عشق نبی دل پہ پڑا اچھا لگا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سایۂ عشقِ نبیﷺ دل پہ پڑا، اچھا لگا

ہوں محمدﷺ کے غلاموں میں، بڑا اچھا لگا

بے خودی میں بھی مِرے دل کو ہے رحمت کا پتہ

درِ آقاﷺ پہ، یہ مجذوب کھڑا اچھا لگا

شوقِ دیدار میں پلکوں پہ لرزتا ہوا اشک

اُنؐ کی چوکھٹ پہ نگینہ یہ جڑا، اچھا لگا

Saturday, 14 September 2024

راہ دکھلائے گا خدا میرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


راہ دکھلائے گا، خدا میرا

بس وہی تو ہے رہنما میرا

سب کی مشکل جو ٹال دیتا ہے

ہے مصیبت میں آسرا میرا

اس قدر جس نے نعمتیں بخشیں

اس کے آگے ہے سر جھکا میرا

Thursday, 12 September 2024

ہے راہ حق یہی یہی رستہ رسول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے راہ حق یہی یہی رستہ رسولﷺ کا

منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولؐ کا

اللہ نے بلند کیا ذکر آپﷺ کا

رتبہ تمام نبیوں میں اعلیٰ رسولؐ کا

لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارؐ

یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسولؐ کا

Wednesday, 11 September 2024

وہ مالک ہے وہی سب کا خدا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ مالک ہے وہی سب کا خدا ہے

سو اُس کے نام ہی سے ابتداء ہے

نگہبانی جہاں کی، اُس کو زیبا

جو سوتا ہے کبھی، نہ اُونگھتا ہے

دلوں کی سختیوں کو نرم کر کے

وہی مہر و محبت ڈالتا ہے

Monday, 2 September 2024

مدینے کی ڈگر ہو کتنی ہی پر خار بسم اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدینے کی ڈگر ہو کتنی ہی پُر خار، بسم اللہ

سعادت ہے، ملے اس رہ میں جو آزار، بسم اللہ

فضاؤں میں نبیؐ کے نام کا ہی ورد ہے جاری

ہواؤں میں ہے ذکرِ احمدِؐ مختارﷺ، بسم اللہ

اگر ہے زندگانی کا کوئی مقصد، تو بس اتنا

کہ ہو آنکھوں کو دیدِ روضۂ سرکارؐ، بسم اللہ

Tuesday, 9 April 2024

سینت رکھی ہے درون ذات تنہائی بہت

 سینت رکھی ہے درونِ ذات تنہائی بہت

رنج و غم کی دل میں ہے لیکن پذیرائی بہت

زعم ہے جن سے تعلق پر تمہیں، بتلائیں کیا

تھی ہماری بھی کبھی ان سے شناسائی بہت

جان لو گے اک ذرا مشکل گھڑی آنے تو دو

دوست دنیا میں بہت کم ہیں، تماشائی بہت

Sunday, 26 November 2023

تخلیق کائنات ہی عنوان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تخلیقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے

الحمد سے ثنا کروں، یٰسین سے درود

یہ جانِ حمدِ پاک ہے، وہ جانِ نعت ہے

اُنؐ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گُزر کہاں؟

قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے

Monday, 15 August 2022

ہیں زمین و آسماں اے رحمت اللعالمین

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہیں زمین و آسماں اے رحمت اللعالمینﷺ

آپﷺ کے مدحت کناں اے رحمت اللعالمین

نام لوں میں آپؐ کا، گر نطق زم زم سے دُھلے

با وضو ہو لے زباں اے رحمت اللعالمین

ڈر ہو کیوں ہم عاصیوں کو اے شفیع المجتبیٰ

آپﷺ کا دامن اماں اے رحمت اللعالمین

Sunday, 3 July 2022

کہاں کا لطف مراسم میں گر جفا ہی نہیں

 کہاں کا لطف، مراسم میں گر جفا ہی نہیں

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں

لکھا گیا ہے مقدر میں شہرِ دل کے یہی

اجڑ گیا ہے جو اک بار، پھر بسا ہی نہیں

وہ اشک جس کو نہ دامن کوئی نصیب ہوا

وہ اشک، گوہرِ نایاب میں ڈھلا ہی نہیں

Tuesday, 18 January 2022

زندگی کیا تری آہٹ کی صدا ہو جیسے

 زندگی کیا تِری آہٹ کی صدا ہو جیسے

بندگی کیا، تِرے ملنے کی دعا ہو جیسے

کسی خوشبو سے، کسی لمس کی سرگوشی سے

دلِ وارفتہ کا دروازہ کھلا ہو جیسے

سرخ چوڑی کی کھنک چھیڑ گئی پھر ہم کو

پھر تِری یاد کا کنگن سا بجا ہو جیسے

Wednesday, 5 January 2022

مجھ پہ جو فرض ہے وہ قرض ادا ہو آمین

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مجھ پہ جو فرض ہے وہ قرض ادا ہو، آمین

میری قسمت میں محمدﷺ سے وفا ہو، آمین

نہ طلب مال کی ہو اور نہ ہوس دنیا کی

میرا دل روضۂ اقدسﷺ کا گدا ہو، آمین

جب بھی دنیا کے مصائب مجھے گھیریں آقاؐ

آپﷺ کا نام ہی بس ردِ بلا ہو، آمین

Tuesday, 24 August 2021

کمال ضبط میں یہ رکھ رکھاؤ دیکھا ہے

 کمال ضبط میں یہ رکھ رکھاؤ دیکھا ہے

جو ہم نے سینچا ہے، سرسبز گھاؤ دیکھا ہے

تھی جس میں لاگ، تمہارا لگاؤ دیکھا ہے

وہ جس کو پیار سمجھتے ہو جاؤ دیکھا ہے

جلا کے راکھ کرے گا یہ سرد مہری تِری

مِرے وجود میں جلتا الاؤ دیکھا ہے؟

Thursday, 11 March 2021

اپنی نظروں سے ہمیں وہ بھی گرا دیتے ہیں

 اپنی نظروں سے ہمیں وہ بھی گرا دیتے ہیں

اپنے دل میں جنہیں ہم اونچی جگہ دیتے ہیں

ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہیں بظاہر، لیکن

آزمائش میں وہی ہاتھ دکھا دیتے ہیں

ایسے انگارے اُگلتے ہیں کئی لوگ یہاں

بات کرتے ہوئے تن من کو جلا دیتے ہیں