عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا
منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا
لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا
دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت
ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا
منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا
لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا
دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت
ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا
مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا
جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی
نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا
وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر
نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رکھا ہے مدینے کا سفر سمتِ نظر میں
اشکوں کے خزانے ہیں مِرے زادِ سفر میں
بخشی مِرے دل کو تِری رحمت نے یہ رقت
امیدِ شفاعت ہے مِرے دیدۂ تر میں
وہ نُور تھا رُخ پر جو کرے آنکھ کو خِیرہ
ہے آپ کے جلوے کی جھلک شمس و قمر میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ زمیں، یہ آسماں اے رحمت الالعالمین
آپ کے مدحت کناں، اے رحمت ا لالعالمین
نام لوں میں آپ کا گر نطق زم زم سے دُھلے
با وضو ہو لے زباں، اے رحمت ا لالعالمین
ڈر ہو کیوں ہم عاصیوں کو اے شفیع المجتبیٰ
آپ کا دامن اماں اے رحمت ا لالعالمین
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرکارِ مدینہؐ کی وساطت پہ نظر ہے
اُس رحمت عالمؐ کی شفاعت پہ نظر ہے
پائی وہ بلندی کہ ہے افلاک کو حیرت
رفعت کی ، نبی پاکؐ کی رفعت پہ نظر ہے
بِن مانگے عطا ہوتے ہیں دنیا کے خزانے
آقاﷺ تہی داماں ہوں، عنایت پہ نظر ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہوں شرمندہ اگرچہ ہر خطا پر
بھروسہ ہے مجھے انؐ کی سخا پر
نبیؐ کے در پہ ہوں پھیلائے دامن
نظر میری ہے اُس دستِ عطا پر
ہیں جن کے واسطے افلاک کُھلتے
خدا کی مہر ہے بدرالدجیٰ پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ گنہگار پہ، سب تیری عطا ہے مالک
میری اوقات سے بڑھ کر ہی دیا ہے مالک
ہے کرم تیرا، مِرے درد کا درماں جو بنا
تیری رحمت سے ہر اک زخم سِلا ہے مالک
تیرے ہی ذکر سے مٹتا ہے ہر اک رنج مِرا
تیرا ہی نام مجھے ردِ بلا ہے مالک
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سایۂ عشقِ نبیﷺ دل پہ پڑا، اچھا لگا
ہوں محمدﷺ کے غلاموں میں، بڑا اچھا لگا
بے خودی میں بھی مِرے دل کو ہے رحمت کا پتہ
درِ آقاﷺ پہ، یہ مجذوب کھڑا اچھا لگا
شوقِ دیدار میں پلکوں پہ لرزتا ہوا اشک
اُنؐ کی چوکھٹ پہ نگینہ یہ جڑا، اچھا لگا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
راہ دکھلائے گا، خدا میرا
بس وہی تو ہے رہنما میرا
سب کی مشکل جو ٹال دیتا ہے
ہے مصیبت میں آسرا میرا
اس قدر جس نے نعمتیں بخشیں
اس کے آگے ہے سر جھکا میرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے راہ حق یہی یہی رستہ رسولﷺ کا
منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولؐ کا
اللہ نے بلند کیا ذکر آپﷺ کا
رتبہ تمام نبیوں میں اعلیٰ رسولؐ کا
لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارؐ
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسولؐ کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ مالک ہے وہی سب کا خدا ہے
سو اُس کے نام ہی سے ابتداء ہے
نگہبانی جہاں کی، اُس کو زیبا
جو سوتا ہے کبھی، نہ اُونگھتا ہے
دلوں کی سختیوں کو نرم کر کے
وہی مہر و محبت ڈالتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینے کی ڈگر ہو کتنی ہی پُر خار، بسم اللہ
سعادت ہے، ملے اس رہ میں جو آزار، بسم اللہ
فضاؤں میں نبیؐ کے نام کا ہی ورد ہے جاری
ہواؤں میں ہے ذکرِ احمدِؐ مختارﷺ، بسم اللہ
اگر ہے زندگانی کا کوئی مقصد، تو بس اتنا
کہ ہو آنکھوں کو دیدِ روضۂ سرکارؐ، بسم اللہ
سینت رکھی ہے درونِ ذات تنہائی بہت
رنج و غم کی دل میں ہے لیکن پذیرائی بہت
زعم ہے جن سے تعلق پر تمہیں، بتلائیں کیا
تھی ہماری بھی کبھی ان سے شناسائی بہت
جان لو گے اک ذرا مشکل گھڑی آنے تو دو
دوست دنیا میں بہت کم ہیں، تماشائی بہت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تخلیقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے
الحمد سے ثنا کروں، یٰسین سے درود
یہ جانِ حمدِ پاک ہے، وہ جانِ نعت ہے
اُنؐ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گُزر کہاں؟
قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہیں زمین و آسماں اے رحمت اللعالمینﷺ
آپﷺ کے مدحت کناں اے رحمت اللعالمین
نام لوں میں آپؐ کا، گر نطق زم زم سے دُھلے
با وضو ہو لے زباں اے رحمت اللعالمین
ڈر ہو کیوں ہم عاصیوں کو اے شفیع المجتبیٰ
آپﷺ کا دامن اماں اے رحمت اللعالمین
کہاں کا لطف، مراسم میں گر جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
لکھا گیا ہے مقدر میں شہرِ دل کے یہی
اجڑ گیا ہے جو اک بار، پھر بسا ہی نہیں
وہ اشک جس کو نہ دامن کوئی نصیب ہوا
وہ اشک، گوہرِ نایاب میں ڈھلا ہی نہیں
زندگی کیا تِری آہٹ کی صدا ہو جیسے
بندگی کیا، تِرے ملنے کی دعا ہو جیسے
کسی خوشبو سے، کسی لمس کی سرگوشی سے
دلِ وارفتہ کا دروازہ کھلا ہو جیسے
سرخ چوڑی کی کھنک چھیڑ گئی پھر ہم کو
پھر تِری یاد کا کنگن سا بجا ہو جیسے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مجھ پہ جو فرض ہے وہ قرض ادا ہو، آمین
میری قسمت میں محمدﷺ سے وفا ہو، آمین
نہ طلب مال کی ہو اور نہ ہوس دنیا کی
میرا دل روضۂ اقدسﷺ کا گدا ہو، آمین
جب بھی دنیا کے مصائب مجھے گھیریں آقاؐ
آپﷺ کا نام ہی بس ردِ بلا ہو، آمین
کمال ضبط میں یہ رکھ رکھاؤ دیکھا ہے
جو ہم نے سینچا ہے، سرسبز گھاؤ دیکھا ہے
تھی جس میں لاگ، تمہارا لگاؤ دیکھا ہے
وہ جس کو پیار سمجھتے ہو جاؤ دیکھا ہے
جلا کے راکھ کرے گا یہ سرد مہری تِری
مِرے وجود میں جلتا الاؤ دیکھا ہے؟
اپنی نظروں سے ہمیں وہ بھی گرا دیتے ہیں
اپنے دل میں جنہیں ہم اونچی جگہ دیتے ہیں
ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہیں بظاہر، لیکن
آزمائش میں وہی ہاتھ دکھا دیتے ہیں
ایسے انگارے اُگلتے ہیں کئی لوگ یہاں
بات کرتے ہوئے تن من کو جلا دیتے ہیں