Saturday, 5 September 2026

کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

 کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے

ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں، ہزاروں زخم کھاتا ہوں

مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے

جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں

کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے

میں اپنے گاؤں کے سب کھیت کھالے یاد رکھتا ہوں

نہ جانے شہر میں رہتے ہوئے یہ کیسی عادت ہے

ہمیں کچھ اس لیے بھی عمر بھر اب ساتھ رہنا ہے

تجھے میری ضرورت ہے مجھے تیری ضرورت ہے

زمیں پر پاؤں رکھ کر کوئی چلتا ہی نہیں ناصر

نہیں معلوم اس دنیا میں کس کو کتنی عجلت ہے


ناصر معروف

No comments:

Post a Comment