Showing posts with label عطا تراب. Show all posts
Showing posts with label عطا تراب. Show all posts

Tuesday, 26 September 2023

تنہائیوں کے دشت میں بھاگـے جو رات بھر

تنہائیوں کے دشت میں بھاگـے جو رات بھر

وہ دن کو خاک جاگے گا، جاگے جو رات بھر

فکرِ معاش نے انہیں قصہ بنـا دیا

سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر

وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا

سُلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر

Sunday, 20 February 2022

لکھو کہ دل کی بھڑاس نکلے

 قلم قبیلے کے ہاتھ شل ہیں

سخن طرازوں کو چپ لگی ہے

کہ مال و زر کو سدا غنیمت سمجھنے والی سپاہِ دہشت

دیارِ خوشبو کو سخت نرغے میں لے چکی ہے

سپاہِ دہشت کے مورچے ہیں سفید گنبد

کہ جن کے ہر اک بلند گُو سے

Tuesday, 2 March 2021

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر

 تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر

وہ دن کو خاک جاگے گا، جاگے جو رات بھر

فکرِ معاش نے انہیں قصہ بنا دیا

سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر

وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا

سُلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر

Monday, 7 November 2016

خون کی ندیا بہا دی جائے کیا

خون کی ندیا بہا دی جائے کیا
پاسِ فتویٰ میں فسادی جائے کیا
صفحۂ ہستی سے بہرِ لا الہ
سورۂ انساں مٹا دی جائے کیا
رحمة اللعالمیں کے نام پر
آیتِ مریم جلا دی جائے کیا

کیا ہم مزاج لوگ تھے جو مل نہیں رہے

اقبال و میر و غالب و بیدل نہیں رہے
کیا ہم مزاج لوگ تھے جو مل نہیں رہے
کیوں خودکشی کا سوچتے رہتے ہو رات دن
کیا کوچۂ جمال میں قاتل نہیں رہے؟
واماندگی سے خوش ہیں اذیت پسند لوگ
زخموں کو چھیلتے ہیں مگر چھِل نہیں رہے

Friday, 28 October 2016

اک حور گنگنا رہی تھی شب مرے سخن

اک حور گنگنا رہی تھی شب مِرے سخن
خود مجھ کو بھولنے لگے تھے تب مِرے سخن
ہونٹوں کے تِل کو بھول گئے سارے نکتہ چیں
ایسے نِپے تُلے تھے تِرے لب مِرے سخن
رِندوں میں دھوم تھی مِری غزلوں کی خیر سے
زاہد نے بھی اٹھا لیے ہیں اب مِرے سخن

مرے نصیب میں کب ہیں مرے خدائے سخن

مِرے نصیب میں کب ہیں مِرے خدائے سخن
وہ چند حرف جو دائم ہوں ماورائے سخن
ہے تیرے نام سے آغاز منتہائے سخن
تِری خبر جو نہیں میرے مبتدائے سخن
یہ کم نصیبی بھی کم کم نصیب ہوتی ہے
تِری تلاش میں نکلے تو ڈھونڈ لائے سخن

Friday, 1 April 2016

ابھی تو اور بھی مجھ کو عجیب ہونا ہے

ابھی تو اور بھی مجھ کو عجیب ہونا ہے
کہ اپنے درد کا خود ہی طبیب ہونا ہے
مِرا وجود مِرے گھر میں فالتو ہو گا
یہ حادثہ مِرے گھر میں عجیب ہونا ہے
کہیں کہیں مجھے کرنی ہے خود پرستی بھی
کہیں کہیں مجھے اپنا رقیب ہونا ہے

اول عشق میں جذبے جوشیلے ہوں گے

اولِ عشق میں جذبے جوشیلے ہوں گے
آخر یہ سورج بھی برفیلے ہوں گے
روپ نگر کے سانپوں کی یہ خصلت ہے
جتنے سندر،۔ اتنے زہریلے ہوں گے
میری آنکھوں سے گر بوسے ٹپکے ہیں
ہونٹ تو اس ناری کے بھی گیلے ہوں گے

چشم و دل ہی نہیں دیدار کی خواہش میں شریک

چشم و دل ہی نہیں دیدار کی خواہش میں شریک
دیکھئے موسمِ گل بھی ہے گزارش میں شریک
آج اسلوبِ محبت میں اکیلے نہیں ہم
شہر کا شہر ہے اس طرزِ نگارش میں شریک 
اب کے ساون بھی منایا ہے محرم کی طرح
چشمِ گریاں بھی رہی ہجر کی بارش میں شریک

کسی خدا کا نہ بھگوان کا پجاری ہوں

کسی خدا کا نہ بھگوان کا پجاری ہوں
میں خود پرست ہوں انسان کا پجاری ہوں
نہ روک اپنی عبادت سے اپنے گھر میں مجھے
میں میزبان ہوں، مہمان  کا پجاری ہوں
یہ اور بات کہ ممکن نہیں تمام امکان
یہ اور بات کہ امکان  کا پجاری ہوں

Monday, 7 September 2015

کب کہاں کیا مرے دلدار اٹھا لائیں گے

کب کہاں کیا مرے دلدار اٹھا لائیں گے
وصل میں بھی دل بیزار اٹھا لائیں گے
چاہئے کیا تمہیں تحفے میں، بتا دو، ورنہ
ہم تو بازار کا بازار اٹھا لائیں گے
یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بُلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے

کہیں جمال پزیری کی حد نہیں رکھتا

کہیں جمال پزیری کی حد نہیں رکھتا
میں بڑھ رہا ہوں تسلسل سے قد نہیں رکھتا
یہ قبل و بعد کے اس پار کی حکایت ہے
مِرا دوام، ازل اور ابد نہیں رکھتا
وہ ایک ہو کے بھی ہم سے گِنا نہیں جاتا
وہ ایک ہو کے بھی آگے عدد نہیں رکھتا

تراب تم بھی عجیب مشکل سے آدمی ہو

تراب تم بھی عجیب مُشکل سے آدمی ہو
کہ، کوئی کتنا ہی خوبصورت ہو
کوئی کتنا ہی دلربا ہو
کہ، کوئی چاہے ہزار جانیں
تمہارے دل پر کرے نِچھاور
پر ایک مدت سے بڑھ کے تم نے

نمو پزیر ہوں ہر دم کہ مجھ میں دم ہے ابھی

نمو پزیر ہوں ہر دم کہ مجھ میں دم ہے ابھی
مرا مقام ہے جو بھی وہ مجھ سے کم ہے ابھی
تراش اور بھی اپنے تصوّرِ رب کو
ترے خدا سے تو بہتر مرا صنم ہے ابھی
نہیں ہے غیر کی تسبیح کا کوئی امکاں
مرے لبوں پہ تو ذکرِ منم منم ہے ابھی

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر
وہ دن کو خاک جاگے گا، جاگے جو رات بھر
فکرِ معاش نے انہیں قِصہ بنا دیا 
سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر
وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا 
سلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر

Wednesday, 1 January 2014

جو ہوا یار وہ ہونا تو نہیں چاہیے تھا

جو ہُوا یار! وہ ہونا تو نہیں چاہیے تھا
خوب کہتے ہو کہ رونا تو نہیں چاہیے تھا
اے خدا! ایک خدا لگتی کہے دیتے ہیں
تُو ہے جیسا، تجھے ہونا تو نہیں چاہیے تھا
کیوں دھڑکتی ہُوئی مخلوق سسکتی ہی رہے
بے نیازی کو کھلونا تو نہیں چاہیے تھا

اک ان کہی سی بجھارت ہے کیا کیا جائے

اِک ان کہی سی بُجھارت ہے کیا کِیا جائے
پھر اس کا حل بھی شرارت ہے کیا کِیا جائے
کبھی کتاب کی صورت اسے پڑھا، تو کُھلا
وہ حرف حرف عبارت ہے کیا کِیا جائے
بنے بغیر تو ہم ٹُوٹ بھی نہیں سکتے
کھنڈر سے پہلے عمارت ہے کیا کِیا جائے

Tuesday, 10 July 2012

اس کے لبوں پہ رات کہانی غضب کی تھی

اس کے لبوں پہ رات کہانی غضب کی تھی
جذبات بہہ رہے تھے، روانی غضب کی تھی
راجا بھی لاجواب تھا صحرائے عشق کا
لیکن دیارِ حسن کی رانی غضب کی تھی
دیکھی ہیں شہر بھر میں بڑی کافر جوانیاں
لیکن جو اُس پہ آئی جوانی غضب کی تھی