تنہائیوں کے دشت میں بھاگـے جو رات بھر
وہ دن کو خاک جاگے گا، جاگے جو رات بھر
فکرِ معاش نے انہیں قصہ بنـا دیا
سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر
وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا
سُلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر
تنہائیوں کے دشت میں بھاگـے جو رات بھر
وہ دن کو خاک جاگے گا، جاگے جو رات بھر
فکرِ معاش نے انہیں قصہ بنـا دیا
سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر
وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا
سُلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر
قلم قبیلے کے ہاتھ شل ہیں
سخن طرازوں کو چپ لگی ہے
کہ مال و زر کو سدا غنیمت سمجھنے والی سپاہِ دہشت
دیارِ خوشبو کو سخت نرغے میں لے چکی ہے
سپاہِ دہشت کے مورچے ہیں سفید گنبد
کہ جن کے ہر اک بلند گُو سے
تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر
وہ دن کو خاک جاگے گا، جاگے جو رات بھر
فکرِ معاش نے انہیں قصہ بنا دیا
سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر
وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا
سُلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر