Showing posts with label انور سدید. Show all posts
Showing posts with label انور سدید. Show all posts

Tuesday, 25 April 2023

دیوار پر لکھا نہ پڑھو اور خوش رہو

دیوار پر لکھا نہ پڑھو اور خوش رہو

کہتا ہے جو گجر نہ سنو اور خوش رہو

اپنائیت کا خواب تو دیکھو تمام عمر

بے گانگی کا زہر پیو اور خوش رہو

کانٹے جو دوستوں نے بکھیرے ہیں راہ میں

پلکوں سے اپنی آپ چنو اور خوش رہو

Thursday, 14 April 2022

اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی

 اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی

جلتی رکھتا ہے قندیل مرادوں والی

ویرانے پر بن برسا اک بادل ہوں میں

بوجھل آنکھیں اور صورت ناشادوں والی

پنکھ ہلا کر شام گئی ہے اس آنگن سے

اب اترے گی رات انوکھی یادوں والی

Tuesday, 5 April 2022

یہ خواہش ہے اک بے حاشیہ تصویر کھینچوں

 یہ خواہش ہے

کہ میں گیلی زمیں پر

اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے

اک بے حاشیہ تصویر کھینچوں

جو مِرے محبوب کے چہرے کے 

تجریدی تصور سے مزین ہو

Thursday, 10 March 2022

حد نظر سے مرا آسماں ہے پوشیدہ

 حدِ نظر سے مِرا آسماں ہے پوشیدہ

خیال و خواب میں لپٹا جہاں ہے پوشیدہ

چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم

یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ

پلک پہ آ کے ستارے نے داستاں کہہ دی

جو دل میں آگ ہے اس کا دھواں ہے پوشیدہ

Wednesday, 8 September 2021

تو بھی کر غور اس کہانی پر

 تُو بھی کر غور اس کہانی پر

جو لکھی جا رہی ہے پانی پر

یہ زمیں زر اُگائے گی اک دن

رکھ یقیں اپنی کلبہ رانی پر

اس کی بے محوری پہ غور نہ کر

رحم کھا اس کی بے زبانی پر

Tuesday, 2 January 2018

اس کی انا کے بت کو بڑا کر کے دیکھتے

اس کی انا کے بت کو بڑا کر کے دیکھتے 
مٹی کے آدمی کو خدا کر کے دیکھتے 
مایوسیوں میں یوں ہی تمنا اجاڑ دی 
اٹھے ہوئے تھے ہاتھ دعا کر کے دیکھتے 
دشمن کی چاپ سن کے نہ خاموش بیٹھتے 
جو فرض تم پہ تھا وہ ادا کر کے دیکھتے 

تلاش جس کو میں کرتا پھرا خرابوں میں

تلاش جس کو میں کرتا پھرا خرابوں میں 
ملا وہ شخص مجھے رات میرے خوابوں میں 
میں اس کو غرفۂ دل میں بھلا چھپاؤں کیا 
جو لفظ لفظ ہے بکھرا ہوا کتابوں میں 
دم وصال تِری آنچ اس طرح آئی 
کہ جیسے آگ سلگنے لگے گلابوں میں 

کون پوچھے گا بھلا تجھ کو یہاں انور سدید

کون پوچھے گا بھلا تجھ کو یہاں انور سدید
اپنے کاندھے پر اٹھا بار گراں، انور سدید
ڈھونڈ اپنا آشیانہ آسمانوں سے پرے
یہ زمیں تو ہو گئی نامہرباں انور سدید
خود ہی رو لے دیکھ کر اہلِ جہاں کی بے رخی
اور خود ہی پونچھ لے اشکِ رواں انور سدید

Monday, 25 December 2017

تو جسم ہے تو مجھ سے لپٹ کر کلام کر

تُو جسم ہے تو مجھ سے لپٹ کر کلام کر 
خوشبو ہے گر تو دل میں سمٹ کر کلام کر 
میں اجنبی نہیں ہوں مجھے روند کر نہ جا 
نظریں ملا کے دیکھ، پلٹ کر کلام کر 
بالائے بام آنے کا گر حوصلہ نہیں 
پلکوں کی چلمنوں میں سمٹ کر کلام کر 

سانسوں میں مل گئی تری سانسوں کی باس تھی

سانسوں میں مل گئی تِری سانسوں کی باس تھی 
بہکی ہوئی نظر تھی کہ پھر بھی اداس تھی 
بے شک شکستِ دل پہ وہ مبہوت رہ گیا 
لیکن شکستِ دل میں بھی زندہ اک آس تھی 
گر تو مِرے حواس پہ چھایا ہوا نہ تھا 
ہستی وہ کون تھی جو مِرے دل کے پاس تھی 

میں نے جو آج کھائے ہیں غالب پسند آم

غالب پسند آم

میں نے جو آج کھائے ہیں غالب پسند آم
مجھ کو پسند آئے ہیں غالب پسند آم
طبع رواں کے واسطے مصرعہ طرح ہیں یہ
پیغامِ شعر لائے ہیں غالب پسند آم
فکرِ جواں کو جیسے ایک مہمیز مل گئی
شاعر کو اتنے بھائے ہیں غالب پسند آم

Monday, 21 March 2016

مجھ سے بیگانہ رہا کرتی تھی شب بھر چاندنی

مجھ سے بیگانہ رہا کرتی تھی شب بھر چاندنی
ہو گئی اب تو میرے غم کی خوگر چاندنی
تن دریدہ تیرگی کو ڈھانپنے کے واسطے
لے کے آئی ہے نئی کرنوں کی چادر چاندنی
میں اندھیرے میں چلا تھا جانبِ منزل، مگر
چلتے چلتے بن گئی رستے میں رہبر چاندنی

آرزو نے جس کے پوروں سے تھا سہلایا مجھے

آرزو نے جس کے پوروں سے تھا سہلایا مجھے
راکھ آخر کر گیا اس چاند کا سایہ مجھے
گھپ اندھیرے میں اس کا جسم تھا چاندی کا شہر
 چاند جب نکلا عجب منظر نظر آیا مجھے
آنکھ پر تنکوں کی چلمن، ہونٹ پر لوہے کا قفل
تُو دلِ بے خانماں! کس گھر میں لے آیا مجھے

Friday, 25 December 2015

دشمن تو میرے تن سے لہو چوستا رہا

دشمن تو میرے تن سے لہو چوستا رہا 
میں دم بخود کھڑا ہی اسے دیکھتا رہا 
جو پھول جھڑ گئے تھے جو آنسو بکھر گئے ​
خاکِ چمن سے ان کا پتا پوچھتا رہا ​
میں پار کر چکا تھا ہزیمت کی منزلیں ​
ہر چند دشمنوں کے برابر کھڑا رہا ​

ہر سمت سمندر ہے ہر سمت رواں پانی

ہر سمت سمندر ہے ہر سمت رواں پانی 
چھاگل ہے مِری خالی سوچو ہے کہاں پانی
بارش نہ اگر کرتی دریا میں رواں پانی
بازار میں بکنے کو آ جاتا گراں پانی 
خود رو ہے اگر چشمہ آئے گا مِری جانب
میں بھی وہیں بیٹھا ہوں مرتا ہے جہاں پانی