دیوار پر لکھا نہ پڑھو اور خوش رہو
کہتا ہے جو گجر نہ سنو اور خوش رہو
اپنائیت کا خواب تو دیکھو تمام عمر
بے گانگی کا زہر پیو اور خوش رہو
کانٹے جو دوستوں نے بکھیرے ہیں راہ میں
پلکوں سے اپنی آپ چنو اور خوش رہو
دیوار پر لکھا نہ پڑھو اور خوش رہو
کہتا ہے جو گجر نہ سنو اور خوش رہو
اپنائیت کا خواب تو دیکھو تمام عمر
بے گانگی کا زہر پیو اور خوش رہو
کانٹے جو دوستوں نے بکھیرے ہیں راہ میں
پلکوں سے اپنی آپ چنو اور خوش رہو
اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی
جلتی رکھتا ہے قندیل مرادوں والی
ویرانے پر بن برسا اک بادل ہوں میں
بوجھل آنکھیں اور صورت ناشادوں والی
پنکھ ہلا کر شام گئی ہے اس آنگن سے
اب اترے گی رات انوکھی یادوں والی
یہ خواہش ہے
کہ میں گیلی زمیں پر
اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے
اک بے حاشیہ تصویر کھینچوں
جو مِرے محبوب کے چہرے کے
تجریدی تصور سے مزین ہو
حدِ نظر سے مِرا آسماں ہے پوشیدہ
خیال و خواب میں لپٹا جہاں ہے پوشیدہ
چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم
یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ
پلک پہ آ کے ستارے نے داستاں کہہ دی
جو دل میں آگ ہے اس کا دھواں ہے پوشیدہ
تُو بھی کر غور اس کہانی پر
جو لکھی جا رہی ہے پانی پر
یہ زمیں زر اُگائے گی اک دن
رکھ یقیں اپنی کلبہ رانی پر
اس کی بے محوری پہ غور نہ کر
رحم کھا اس کی بے زبانی پر