Showing posts with label ہائنرش ہائنے. Show all posts
Showing posts with label ہائنرش ہائنے. Show all posts

Wednesday, 14 July 2021

مجھے تم سے محبت ہے

 مجھے تم سے محبت ہے


سالہا سال آتے جاتے رہے

مرد و زن اترتے رہے قبروں میں اپنی

مگر وہ محبت کبھی ختم ہو نہ سکی

جو دل میں لیے پھرتا ہوں میں تمہارے لیے

میں ملنا چاہتا ہوں پھر، اک آخری بار صرف

فلک پہ سورج چاند اور ستارے سبھی ہیں شاہد خدا کی عظمت کے

 فلک پہ سورج، چاند اور ستارے

(ہائنرش ہائنے کی ایک طویل جرمن نظم سے اقتباس)


فلک پہ سورج، چاند اور ستارے

سبھی ہیں شاہد خدا کی عظمت کے

دیکھتے ہیں جنہیں نیک بندے آنکھیں اٹھا کر

پھر ثنا خوانی کرتے ہیں خالق کی تخلیق کی

وہ شاہکار سارے جو مالک نے خود ہیں بنائے

یہی تو غم ہے جو رفیق شب ہے مستقل

غم ہے جو رفیقِ شب ہے


صبح جاگتا ہوں اور خود سے پوچھتا ہوں میں

آج تو آئے گا مِرا وہ محبوب دلربا؟

شام کو غم میں ڈوب کے سسکیاں نکلتی ہیں

آج بھی نہ آیا وہ جس کا انتظار تھا

یہی تو غم ہے جو رفیقِ شب ہے مستقل

میری میٹھی محبت جب قبر میں تو تاریک قبر میں لیٹی ہو گی

(Mein süßes Lieb) میری میٹھی محبت 


میری میٹھی محبت، جب قبر میں تُو

تاریک قبر میں لیٹی ہو گی

میں اُسی قبر میں تِری قُربت کے لیے اُتروں گا

اور لوں گا تمہیں آغوش میں اپنی

چُوموں گا تمہیں کھینچ کے، گلے بھی ملوں گا

Sunday, 11 July 2021

رخ جاناں کا عکس اور خواہش بہار کی

 رخِ جاناں کا عکس


پڑے برف باہر جتنی بھی پڑتی رہے

ژالہ باری ہو، طوفاں بھی آتے رہیں

یہ سب کھڑکیوں پہ بھلے سر پٹختے رہیں

مجھے کوئی شکایت نہیں ہے کہ میں

لیے پھرتا ہوں اپنے سینے میں