دعائیں دو کہ جب بچے بڑے ہوں
تو ان کی سوچ اور سپنے بڑے ہوں
کسی دن کم پڑے جو دن کی وحشت
تو دشتِ شب کے اندیشے بڑے ہوں
ضروری تو نہیں اس کی نظر میں
جو مہنگے ہوں وہی تحفے بڑے ہوں
دعائیں دو کہ جب بچے بڑے ہوں
تو ان کی سوچ اور سپنے بڑے ہوں
کسی دن کم پڑے جو دن کی وحشت
تو دشتِ شب کے اندیشے بڑے ہوں
ضروری تو نہیں اس کی نظر میں
جو مہنگے ہوں وہی تحفے بڑے ہوں
جو تھا اک خواب بچپن کا اسے تعبیرنے میں
میں بوڑھا ہو گیا چھوٹا سا گھر تعمیرنے میں
وہ اپنے زعم میں خود کو خدا سمجھے ہوئے تھا
مزہ آیا مجھے اس کی انا تسخیرنے میں
بس اس نے کُن کہا اور ہو گئی تخلیق دنیا
ہمیں صدیاں لگیں اک حرف کو تحریرنے میں
کسی جنگل میں جا کر قافلہ گم ہو گیا ہے
یہاں سے واپسی کا راستہ گم ہو گیا ہے
وہ جس رسی کو ہم نے تھامنا تھا، کاٹ ڈالا
عقیدوں کے تصادم میں خدا گم ہو گیا ہے
اسے ملنے کی خاطر جس سے تس سے مل رہے ہیں
جسے ملنا تھا اس کا ہی پتہ گم ہو گیا ہے
تمہاری کیا، کسی کی یاد اب آتی نہیں ہے
تھکن سے چُور ہوں،۔ آرام کرنا چاہتا ہوں
میں سب سے چھپ کے کہیں شام کرنا چاہتا ہوں
تجھے قبول اگر ہو تو میری وحشتِ جاں
میں ساری عمر تِرے نام کرنا چاہتا ہوں
مِرا سکوت زمانے کے بعد ٹوٹا ہے
میں سارے شہر میں کہرام کرنا چاہتا ہوں
جس کو دیکھو وہی بیکار میں الجھا ہوا ہے
ہر گریبان کسی تار میں الجھا ہوا ہے
دشت بے چین ہے وحشت کی پذیرائی کو
دل وحشی در و دیوار میں الجھا ہوا ہے
جنگ دستک لیے آ پہنچی ہے دروازے تک
شاہزادہ لب و رخسار میں الجھا ہوا ہے
تن میں جاں، جاں سے جدا بھی کچھ ہے
مرشدی! تجھ سے چھپا بھی کچھ ہے
اس تعلق کی نزاکت کو سمجھ
جو تِرا ہے وہ مِرا بھی کچھ ہے
گنبدِ ذات سے باہر تو نکل
پھر بتا، تیری صدا بھی کچھ ہے
بڑا عجیب تھا اس کا وِداع ہونا بھی
نہ ہو سکا میرا اس سے لپٹ کے رونا بھی
نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اب نہ بیداری
تِرے سبب تھا میرا جاگنا بھی سونا بھی
تیرے فقیر کو اتنی سی جا بھی کافی ہے
جو تیرے دِل میں نکل آئے ایک کونا بھی
بلا سے کوئی کہے دن کو رات چُپ رہنا
تم اپنے ہونٹوں پہ رکھ لینا ہات چپ رہنا
کہیں پہ کچھ بھی نظر آئے پوچھنا مت کچھ
کبھی نکلنا اگر میرے ساتھ چپ رہنا
خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو
پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا
گھر کی رنجش سرِ بازار نکل آتی ہے
بات ہی بات میں تلوار نکل آتی ہے
روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا
روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے
رات کے پنچھی ادھر ڈھونڈھنے آتے ہیں پناہ
دھوپ جب جھیل کے اس پار نکل آتی ہے
حور ہو یا پری، نہیں چلے گی
کہہ دیا نا کوئی نہیں چلے گی
تُو مجھے چاہئے، مجھے بس تُو
دوسری، تیسری نہیں چلے گی
اب تو صحرا بھی ٹوکنے لگا ہے
اتنی وحشت تِری نہیں چلے گی
نقوشِ رفتہ خجل ہو کے ڈھونڈتا رہا میں
کل آئینے میں بہت دیر بُت بنا رہا میں
نہ جانے کس کی توجہ کی آبیاری تھی
خزاں برستی رہی اور ہرا بھرا رہا میں
نکل گئی تھی مِری روح لمبے سیر کو اور
بدن میں اپنے کئی دن مَرا پڑا رہا میں
زوال صبح ہوں تحریر کر لے
مِری بے چارگی تصویر کر لے
جو میرے ساتھ دم گھُٹتا ہے تیرا
الگ اپنا جہاں تعمیر کر لے
میں سچ ہوں جگ اجاگر ہی رہوں گا
تُو اپنے جھوٹ کی تشہیر کر لے
کسی جنگل میں جا کر قافلہ گُم ہو گیا ہے
یہاں سے واپسی کا راستہ گم ہو گیا ہے
وہ جس رسی کو ہم نے تھامنا تھا کاٹ ڈالا
عقیدوں کے تصادم میں خُدا گم ہو گیا ہے
اسے ملنے کی خاطر جس سے تس سے مل رہے ہیں
جسے ملنا تھا اس کا ہی پتہ گم ہو گیا ہے
تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا
خوش ہوں کہ میرا عشق تماشہ نہیں بنا
کچھ ایسے اس نے مٹی ہماری خراب کی
پھر اس کے بعد کچھ بھی ہمارا نہیں بنا
ذرے تمام دیکھے گئے تھے ہواؤں میں
اس دن کے بعد کوئی ستارہ نہیں بنا