Showing posts with label خورشید طلب. Show all posts
Showing posts with label خورشید طلب. Show all posts

Thursday, 22 December 2022

دعائیں دو کہ جب بچے بڑے ہوں

 دعائیں دو کہ جب بچے بڑے ہوں

تو ان کی سوچ اور سپنے بڑے ہوں

کسی دن کم پڑے جو دن کی وحشت

تو دشتِ شب کے اندیشے بڑے ہوں

ضروری تو نہیں اس کی نظر میں

جو مہنگے ہوں وہی تحفے بڑے ہوں

Thursday, 1 December 2022

جو تھا اک خواب بچپن کا اسے تعبیرنے میں

 جو تھا اک خواب بچپن کا اسے تعبیرنے میں

میں بوڑھا ہو گیا چھوٹا سا گھر تعمیرنے میں

وہ اپنے زعم میں خود کو خدا سمجھے ہوئے تھا

مزہ آیا مجھے اس کی انا تسخیرنے میں

بس اس نے کُن کہا اور ہو گئی تخلیق دنیا

ہمیں صدیاں لگیں اک حرف کو تحریرنے میں

Thursday, 10 November 2022

کسی جنگل میں جا کر قافلہ گم ہو گیا ہے

 کسی  جنگل میں جا کر قافلہ گم ہو گیا ہے

یہاں سے واپسی کا راستہ گم ہو گیا ہے

وہ جس رسی کو ہم نے تھامنا تھا، کاٹ ڈالا

عقیدوں کے تصادم میں خدا گم ہو گیا ہے

اسے ملنے کی خاطر جس سے تس سے مل رہے ہیں

جسے ملنا تھا اس کا ہی پتہ گم ہو گیا ہے

تمہاری کیا، کسی کی یاد اب آتی نہیں ہے

Friday, 25 February 2022

تھکن سے چور ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں

 تھکن سے چُور ہوں،۔ آرام کرنا چاہتا ہوں

میں سب سے چھپ کے کہیں شام کرنا چاہتا ہوں

تجھے قبول اگر ہو تو میری وحشتِ جاں

میں ساری عمر تِرے نام کرنا چاہتا ہوں

مِرا سکوت زمانے کے بعد ٹوٹا ہے

میں سارے شہر میں کہرام کرنا چاہتا ہوں

Tuesday, 8 February 2022

جس کو دیکھو وہی بیکار میں الجھا ہوا ہے

 جس کو دیکھو وہی بیکار میں الجھا ہوا ہے

ہر گریبان کسی تار میں الجھا ہوا ہے

دشت بے چین ہے وحشت کی پذیرائی کو

دل وحشی در و دیوار میں الجھا ہوا ہے

جنگ دستک لیے آ پہنچی ہے دروازے تک

شاہزادہ لب و رخسار میں الجھا ہوا ہے

Monday, 24 January 2022

تن میں جاں جاں سے جدا بھی کچھ ہے

 تن میں جاں، جاں سے جدا بھی کچھ ہے

مرشدی! تجھ سے چھپا بھی کچھ ہے

اس تعلق کی نزاکت کو سمجھ

جو تِرا ہے وہ مِرا بھی کچھ ہے

گنبدِ ذات سے باہر تو نکل

پھر بتا، تیری صدا بھی کچھ ہے

Saturday, 19 June 2021

بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

 بڑا عجیب تھا اس کا وِداع ہونا بھی

نہ ہو سکا میرا اس سے لپٹ کے رونا بھی

نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اب نہ بیداری

تِرے سبب تھا میرا جاگنا بھی سونا بھی

تیرے فقیر کو اتنی سی جا بھی کافی ہے

جو تیرے دِل میں نکل آئے ایک کونا بھی

Saturday, 24 April 2021

بلا سے کوئی کہے دن کو رات چپ رہنا

 بلا سے کوئی کہے دن کو رات چُپ رہنا

تم اپنے ہونٹوں پہ رکھ لینا ہات چپ رہنا

کہیں پہ کچھ بھی نظر آئے پوچھنا مت کچھ

کبھی نکلنا اگر میرے ساتھ چپ رہنا

خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو

پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا

Saturday, 3 April 2021

گھر کی رنجش سر بازار نکل آتی ہے

 گھر کی رنجش سرِ بازار نکل آتی ہے

بات ہی بات میں تلوار نکل آتی ہے

روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا

روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے

رات کے پنچھی ادھر ڈھونڈھنے آتے ہیں پناہ

دھوپ جب جھیل کے اس پار نکل آتی ہے

حور ہو یا پری نہیں چلے گی

 حور ہو یا پری، نہیں چلے گی

کہہ دیا نا کوئی نہیں چلے گی

تُو مجھے چاہئے، مجھے بس تُو

دوسری، تیسری نہیں چلے گی

اب تو صحرا بھی ٹوکنے لگا ہے

اتنی وحشت تِری نہیں چلے گی

Friday, 2 April 2021

نقوش رفتہ خجل ہو کے ڈھونڈتا رہا میں

 نقوشِ رفتہ خجل ہو کے ڈھونڈتا رہا میں

کل آئینے میں بہت دیر بُت بنا رہا میں

نہ جانے کس کی توجہ کی آبیاری تھی

خزاں برستی رہی اور ہرا بھرا رہا میں

نکل گئی تھی مِری روح لمبے سیر کو اور

بدن میں اپنے کئی دن مَرا پڑا رہا میں

زوال صبح ہوں تحریر کر لے

 زوال صبح ہوں تحریر کر لے

مِری بے چارگی تصویر کر لے

جو میرے ساتھ دم گھُٹتا ہے تیرا

الگ اپنا جہاں تعمیر کر لے

میں سچ ہوں جگ اجاگر ہی رہوں گا

تُو اپنے جھوٹ کی تشہیر کر لے

Thursday, 1 April 2021

کسی جنگل میں جا کر قافلہ گم ہو گیا ہے

 کسی جنگل میں جا کر قافلہ گُم ہو گیا ہے

یہاں سے واپسی کا راستہ گم ہو گیا ہے

وہ جس رسی کو ہم نے تھامنا تھا کاٹ ڈالا

عقیدوں کے تصادم میں خُدا گم ہو گیا ہے

اسے ملنے کی خاطر جس سے تس سے مل رہے ہیں

جسے ملنا تھا اس کا ہی پتہ گم ہو گیا ہے

تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا

 تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا

خوش ہوں کہ میرا عشق تماشہ نہیں بنا

کچھ ایسے اس نے مٹی ہماری خراب کی

پھر اس کے بعد کچھ بھی ہمارا نہیں بنا

ذرے تمام دیکھے گئے تھے ہواؤں میں

اس دن کے بعد کوئی ستارہ نہیں بنا