حقیر کہتا ہے خود تِری جناب میں چاند
جسے یقیں نہ ہو رکھ لے تِرے جواب میں چاند
میں چاند کیسے کہوں مہرِ نیم روز ہو تم
کئی ہزار بنیں گے اک آفتاب میں چاند
تمہارا وصف ہے مذکور جن کتابوں میں
یام کرتا ہے ان کے ہر ایک باب میں چاند
حقیر کہتا ہے خود تِری جناب میں چاند
جسے یقیں نہ ہو رکھ لے تِرے جواب میں چاند
میں چاند کیسے کہوں مہرِ نیم روز ہو تم
کئی ہزار بنیں گے اک آفتاب میں چاند
تمہارا وصف ہے مذکور جن کتابوں میں
یام کرتا ہے ان کے ہر ایک باب میں چاند
عبادتوں میں حرِیف و حلِیف کون کرے
حرم میں فرقِ خبِیث و شرِیف کون کرے
محال ہو گیا مذہب کا سچ بیاں کرنا
کروڑوں لوگوں کو اپنا حرِیف کون کرے
ہر اک پاس دلیلیں ہیں اپنے مسلک کی
اب اتنے ٹھوس دلائل نحِیف کون کرے
ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں
آ، تجھے واقفِ قند اور نمک کرتے ہیں
آؤ، چلتے ہیں جہاں سازشِ احباب نہ ہو
دشمنی کا یہ سفر دوستی تک کرتے ہیں
وہ جو انسان کے ہی بس میں ہے اس پر انساں
جانے کس منہ سے شکایاتِ فلک کرتے ہیں
حسن ہے مغرور دل سودائی ہے
عشق اور نفرت میں ہاتھا پائی ہے
دھڑکنوں میں کر دیا پیدا فساد
ہر ادا میں تیری اک بلوائی ہے
ہم نے خود دیکھی ہے دستِ غیر میں
تیری تو تصویر بھی ہرجائی ہے
حیات کیا ہے یہ جانا بُرے حوالوں سے
رہا ہے واسطہ اپنا تباہ حالوں سے
کبھی تو یوں بھی ہوا جگنوؤں کے پاؤں پڑے
ہوئے ہیں خوار بہت رُوٹھ کر اجالوں سے
مزا تو جب ہے مخالف سے دوستی ٹھہرے
یہ کیا کہ دُشمنی رکھتے ہو ہمخیالوں سے
شب بے ماہ بھی اس کی نہیں کالی ہو گی
جس نے کترن بھی تِرے نور کی پا لی ہو گی
لوگ کہتے ہیں کوئی تجھ سا حسیں اور بھی ہے
میں یہ کہتا ہوں؛ کہ یہ بات خیالی ہو گی
اس نے بھی مجھ کو یہی سوچ کے ڈھونڈا نہ کبھی
میں نے اب تک تو نئی دنیا بسا لی ہو گی
قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹُوٹ جاتی ہے
کوئی اُمید جب بر آتی آتی ٹوٹ جاتی ہے
دریچے بند ذہنوں کے نہیں کُھلتے ہیں طاقت سے
لگا ہو زنگ تالے میں، تو چابی ٹوٹ جاتی ہے
تِری اُلفت میں ایسا حال ہے جیسے کوئی مچھلی
نِگل لیتی ہے کانٹا اور لگی ٹوٹ جاتی ہے
جدھر کے ہو ادھر کے ہو رہو دل سے تو بہتر ہے
کہ لوٹا بے تلی کا ہو تو ٹونٹی ٹوٹ جاتی ہے
اکڑ کر بولنے والے نہ ہو گر تان آٹے میں
توّے سے قبل ہی ہاتھوں میں روٹی ٹوٹ جاتی ہے
چوّنی کے نہ تڑوانے پہ ہم سے رُوٹھنے والے
کہاں ہے تُو کہ آ اب سو کی گڈی ٹوٹ جاتی ہے
منان بجنوری
پھول کو خار سے نوکیلا بنا دیتے ہیں
وسوسے رشتوں کی بنیاد ہلا دیتے ہیں
غمزدہ دیکھ کے مایوس نہ ہو بذلہ سنج
دل دکھا ہو تو لطیفے بھی رُلا دیتے ہیں
سرخ ذروں میں بدل دیتی ہے اشکوں کی تڑپ
بعض غم جینے کے انداز سِکھا دیتے ہیں