Showing posts with label منان بجنوری. Show all posts
Showing posts with label منان بجنوری. Show all posts

Friday, 23 August 2024

حقیر کہتا ہے خود تری جناب میں چاند

حقیر کہتا ہے خود تِری جناب میں چاند

جسے یقیں نہ ہو رکھ لے تِرے جواب میں چاند

میں چاند کیسے کہوں مہرِ نیم روز ہو تم

کئی ہزار بنیں گے اک آفتاب میں چاند

تمہارا وصف ہے مذکور جن کتابوں میں 

یام کرتا ہے ان کے ہر ایک باب میں چاند 

Friday, 19 July 2024

عبادتوں میں حریف و حلیف کون کرے

 عبادتوں میں حرِیف و حلِیف کون کرے

حرم میں فرقِ خبِیث و شرِیف کون کرے

محال ہو گیا مذہب کا سچ بیاں کرنا

کروڑوں لوگوں کو اپنا حرِیف کون کرے

ہر اک پاس دلیلیں ہیں اپنے مسلک کی

اب اتنے ٹھوس دلائل نحِیف کون کرے

Wednesday, 19 October 2022

ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں

 ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں

آ، تجھے واقفِ قند اور نمک کرتے ہیں

آؤ، چلتے ہیں جہاں سازشِ احباب نہ ہو

دشمنی کا یہ سفر دوستی تک کرتے ہیں

وہ جو انسان کے ہی بس میں ہے اس پر انساں

جانے کس منہ سے شکایاتِ فلک کرتے ہیں

Thursday, 13 October 2022

حسن ہے مغرور دل سودائی ہے

 حسن ہے مغرور دل سودائی ہے

عشق اور نفرت میں ہاتھا پائی ہے

دھڑکنوں میں کر دیا پیدا فساد

ہر ادا میں تیری اک بلوائی ہے

ہم نے خود دیکھی ہے دستِ غیر میں

تیری تو تصویر بھی ہرجائی ہے

Wednesday, 17 November 2021

حیات کیا ہے یہ جانا برے حوالوں سے

حیات کیا ہے یہ جانا بُرے حوالوں سے

رہا ہے واسطہ اپنا تباہ حالوں سے

کبھی تو یوں بھی ہوا جگنوؤں کے پاؤں پڑے

ہوئے ہیں خوار بہت رُوٹھ کر اجالوں سے

مزا تو جب ہے مخالف سے دوستی ٹھہرے

یہ کیا کہ دُشمنی رکھتے ہو ہمخیالوں سے

Thursday, 5 August 2021

شب بے ماہ بھی اس کی نہیں کالی ہو گی

شب بے ماہ بھی اس کی نہیں کالی ہو گی

جس نے کترن بھی تِرے نور کی پا لی ہو گی

لوگ کہتے ہیں کوئی تجھ سا حسیں اور بھی ہے

میں یہ کہتا ہوں؛ کہ یہ بات خیالی ہو گی

اس نے بھی مجھ کو یہی سوچ کے ڈھونڈا نہ کبھی

میں نے اب تک تو نئی دنیا بسا لی ہو گی

Saturday, 5 June 2021

قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے

قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹُوٹ جاتی ہے

کوئی اُمید جب بر آتی آتی ٹوٹ جاتی ہے

دریچے بند ذہنوں کے نہیں کُھلتے ہیں طاقت سے

لگا ہو زنگ تالے میں، تو چابی ٹوٹ جاتی ہے

تِری اُلفت میں ایسا حال ہے جیسے کوئی مچھلی

نِگل لیتی ہے کانٹا اور لگی ٹوٹ جاتی ہے

جدھر کے ہو ادھر کے ہو رہو دل سے تو بہتر ہے

کہ لوٹا بے تلی کا ہو تو ٹونٹی ٹوٹ جاتی ہے

اکڑ کر بولنے والے نہ ہو گر تان آٹے میں

توّے سے قبل ہی ہاتھوں میں روٹی ٹوٹ جاتی ہے

چوّنی کے نہ تڑوانے پہ ہم سے رُوٹھنے والے

کہاں ہے تُو کہ آ اب سو کی گڈی ٹوٹ جاتی ہے


منان بجنوری

Sunday, 24 April 2016

پھول کو خار سے نوکیلا بنا دیتے ہیں

 پھول کو خار سے نوکیلا بنا دیتے ہیں 

وسوسے رشتوں کی بنیاد ہلا دیتے ہیں 

غمزدہ دیکھ کے مایوس نہ ہو بذلہ سنج

دل دکھا ہو تو لطیفے بھی رُلا دیتے ہیں 

سرخ ذروں میں بدل دیتی ہے اشکوں کی تڑپ 

بعض غم جینے کے انداز سِکھا دیتے ہیں