Showing posts with label ظہیر پراچہ. Show all posts
Showing posts with label ظہیر پراچہ. Show all posts

Friday, 7 October 2016

ذرا زور سے بولو کلمہٴ شہادت

ذرا زور سے بولو؛ کلمہٴ شہادت

ہمارے ماتھوں پر سجدے
عقل پر مہریں
آنکھوں میں خون
زبان پر تضاد
نیفے میں وَٹوانی
جیبوں میں ریال، دینار اور ڈالر

نیا دور نئے تقاضے

نیا دور نئے تقاضے

انصاف جب بولے زیادہ اور نظر کم آۓ تو
فیصلے آگ سے لکھے جائیں گے
داد رسی جلتے جسموں کی سڑاند کرے گی
دھواں انہیں نشر کرے گا
اور کیمرے کی آنکھ انہیں محفوظ کرے گی

قلم سے سر قلم تک

قلم سے سر قلم تک

کہتی تھی قلم سے سر کرے گی
جھلی کہیں کی
اسے کیا پتہ سر قلم کرنا کہیں آسان ہے
قلم کو سر کرنے سے

ظہیر پراچہ

کہانی درد کی لکھی نہیں جاتی

کہانی درد کی لکھی نہیں جاتی

مجھے وہ درد لکھنا تھا
جو ضد کے ضد سے ٹکرانے سے
میرے جسم و جاں سے اٹھ رہا ہے
مِری آنکھوں سے بہتی سسکیاں
دھندلائے چہروں سے پھسل کر

خود شناسی سی خود شناسی ہے

خود شناسی سی خود شناسی ہے

بھاری بوٹوں میں اگنے والے پودے
پھول دیتے ہیں مگر بے رنگ
جن پر تتلیاں نہیں
مکھیاں بھنبھناتی ہیں
باس
دور اندر تک اتر جانے والی