Showing posts with label لبنیٰ صفدر. Show all posts
Showing posts with label لبنیٰ صفدر. Show all posts

Wednesday, 4 January 2023

موت سے بھی بڑی قیامت ہے

 موت سے بھی بڑی قیامت ہے

سچ کہوں؛ زندگی قیامت ہے

دُکھ سے کُھلتی نہیں ہیں آنکھیں اب

خواب کی یہ گھڑی قیامت ہے

صاف دِکھنے لگے سبھی چہرے

اب یہی روشنی قیامت ہے

Friday, 8 April 2022

ٹلی ہے نہ اشکوں کی یلغار ہی

 ٹلی ہے نہ اشکوں کی یلغار ہی

ہے تازہ مِرے دل میں وہ نار ہی

ملاقات اس سے نہ ہوئی تو کیا

چلو پھر سے دیکھ آئیں گلزار ہی

طلب تھی گلوں کی جسے دوستو

ملے راستوں میں اُسے خار ہی

Tuesday, 5 April 2022

ایک دعا ہے بس ایک دعا تیرا آنگن سلامت

 دعا


میری آنکھوں کے خواب

راکھ راکھ ہوئے تو کیا

یادوں کو اڑا لے گئی

جو ریت کی مانند بادِ صبا

گرد سی مسافتوں میں

Monday, 1 November 2021

پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں

 پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں

خوابوں کی سیڑھی سے گری ہوں

کاسہ مِرا ہے حرفِ تسلی

کرم کا سِکہ مانگ رہی ہوں

سائے میں اس کے بیٹھنا چاہوں

صدیوں سے میں تھکی ہوئی ہوں

Saturday, 24 July 2021

دکھ دیا تو نے رلایا ہے مجھے

 دُکھ دیا تُو نے رُلایا ہے مجھے

عشق میں کتنا ستایا ہے مجھے

جس میں اشکوں کی بہت بُہتات تھی

شام نے قصہ سنایا ہے مجھے

تُو نے بے وُقعت کہا ہے یوں مجھے

گرد کی صورت اُڑایا ہے مجھے

Friday, 23 July 2021

دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

 دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

عشق اپنا مزاج ہے صاحب 

دشت کی ریت ہے بہت پیاسی 

آبلوں کا خراج ہے صاحب

آپ کو بھول ہی نہیں پاتی 

میرا کوئی علاج ہے صاحب 

Thursday, 22 July 2021

ایک چہرہ ہے جو اس دل میں چھپا رکھا ہے

 ایک چہرہ ہے جو اس دل میں چھپا رکھا ہے

اور پھر دل کو بھی مندر سا بنا رکھا ہے

شہر کا شہر چلا آتا ہے پتھر لے کر

اس کی چاہت نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے

آج پھر اس کا یہ وعدہ ہے کہ وہ آئے گا

میں نے اس واسطے اس گھر کو سجا رکھا ہے

Wednesday, 21 July 2021

اس طرح تیری طرفداری نہیں کر سکتی

 اس طرح تیری طرفداری نہیں کر سکتی

اب محبت میں اداکاری نہیں کر سکتی

عشق کے بیج کو سینے میں نہیں سینچوں گی

اب نئی کوئی شجر کاری نہیں کر سکتی

کیوں اسے کال کروں اتنی انا ہے مجھ میں

دل مِرے تیری میں دلداری نہیں کر سکتی

Tuesday, 20 July 2021

شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں

 شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں

من پگھلتا ہوا سرد سی شام میں

وحشتوں نے رگِ جاں کو کاٹا ہے خوب

دُکھ مسلتا ہوا سرد سی شام میں

آسمانوں پہ رنگوں کے میلے بھی تھے

دن تھا ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں

Monday, 19 July 2021

کاش اس کی ہر بات سے پہلے

 کاش


جانے کیوں 

میرے لیے

اس کی ہر بات سے پہلے

یہ ہی ہوتا ہے

کاش

ترا ساتھ ہو تو موسموں سے کیا ہوتا ہے

 اندر کا موسم


گرمی کی تپتی دوپہر کی شدت ہو

یا

سرد شاموں کی خُنکی جسموں میں اُتری ہو

تِرا ساتھ ہو تو

موسموں سے کیا ہوتا ہے


لبنیٰ صفدر