موت سے بھی بڑی قیامت ہے
سچ کہوں؛ زندگی قیامت ہے
دُکھ سے کُھلتی نہیں ہیں آنکھیں اب
خواب کی یہ گھڑی قیامت ہے
صاف دِکھنے لگے سبھی چہرے
اب یہی روشنی قیامت ہے
موت سے بھی بڑی قیامت ہے
سچ کہوں؛ زندگی قیامت ہے
دُکھ سے کُھلتی نہیں ہیں آنکھیں اب
خواب کی یہ گھڑی قیامت ہے
صاف دِکھنے لگے سبھی چہرے
اب یہی روشنی قیامت ہے
ٹلی ہے نہ اشکوں کی یلغار ہی
ہے تازہ مِرے دل میں وہ نار ہی
ملاقات اس سے نہ ہوئی تو کیا
چلو پھر سے دیکھ آئیں گلزار ہی
طلب تھی گلوں کی جسے دوستو
ملے راستوں میں اُسے خار ہی
دعا
میری آنکھوں کے خواب
راکھ راکھ ہوئے تو کیا
یادوں کو اڑا لے گئی
جو ریت کی مانند بادِ صبا
گرد سی مسافتوں میں
پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں
خوابوں کی سیڑھی سے گری ہوں
کاسہ مِرا ہے حرفِ تسلی
کرم کا سِکہ مانگ رہی ہوں
سائے میں اس کے بیٹھنا چاہوں
صدیوں سے میں تھکی ہوئی ہوں
دُکھ دیا تُو نے رُلایا ہے مجھے
عشق میں کتنا ستایا ہے مجھے
جس میں اشکوں کی بہت بُہتات تھی
شام نے قصہ سنایا ہے مجھے
تُو نے بے وُقعت کہا ہے یوں مجھے
گرد کی صورت اُڑایا ہے مجھے
دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب
عشق اپنا مزاج ہے صاحب
دشت کی ریت ہے بہت پیاسی
آبلوں کا خراج ہے صاحب
آپ کو بھول ہی نہیں پاتی
میرا کوئی علاج ہے صاحب
ایک چہرہ ہے جو اس دل میں چھپا رکھا ہے
اور پھر دل کو بھی مندر سا بنا رکھا ہے
شہر کا شہر چلا آتا ہے پتھر لے کر
اس کی چاہت نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے
آج پھر اس کا یہ وعدہ ہے کہ وہ آئے گا
میں نے اس واسطے اس گھر کو سجا رکھا ہے
اس طرح تیری طرفداری نہیں کر سکتی
اب محبت میں اداکاری نہیں کر سکتی
عشق کے بیج کو سینے میں نہیں سینچوں گی
اب نئی کوئی شجر کاری نہیں کر سکتی
کیوں اسے کال کروں اتنی انا ہے مجھ میں
دل مِرے تیری میں دلداری نہیں کر سکتی
شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں
من پگھلتا ہوا سرد سی شام میں
وحشتوں نے رگِ جاں کو کاٹا ہے خوب
دُکھ مسلتا ہوا سرد سی شام میں
آسمانوں پہ رنگوں کے میلے بھی تھے
دن تھا ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں
کاش
جانے کیوں
میرے لیے
اس کی ہر بات سے پہلے
یہ ہی ہوتا ہے
کاش
اندر کا موسم
گرمی کی تپتی دوپہر کی شدت ہو
یا
سرد شاموں کی خُنکی جسموں میں اُتری ہو
تِرا ساتھ ہو تو
موسموں سے کیا ہوتا ہے
لبنیٰ صفدر