Tuesday, 5 April 2022

ایک دعا ہے بس ایک دعا تیرا آنگن سلامت

 دعا


میری آنکھوں کے خواب

راکھ راکھ ہوئے تو کیا

یادوں کو اڑا لے گئی

جو ریت کی مانند بادِ صبا

گرد سی مسافتوں میں

اپنوں کی ہی چاہتوں میں

اُجڑ گئی ہوں تنہا

لب پہ آیا نہ پھر بھی

کوئی بھی تو حرفِ شکایت

دل آوارہ تیری گلیوں میں

چند خوشیاں ڈھونڈنے نکلا تھا

نجانے کیا کیا مانگتا پھرتا تھا

مگر اب تو لبوں پر

ایک دعا ہے

بس ایک دعا

تیرا آنگن سلامت


لبنیٰ صفدر

No comments:

Post a Comment