دعا
میری آنکھوں کے خواب
راکھ راکھ ہوئے تو کیا
یادوں کو اڑا لے گئی
جو ریت کی مانند بادِ صبا
گرد سی مسافتوں میں
اپنوں کی ہی چاہتوں میں
اُجڑ گئی ہوں تنہا
لب پہ آیا نہ پھر بھی
کوئی بھی تو حرفِ شکایت
دل آوارہ تیری گلیوں میں
چند خوشیاں ڈھونڈنے نکلا تھا
نجانے کیا کیا مانگتا پھرتا تھا
مگر اب تو لبوں پر
ایک دعا ہے
بس ایک دعا
تیرا آنگن سلامت
لبنیٰ صفدر
No comments:
Post a Comment