غریب گھر میں رہا اشکبار عید کے دن
نہیں مِلا ہے کسی سے اُدھار عید کے دن
طلب کہاں سے کرے پوری اپنے بچوں کی
اسی وہ غم میں رہا بے قرار عید کے دن
لپٹ لپٹ کے جگر گوشے مانگتے رہے ہیں
کھلونا لا دو کوئی اب کی بار عید کے دن
غریب گھر میں رہا اشکبار عید کے دن
نہیں مِلا ہے کسی سے اُدھار عید کے دن
طلب کہاں سے کرے پوری اپنے بچوں کی
اسی وہ غم میں رہا بے قرار عید کے دن
لپٹ لپٹ کے جگر گوشے مانگتے رہے ہیں
کھلونا لا دو کوئی اب کی بار عید کے دن
اچھا ہوا جو عشق کا الزام آ گیا
فرہاد و قیس میں مِرا بھی نام آ گیا
توبہ شکن نہیں تھا مگر رہ نہیں سکا
اے شیخ! سامنے مِرے جب جام آ گیا
دینا نہ دل کسی کو مجھے وہ سِکھا گیا
وہ بے وفا ہو کر بھی مِرے کام آ گیا
نوجوانو اٹھو کشمیر بچانے نکلو
غاصبوں کے در و دیوار جلانے نکلو
جو ہے منحوس لکیر اس کو مٹانے نکلو
نوجوانو اٹھو کشمیر بچانے نکلو
نہ کوئی شہر ہے اپنا نہ ہی کوئی گھر ہے
اس غلامی سے تو مرنا ہی بہت بہتر ہے
دیس اپنا ہے اسے اپنا بنانے نکلو
بہت دُور ساحل ہے ابھی تک
کہ طُوفان حائل ہے ابھی تک
سخی ہے تُو مگر شکوہ کُناں ہے
جو خالی ہاتھ سائل ہے ابھی تک
مِرے جو ہمسفر تھے مر گئے کیا؟
کہ زندہ میرا قاتل ہے ابھی تک
آ مِلیں ایسی زندگانی میں
جیسے مِلتا ہے پانی پانی میں
دیکھ کر آپ کو ہُوا اتنا
فرق ہے درد کی روانی میں
صاحبِ عشق جانتے ہیں یہ
لُطف کتنا ہے لن ترانی میں