Showing posts with label عابد خاکسار. Show all posts
Showing posts with label عابد خاکسار. Show all posts

Tuesday, 9 April 2024

غریب گھر میں رہا اشکبار عید کے دن

 غریب گھر میں رہا اشکبار عید کے دن

نہیں مِلا ہے کسی سے اُدھار عید کے دن

طلب کہاں سے کرے پوری اپنے بچوں کی

اسی وہ غم میں رہا بے قرار عید کے دن

لپٹ لپٹ کے جگر گوشے مانگتے رہے ہیں

کھلونا لا دو کوئی اب کی بار عید کے دن

Sunday, 10 March 2024

اچھا ہوا جو عشق کا الزام آ گیا

 اچھا ہوا جو عشق کا الزام آ گیا

فرہاد و قیس میں مِرا بھی نام آ گیا

توبہ شکن نہیں تھا مگر رہ نہیں سکا

اے شیخ! سامنے مِرے جب جام آ گیا

دینا نہ دل کسی کو مجھے وہ سِکھا گیا

وہ بے وفا ہو کر بھی مِرے کام آ گیا

Wednesday, 31 January 2024

غاصبوں کے در و دیوار جلانے نکلو

نوجوانو اٹھو کشمیر بچانے نکلو


 غاصبوں کے در و دیوار جلانے نکلو

جو ہے منحوس لکیر اس کو مٹانے نکلو

نوجوانو اٹھو کشمیر بچانے نکلو


نہ کوئی شہر ہے اپنا نہ ہی کوئی گھر ہے

اس غلامی سے تو مرنا ہی بہت بہتر ہے

دیس اپنا ہے اسے اپنا بنانے نکلو

Saturday, 20 January 2024

بہت دور ساحل ہے ابھی تک

 بہت دُور ساحل ہے ابھی تک

کہ طُوفان حائل ہے ابھی تک

سخی ہے تُو مگر شکوہ کُناں ہے

جو خالی ہاتھ سائل ہے ابھی تک

مِرے جو ہمسفر تھے مر گئے کیا؟

کہ زندہ میرا قاتل ہے ابھی تک

Sunday, 20 March 2022

آ ملیں ایسی زندگانی میں

آ مِلیں ایسی زندگانی میں

جیسے مِلتا ہے پانی پانی میں

دیکھ کر آپ کو ہُوا اتنا

فرق ہے درد کی روانی میں

صاحبِ عشق جانتے ہیں یہ

لُطف کتنا ہے لن ترانی میں