بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی
ابھی کچھ دن یہ سوغاتیں رہیں گی
تڑپ باقی رہے گی جھوٹ ہے یہ
ملیں گے ہم ملاقاتیں رہیں گی
نظر میں چہرہ کوئی اور ہو گا
گلے میں جھولتی بانہیں رہیں گی
بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی
ابھی کچھ دن یہ سوغاتیں رہیں گی
تڑپ باقی رہے گی جھوٹ ہے یہ
ملیں گے ہم ملاقاتیں رہیں گی
نظر میں چہرہ کوئی اور ہو گا
گلے میں جھولتی بانہیں رہیں گی
ڈائری کے یہ سادہ ورق
اور قلم چھین لو
آئینوں کی دُکانوں میں سب
اپنے چہرے لیے
اک برہنہ تبسم کے محتاج ہیں
سرد بازار میں
شناسا آہٹیں
ادھر کئی دنوں سے
دور دور تک بھی نیند کا پتہ نہیں
کسیلے کڑوے ذائقے
ٹپک رہے ہیں آنکھ سے
کئی پہر گزر چکے
آنگن میں چھوڑ آئے تھے جو غار دیکھ لیں
کس حال میں ہے ان دنوں گھر بار دیکھ لیں
جب آ گئے ہیں شہرِ طلسمات کے قریب
کیا چاہتی ہے نرگسِ بیمار دیکھ لیں
ہنسنا ہنسانا چھوٹے ہوئے مدتیں ہوئیں
بس تھوڑی دور رہ گئی دیوار دیکھ لیں
ڈولی مِری جیون دوار کھڑی، کوئی چُنری آ کے اُڑھا جانا
شرنگھار کیے بیٹھی ہے عمر، کوئی مہندی ہاتھ رچا جانا
وہی آگ لگی جو ازل گھر میں، مِری خاک میں پھر سے لگا جانا
ٹوٹے ہیں سبھی گھر کے باسن، انہیں چاک پہ پھر سے بٹھا جانا
لپٹے ہیں مجھے جگ کے رستے، سیاں جی مِرے پردیس گئے
بھوساگر میں منجھدار پڑی، مایا دیوار گرا جانا
رونے کو بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی
کٹتی نہیں زنجیر مگر سُود و زیاں کی
کرتے ہیں طواف آج وہ خود اپنے گھروں کا
جو سیر کو نکلے تھے کبھی سارے جہاں کی
آئیں جو یہاں اہلِ خِرد، سوچ کے آئیں
اس شہر سے ملتی ہیں حدیں شہرِ گماں کی