Showing posts with label آشفتہ چنگیزی. Show all posts
Showing posts with label آشفتہ چنگیزی. Show all posts

Monday, 11 July 2022

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

 بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی 

ابھی کچھ دن یہ سوغاتیں رہیں گی 

تڑپ باقی رہے گی جھوٹ ہے یہ 

ملیں گے ہم ملاقاتیں رہیں گی 

نظر میں چہرہ کوئی اور ہو گا 

گلے میں جھولتی بانہیں رہیں گی 

Sunday, 11 July 2021

ڈائری کے یہ سادہ ورق اور قلم چھین لو

 ڈائری کے یہ سادہ ورق

اور قلم چھین لو

آئینوں کی دُکانوں میں سب

اپنے چہرے لیے

اک برہنہ تبسم کے محتاج ہیں

سرد بازار میں

Saturday, 1 May 2021

ادھر کئی دنوں سے دور دور تک بھی نیند کا پتہ نہیں

 شناسا آہٹیں


ادھر کئی دنوں سے

دور دور تک بھی نیند کا پتہ نہیں

کسیلے کڑوے ذائقے

ٹپک رہے ہیں آنکھ سے

کئی پہر گزر چکے

Wednesday, 30 September 2020

کس حال میں ہے ان دنوں گھر بار دیکھ لیں

 آنگن میں چھوڑ آئے تھے جو غار دیکھ لیں

کس حال میں ہے ان دنوں گھر بار دیکھ لیں

جب آ گئے ہیں شہرِ طلسمات کے قریب

کیا چاہتی ہے نرگسِ بیمار دیکھ لیں

ہنسنا ہنسانا چھوٹے ہوئے مدتیں ہوئیں

بس تھوڑی دور رہ گئی دیوار دیکھ لیں

Friday, 16 September 2016

ڈولی مری جیون دوار کھڑی کوئی چنری آ کے اڑھا جانا

 ڈولی مِری جیون دوار کھڑی، کوئی چُنری آ کے اُڑھا جانا

شرنگھار کیے بیٹھی ہے عمر، کوئی مہندی ہاتھ رچا جانا

وہی آگ لگی جو ازل گھر میں، مِری خاک میں پھر سے لگا جانا

ٹوٹے ہیں سبھی گھر کے باسن، انہیں چاک پہ پھر سے بٹھا جانا

لپٹے ہیں مجھے جگ کے رستے، سیاں جی مِرے پردیس گئے

بھوساگر میں منجھدار پڑی، مایا دیوار گرا جانا

رونے کو بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

 رونے کو بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی

کٹتی نہیں زنجیر مگر سُود و زیاں کی

کرتے ہیں طواف آج وہ خود اپنے گھروں کا

جو سیر کو نکلے تھے کبھی سارے جہاں کی

آئیں جو یہاں اہلِ خِرد، سوچ کے آئیں

اس شہر سے ملتی ہیں حدیں شہرِ گماں کی

کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں

کس کی تلاش ہے ہمیں، کس کے اثر میں ہیں
جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں
سارے تماشے ختم ہوئے، لوگ جا چکے
اک ہم ہی رہ گئے جو فریبِ سحر میں ہیں 
ایسی تو کوئی خاص خطا بھی نہیں ہوئی
ہاں یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم اپنے گھر میں ہیں

Friday, 9 September 2016

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے
سارے تعینات سے اک دن سفر ملے
افواہ کس نے ایسی اڑائی کہ شہر میں
ہر شخص بچ رہا ہے نہ اس سے نظر ملے
دشواریاں کچھ اور زیادہ ہی بڑھ گئیں
گھر سے چلے تو راہ میں اتنے شجر ملے

تمہارے شہر کے رستے عجیب رستے ہیں

تمہارے شہر کے رستے عجیب رستے ہیں
کہ واپسی کے لیے آج تک ترستے ہیں
جو قہقہوں کی عمارت میں ہو گئے محصور
کچھ ایسے لوگوں کی بستی میں ہم بھی بستے ہیں
ہزار شکر، پناہوں سے دور ہیں ہم لوگ
بدن ہمارے ابھی دھوپ میں جھلستے ہیں

ہر ایک بات پہ وہ قہقہے لگاتا ہے

ہر ایک بات پہ وہ قہقہے لگاتا ہے
یہ اور بات کہ ہنسنے سے جی چراتا ہے
ہے انتظار مجھے جنگ ختم ہونے کا
لہو کی قید سے باہر کوئی بلاتا ہے
تمام راستے اب ایک جیسے لگتے ہیں
گمان راہ میں شکلیں بدل کے آتا ہے

Monday, 8 August 2016

دھوپ کے رتھ پر ہفت افلاک

دھوپ کے رتھ پر ہفت افلاک
چوباروں کے سر پر خاک
شہرِ ملامت آ پہنچا
سارے مناظر عبرت ناک
دریاؤں کی نذر ہوئے
دھیرے دھیرے سب تیراک

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

کوئی غل ہوا تھا، نہ شورِ خزاں
اجڑنے لگیں خود بخود بستیاں
جسے دیکھنے گھر سے نکلے تھے ہم
دھواں ہو گیا شام کا وہ سماں
سبھی کچھ تو دریا بہا لے گیا
تجھے اور کیا چاہیے آسماں

اتنا کیوں شرماتے ہیں

اتنا کیوں شرماتے ہیں
وعدے آخر وعدے ہیں
لکھا لکھایا دھو ڈالا
سارے ورق پھر سادے ہیں
تجھ کو بھی کیوں یاد رکھا
سوچ کے اب پچھتاتے ہیں

Tuesday, 21 June 2016

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہو گا

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہو گا
چلیں گے ساتھ تو دنیا کا سامنا ہو گا
وہ ایک شخص جو پتھر اٹھا کے دوڑا تھا
ضرور خواب کی کڑیاں ملا رہا ہو گا
ہمارے بعد اک ایسا بھی دور آئے گا
وہ اجنبی ہی رہے گا جو تیسرا ہو گا

کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا

کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا
ہر ایک رنگ میں اپنا ہی بس تماشا تھا
ہم آج تک تو کوئی امتیاز کر نہ سکے
یہاں تو جو بھی ملا ہے وہ تیرے جیسا تھا
عجیب خواب تھا، تعبیر کیا ہوئی اس کی
کہ ایک دریا ہواؤں کے رخ پہ بہتا تھا

بھینی خوشبو سلگتی سانسوں میں

بھینی خوشبو سلگتی سانسوں میں
بجلیاں بھر گئی ہیں ہاتھوں میں
صرف تیرا بدن چمکتا ہے
کالی لمبی اداس راتوں میں
کیا کیا چھینے گا اے امیرِ شہر
اتنے منظر ہیں میری آنکھوں میں

Wednesday, 4 May 2016

زور بڑھنے لگا ہواؤں میں

زور بڑھنے لگا ہواؤں میں
یاد رکھنا ہمیں دعاؤں میں
کب کے معتوب ہو گئے ہوتے
خاک شدت رہی خطاؤں میں
سوندھی مٹی وہ ادھ جلے چولہے
دل دھڑکتے ہوئے گپھاؤں میں

پھر پلٹنے نکلے ہیں ساری داستانوں کو

پھر پلٹنے نکلے ہیں ساری داستانوں کو
ہم جگاۓ رکھیں گے گھر کے سائبانوں کو
روشنی کے مینارے، شہر میں ہوئے قائم
کالا پوت ڈالو اب، سارے شمع دانوں کو
تیز بہتے قدموں سے ڈھک گئی ہیں سب سڑکیں
آہٹوں کی عادت تھی سُونے پائیدانوں کو

Friday, 29 April 2016

جستجو ہی جستجو بن جائیں گے

جستجو ہی جستجو بن جائیں گے
تجھ سے بچھڑے تو بہت پچھتائیں گے
ذکر سے بھی جن کے کتراتے ہیں لوگ
کل یہ قصے داستاں بن جائیں گے
منتظر آنکھیں لیے بیٹھے رہو
ساتھ میں منظر لیے ہم آئیں گے

بہت ہوا رو دیتے تھے

بہت ہُوا، رو دیتے تھے
تم بھی کتنے سچے تھے
پہلے یہاں آبادی تھی
بستی والے کہتے تھے
ہم بھی اک دن دنیا کو
آگ لگانے نکلے تھے