صدیوں سے زمانے کا یہ انداز رہا ہے
سایہ بھی جدا ہو گیا جب وقت پڑا ہے
بھُولے سے کسی اور کا رستہ نہیں چھُوتے
اپنی تو ہر اک شخص سے رفتار جدا ہے
اس رندِ بلا نوش کو سینے سے لگا لو
مے خانے کا زاہد سے پتا پوچھ رہا ہے
صدیوں سے زمانے کا یہ انداز رہا ہے
سایہ بھی جدا ہو گیا جب وقت پڑا ہے
بھُولے سے کسی اور کا رستہ نہیں چھُوتے
اپنی تو ہر اک شخص سے رفتار جدا ہے
اس رندِ بلا نوش کو سینے سے لگا لو
مے خانے کا زاہد سے پتا پوچھ رہا ہے
منفرد جس کا لب و لہجہ لگا
وہ ہمارا ہی نمائندہ لگا
جب سے اپنے گھر میں آئینہ
غیر کا چہرہ بھی کچھ اچھا لگا
رخ بدلنا کیا کوئی آسان ہے
ایک چہرہ تھا مگر کیا کیا لگا
نئے موسم کو کیا ہونے لگا ہے
کہ مٹی میں لہو بونے لگا ہے
کوئی قیمت نہیں تھی جس کی یارو
اب اس کا مول بھی ہونے لگا ہے
بہت مشکل ہے اب اس کو جگانا
وہ آنکھیں کھول کر سونے لگا ہے
اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو
تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو
سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں
خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو
الٰہی خیر، کہ ان کا سلام آیا ہے
یہی سلام کہیں آخری سلام نہ ہو
منزلوں تک منزلوں کی آرزو رہ جائے گی
کارواں تھک جائیں پھر بھی جستجو رہ جائے گی
اے دلِ ناداں! تجھے بھی چاہیے پاسِ ادب
وہ جو روٹھے تو ادھوری گفتگو رہ جائے گی
غیر کے آنے نہ آنے سے بھلا کیا فائدہ
تم جو آ جاؤ تو میری آبرو رہ جائے گی