Showing posts with label جمیل مرصع. Show all posts
Showing posts with label جمیل مرصع. Show all posts

Sunday, 25 April 2021

صدیوں سے زمانے کا یہ انداز رہا ہے

 صدیوں سے زمانے کا یہ انداز رہا ہے

سایہ بھی جدا ہو گیا جب وقت پڑا ہے

بھُولے سے کسی اور کا رستہ نہیں چھُوتے

اپنی تو ہر اک شخص سے رفتار جدا ہے

اس رندِ بلا نوش کو سینے سے لگا لو

مے خانے کا زاہد سے پتا پوچھ رہا ہے

Thursday, 8 April 2021

منفرد جس کا لب و لہجہ لگا

 منفرد جس کا لب و لہجہ لگا

وہ ہمارا ہی نمائندہ لگا

جب سے اپنے گھر میں آئینہ

غیر کا چہرہ بھی کچھ اچھا لگا

رخ بدلنا کیا کوئی آسان ہے

ایک چہرہ تھا مگر کیا کیا لگا

نئے موسم کو کیا ہونے لگا ہے

 نئے موسم کو کیا ہونے لگا ہے

کہ مٹی میں لہو بونے لگا ہے

کوئی قیمت نہیں تھی جس کی یارو

اب اس کا مول بھی ہونے لگا ہے

بہت مشکل ہے اب اس کو جگانا

وہ آنکھیں کھول کر سونے لگا ہے

Wednesday, 7 April 2021

اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو

 اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو

تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو

سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں

خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو

الٰہی خیر، کہ ان کا سلام آیا ہے

یہی سلام کہیں آخری سلام نہ ہو

Tuesday, 6 April 2021

منزلوں تک منزلوں کی آرزو رہ جائے گی

 منزلوں تک منزلوں کی آرزو رہ جائے گی

کارواں تھک جائیں پھر بھی جستجو رہ جائے گی

اے دلِ ناداں! تجھے بھی چاہیے پاسِ ادب

وہ جو روٹھے تو ادھوری گفتگو رہ جائے گی

غیر کے آنے نہ آنے سے بھلا کیا فائدہ

تم جو آ جاؤ تو میری آبرو رہ جائے گی