مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے
اک تم مرے نہ ہو سکے دنیا مزے میں ہے
تتلی اداس ہو کے چھپی دیکھتی رہی
پھولوں سے کھیلتا ہوا بھنورا مزے میں ہے
دنیا کے سارے رنگ وہی ہیں تمہارے بعد
مجھ کو اکیلا کر کے زمانہ مزے میں ہے
مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے
اک تم مرے نہ ہو سکے دنیا مزے میں ہے
تتلی اداس ہو کے چھپی دیکھتی رہی
پھولوں سے کھیلتا ہوا بھنورا مزے میں ہے
دنیا کے سارے رنگ وہی ہیں تمہارے بعد
مجھ کو اکیلا کر کے زمانہ مزے میں ہے
یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے
میرے حصے کی ملاقات ابھی باقی ہے
رات مہکے گی تو خواہش بھی بہک جائے گی
جو نہ ہو پائی ہے وہ بات ابھی باقی ہے
خیر سے مل گئیں راتیں وہ مرادوں والی
آپ کے حسن کی خیرات ابھی باقی ہے
نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے
تماش بین ہمیشہ سے رقص گاہ میں ہے
بنامِ عشق مِری زندگی! تِرے قرباں
مگر نصیب مِرا بے طلب نباہ میں ہے
میں جانتا ہوں کہ ہے کس کی آنکھ کا آنسو
وہ ایک لعل جو اب تک مِری کلاہ میں ہے
چُور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی
اک نیا خواب مِرے دیدۂ تر اور سہی
کیوں نہ دو چار قدم ساتھ بھی چل کر دیکھیں
ہے مِری راہ جدا، تیرا سفر اور سہی
اس کی بھیگی ہوئی آنکھوں سے چلو مل آئیں
اے مِری زندگی! اک زخمِ جگر اور سہی
چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے
یہ موسم بار بار آئے نہ آئے
ہم اس کی راہ دیکھیں گے ہمیشہ
وہ جانِ انتظار آئے، نہ آئے
یہ سوچا ہے کہ اس کو بھول جائیں
اب اس دل کو قرار آئے نہ آئے
گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب
دستکیں دیجئے لوگوں کے دلوں پر صاحب
جتنی بڑھتی گئیں تنہائیاں جسم و جاں کی
گہرا ہوتا گیا آنکھوں کا سمندر صاحب
دور تک اس کو بچھڑتے ہوئے ہم دیکھ سکیں
روک لو آنسو کہ دھندلائے نہ منظر صاحب
دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں
شہرِ چراغ میں جو ہوا کے خلاف ہیں
فرسودہ و فضول روایت کے نام پر
اپنے تمام دوست وفا کے خلاف ہیں
خاموشیوں کے دشت میں کیوں چیختے ہو تم
قانون سب یہاں کے صدا کے خلاف ہیں