Showing posts with label ضمیر کاظمی. Show all posts
Showing posts with label ضمیر کاظمی. Show all posts

Sunday, 8 October 2023

مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے

 مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے

اک تم مرے نہ ہو سکے دنیا مزے میں ہے

تتلی اداس ہو کے چھپی دیکھتی رہی

پھولوں سے کھیلتا ہوا بھنورا مزے میں ہے

دنیا کے سارے رنگ وہی ہیں تمہارے بعد

مجھ کو اکیلا کر کے زمانہ مزے میں ہے

Thursday, 20 October 2022

یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے

یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے

میرے حصے کی ملاقات ابھی باقی ہے

رات مہکے گی تو خواہش بھی بہک جائے گی

جو نہ ہو پائی ہے وہ بات ابھی باقی ہے

خیر سے مل گئیں راتیں وہ مرادوں والی

آپ کے حسن کی خیرات ابھی باقی ہے

Tuesday, 28 December 2021

نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے

 نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے

تماش بین ہمیشہ سے رقص گاہ میں ہے

بنامِ عشق مِری زندگی! تِرے قرباں

مگر نصیب مِرا بے طلب نباہ میں ہے

میں جانتا ہوں کہ ہے کس کی آنکھ کا آنسو

وہ ایک لعل جو اب تک مِری کلاہ میں ہے

Tuesday, 7 December 2021

چور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی

 چُور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی

اک نیا خواب مِرے دیدۂ تر اور سہی

کیوں نہ دو چار قدم ساتھ بھی چل کر دیکھیں

ہے مِری راہ جدا، تیرا سفر اور سہی

اس کی بھیگی ہوئی آنکھوں سے چلو مل آئیں

اے مِری زندگی! اک زخمِ جگر اور سہی

Sunday, 5 December 2021

چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے

 چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے

یہ موسم بار بار آئے نہ آئے

ہم اس کی راہ دیکھیں گے ہمیشہ

وہ جانِ انتظار آئے، نہ آئے

یہ سوچا ہے کہ اس کو بھول جائیں

اب اس دل کو قرار آئے نہ آئے

Saturday, 4 December 2021

گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب

 گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب

دستکیں دیجئے لوگوں کے دلوں پر صاحب

جتنی بڑھتی گئیں تنہائیاں جسم و جاں کی

گہرا ہوتا گیا آنکھوں کا سمندر صاحب

دور تک اس کو بچھڑتے ہوئے ہم دیکھ سکیں

روک لو آنسو کہ دھندلائے نہ منظر صاحب

Thursday, 1 July 2021

دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں

 دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں

شہرِ چراغ میں جو ہوا کے خلاف ہیں

فرسودہ و فضول روایت کے نام پر

اپنے تمام دوست وفا کے خلاف ہیں

خاموشیوں کے دشت میں کیوں چیختے ہو تم

قانون سب یہاں کے صدا کے خلاف ہیں