Showing posts with label اظہر نیر. Show all posts
Showing posts with label اظہر نیر. Show all posts

Monday, 11 January 2021

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

 جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ

سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے

مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ

اک تِری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی

اک تِرا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ

Sunday, 10 January 2021

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

 حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے

سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے

بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے

غریبِ شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے

امیرِ شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے

Tuesday, 29 December 2020

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا

 سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا

جھوٹوں کیلئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا

تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکن

نفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا

سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتی

دیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا

Monday, 28 December 2020

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے

 مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے

تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے

صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر

خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے

تمناؤں کے سینے پر رکھے سر

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

Sunday, 27 December 2020

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے

 دریچے سو گئے، شب جاگتی ہے

میرے کمرے میں کیسی خامشی ہے

جدھر دیکھو فسردہ زندگی ہے

مجھے لگتا ہے یہ غم کی صدی ہے

جو رستوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے

اسے پہچان فکر زندگی ہے

ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا

 ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا

مسرتوں کا زمانے میں کال ایسا تھا

فضائے شہر میں بارود کی تھی بو شامل

کہ سانس لینا بھی ہم کو محال ایسا تھا

امیرِ شہر کے ہونٹوں پہ پڑ گئے تالے

غریبِ شہر کا چبھتا سوال ایسا تھا