جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ
شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ
سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے
مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ
اک تِری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی
اک تِرا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ
جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ
شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ
سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے
مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ
اک تِری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی
اک تِرا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ
حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے
ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے
سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے
بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے
غریبِ شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے
امیرِ شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے
سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا
جھوٹوں کیلئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا
تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکن
نفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا
سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتی
دیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا
مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے
تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے
صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر
خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے
تمناؤں کے سینے پر رکھے سر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
دریچے سو گئے، شب جاگتی ہے
میرے کمرے میں کیسی خامشی ہے
جدھر دیکھو فسردہ زندگی ہے
مجھے لگتا ہے یہ غم کی صدی ہے
جو رستوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے
اسے پہچان فکر زندگی ہے
ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا
مسرتوں کا زمانے میں کال ایسا تھا
فضائے شہر میں بارود کی تھی بو شامل
کہ سانس لینا بھی ہم کو محال ایسا تھا
امیرِ شہر کے ہونٹوں پہ پڑ گئے تالے
غریبِ شہر کا چبھتا سوال ایسا تھا