بھولی بسری چند امیدیں چند فسانے یاد آئے
تم یاد آئے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آئے
دل کا چمن شاداب تھا پھر بھی خاک سی اڑتی رہتی ہے
کیسے زمانے، اے غمِ جاناں! تیرے بہانے یاد آئے
ہنسنے والوں سے ڈرتے تھے چھپ چھپ کر رو لیتے تھے
گہری گہری سوچ میں ڈوبے دو دیوانے یاد آئے