Showing posts with label رضی ترمذی. Show all posts
Showing posts with label رضی ترمذی. Show all posts

Monday, 19 December 2016

اپنا سب کچھ بھول گیا کچھ یاد نہیں

اِک دیوانہ رہتا تھا اس بستی میں
اس کا کیا انجام ہوا، کچھ یاد نہیں
تنہائی کی شام اور بارش کی آواز
وہ بھی کیسا موسم تھا، کچھ یاد نہیں
اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد رہیں
اپنا سب کچھ بھول گیا، کچھ یاد نہیں

رضی ترمذی

قحط وفا میں شہر سے جنگل اچھا تھا

جب بھی آتا، دل ہی دُکھاتا تھا، لیکن
کیسا شخص تھا پھر بھی اچھا لگتا تھا
خوشبو، رنگ، ہوائیں، نغمے، سب تیرے
میں تیرا بن کر اِترایا پھرتا تھا
دل تو یوں پامال نہ کرتا تھا کوئی
قحطِ وفا میں شہر سے جنگل اچھا تھا

رضی ترمذی

Monday, 9 May 2016

دور رہنے کی سزا دو مجھ کو

دور رہنے کی سزا دو مجھ کو
چاند کا نقش بنا دو مجھ کو
حرفِ اول لہو سے لکھو
حرفِ آخر ہوں مٹا دو مجھ کو
ایک ننھی سے کرن کیا لو گے
دھوپ کے ساتھ ملا دو مجھ کو

کنج عزلت سے اٹھو صبح بہاراں دیکھو

کنجِ عزلت سے اٹھو صبحِ بہاراں دیکھو
دوستو! نغمہ گرو! رقصِ غزالاں دیکھو
مٹ گیا رہگزاروں سے ہر اک نقشِ خزاں
ورقِ گل پہ لکھے اب نئے عنواں دیکھو
مطرباں! بہرِ قدم بوسئ شیریں سخناں
محفلِ گل میں چلو جشنِ بہاراں دیکھو

Tuesday, 12 April 2016

دل والو کیا دیکھ رہے ہو ان راہوں میں

دل والو کیا دیکھ رہے ہو ان راہوں میں
حدِ نظر تک یہ ویرانی ساتھ چلے گی
گھر کے اندر سارے جنگل کا سناٹا
شام ہوئی تو اس جنگل میں ہوا چلے گی
جن کے ہاتھوں دل کی یہ توہین ہوئی ہے
ان کے لیے بھی یہ دنیا ایسی نہ رہے گی

پارہ پارہ ہوا پیراہن جاں

پارہ پارہ ہُوا، پیراہنِ جاں
پھر مجھے چھوڑ گئے چارہ گراں
کوئی آہٹ، نہ اشارہ، نہ سراب
کیسا ویراں ہے یہ دشتِ امکاں
چار سُو خاک اڑاتی ہے ہوا
از کراں تا بہ کراں ریگِ رواں

سو رہا تھا تو شور برپا تھا

سو رہا تھا تو شور برپا تھا
اٹھ کے دیکھا تو میں اکیلا تھا
خاک پر میرے خواب بکھرے تھے
اور میں ریزہ ریزہ چنتا تھا
چار جانب وجود کی دیوار
اپنی آواز میں ہی سنتا تھا

Monday, 16 November 2015

بھولی بسری چند امیدیں چند فسانے یاد آئے

بھولی بسری چند امیدیں چند فسانے یاد آئے
تم یاد آئے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آئے
دل کا چمن شاداب تھا پھر بھی خاک سی اڑتی رہتی ہے
کیسے زمانے، اے غمِ جاناں! تیرے بہانے یاد آئے
ہنسنے والوں سے ڈرتے تھے چھپ چھپ کر رو لیتے تھے
گہری گہری سوچ میں ڈوبے دو دیوانے یاد آئے

نہ ابر ہے نہ ہوا نیند کیوں نہیں آتی

نہ ابر ہے نہ ہوا نیند کیوں نہیں آتی
برس چکی ہے گھٹا، نیند کیوں نہیں آتی
نئے نئے تھے جدائی کے دن تو بات بھی تھی
وہ دور بیت چکا،  نیند کیوں نہیں آتی
بچھڑ بھی جاتے ہیں دنیا میں چاہنے والے
چلو ہوا سو ہوا،  نیند کیوں نہیں آتی

جب یہ جان حزیں وقف آلام ہوئی

جب یہ جانِ حزیں وقفِ آلام ہوئی 
وہ ساعت کیسے کیسے بدنام ہوئی
دل میں میٹھے میٹھے درد کے پھول کھلے 
پھر یادوں کی ہوا چلی پھر شام ہوئی
تیری خاطر تیرا نام نہ لیتے تھے 
لیکن چپ کی بات بہت بدنام ہوئی