Showing posts with label اختر سروش. Show all posts
Showing posts with label اختر سروش. Show all posts

Tuesday, 20 December 2016

کیجئے پیار چاہتوں کے عوض

کیجیے پیار چاہتوں کے عِوَض
دکھ نہ دیجے رقابتوں کے عوض
کیا خبر تھی،۔ کہ ٹوٹ جائیں گے
خواب دوری کے قربتوں کے عوض
خار دل میں چبھو گیا کوئی
پھول جیسی محبتوں کے عوض

دوستی کے روپ میں دھوکہ ملا

دوستی کے روپ میں دھوکا مِلا
جو تبسم بھی ملا،۔ جھوٹا ملا
دوستی کے زخم جس نے کھائے تھے
دشمنی کی لاش پر روتا ملا
جوڑتا تھا قلب جو ٹوٹے ہوئے
وہ خود اپنی ذات میں ٹوٹا ملا

پھول گلدان میں سجا رکھنا

پھول گل دان میں سجا رکھنا
ان کی یادوں سے رابطہ رکھنا
زندگی حسن کا تبسم ہے
لب تبسم سے آشنا رکھنا
دم نہ گھٹ جائے بند کمرے میں
کچھ ہوا کا بھی راستہ رکھنا

دیکھیں کسی سے جھوٹی محبت نہ کیجئے

دیکھیں کسی سے جھوٹی محبت نہ کیجیے
مر جائیے کوئی ایسی شرارت نہ کیجیے
ہونے لگا ہے خود پہ ہمیں اور ہی گماں
الله!! اس قدر بھی محبت نہ کیجیے
مانا کہ دل ہے چیز بہت قیمتی،۔ مگر
اب اس کی اس قدر بھی حفاظت نہ کیجیے

مجھ کو یاد کر لینا

مجھ کو یاد کر لینا
(غریب باپ کی وصیت)

میں تو اب جا رہا ہوں دنیا سے
اس گھڑی مجھ کو یاد کر لینا
جب تمہارا کوئی بچہ تم سے
پیار مانگے، پر تم جتا نہ سکو

محبتوں کا بھی نفرتوں میں شمار آیا تو کیا کرو گے

محبتوں کا بھی نفرتوں میں شمار آیا تو کیا کرو گے
تمہاری جانب سے میرے دل میں غبار آیا تو کیا کرو گے 
یہ تعن و تشنیع، یہ تلخ باتیں، مجھے جلانے کو کر رہے ہو
تمہاری باتوں سے میرے دل کو قرار آیا تو کیا کرو گے 
تم اپنی قاتل نظر سے جاناں! شرر فشانی تو کر رہے ہو
مری نگاہوں میں زندگی کا خمار آیا تو کیا کرو گے 

Thursday, 7 January 2016

میں بھول جاؤں جسے یہ وہ حادثہ بھی نہیں

میں بھول جاؤں جسے یہ وہ حادثہ بھی نہیں
وہ آج ایسے مِلا جیسے جانتا بھی نہیں
حسِین اس سے جہاں میں کوئی سوا بھی نہیں
یہ اور بات ہے کہ میں اس کو چاہتا بھی نہیں
مِرے خیال کی دہلیز پر وہ آ بیٹھا
اب اس سے بچ کے گزرنے کا راستہ

زندگی کے سراب سے بچنا

زندگی کے سراب سے بچنا
عمر بھر کے عذاب سے بچنا
جس کی انگڑائی ہوش گم کر دے
ایسے کافر شباب سے بچنا
جو خود اپنے ہی گھر کا دشمن ہو
ایسے خانہ خراب سے بچنا

ان کے کوچے میں گھر بنایا ہے

ان کے کوچے میں گھر بنایا ہے
آندھیوں میں دیا جلایا ہے
لگ رہی ہیں حقیقتیں بھی فریب
دل نے اتنا فریب کھایا ہے
سانس بھی لے رہا ہوں آہستہ
جب سے شیشے کا گھر بنایا ہے

جینے کے لئے کوئی ہنر ڈھونڈ رہا ہوں

جینے کے لیے کوئی ہنر ڈھونڈ رہا ہوں
سائے کی تمنا ہے، شجر ڈھونڈ رہا ہوں
جس شہر میں بے موت بھی مر جاتے ہیں انسان
اس شہر میں جینے کا ہنر ڈھونڈ رہا ہوں
میں ٹوٹ کر بکھروں تو کوئی مجھ کو سمیٹے
شیشہ ہوں، کوئی آئینہ گر ڈھونڈ رہا ہوں