Tuesday, 20 December 2016

مجھ کو یاد کر لینا

مجھ کو یاد کر لینا
(غریب باپ کی وصیت)

میں تو اب جا رہا ہوں دنیا سے
اس گھڑی مجھ کو یاد کر لینا
جب تمہارا کوئی بچہ تم سے
پیار مانگے، پر تم جتا نہ سکو

جب تمہارا کوئی بچہ تم سے
ضد کرے اور تم منا نہ سکو
جب تمہارا کوئی بچہ تم سے
چیز مانگے، پر تم دلا نہ سکو
اس کو دھیرے سے گود میں لے کر
اور پھر پیار سے پپی کر کے
سوچنا، مجھ پہ کیا گزرتی تھی
جس گھڑی، تم کبھی مچلتے تھے
اِک کھلونے کو دیکھ کر بیٹا 
اور میں تم کو گود میں لے کر
اپنے سینے سے خوب چمٹا کر
اور تم کو پیار سے چومتے ہوۓ
“تم سے کہتا تھا ”آج رہنے دو
“کل دِلا دیں گے بیٹا” 
“آج اس کو رہنے دو”

اختر سروش

No comments:

Post a Comment