Showing posts with label بلراج بخشی. Show all posts
Showing posts with label بلراج بخشی. Show all posts

Wednesday, 12 October 2022

ہر کسی کو نہ آزمایا کرو

 ہر کسی کو نہ آزمایا کرو

میں جو کہتا ہوں مان جایا کرو

دل میں کافی جگہ بچی ہے ابھی

تم نئے زخم ڈھونڈ لایا کرو

پھول آہٹ سے سہم جاتے ہیں

تتلیو🦋 ننگے پاؤں آیا کرو

Thursday, 6 October 2022

یوں وفا کا قرض اتارا کیجئے

 یوں وفا کا قرض اتارا کیجیۓ

جیت کر بھی ان سے ہارا کیجیۓ

جب زمینیں پاؤں کے نیچے نہ ہوں

آسمانوں کا نظارہ کیجیۓ

رک گئے دنیا کے سارے سلسلے

ایک ہلکا سا اشارہ کیجیۓ

Wednesday, 5 October 2022

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا

 کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا

وہ چاہتا، تو میں دانستہ ہار سکتا تھا

زمین پاؤں سے میرے لِپٹ گئی، ورنہ

میں آسمان سے تارے✬ اُتار سکتا تھا

جلا رہی ہیں جسے تیز دُھوپ کی نظریں

وہ ابر☁، باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا

Sunday, 30 January 2022

کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگے

 کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگے

روایتوں کو نہ موت آئے تو زندگی انتشار مانگے

سفر کی یہ کیسی وسعتیں ہیں کہ راستہ ہے نہ کوئی منزل

تھکن کا احساس بھی نہ اترے قدم قدم رہگزار مانگے

تلاش کے باوجود سچ ہے کہ میرے حصے میں کچھ نہ آیا

کہ میں نے خوشیاں ہزار ڈھونڈیں کہ درد میں نے ہزار مانگے

Tuesday, 11 January 2022

خشک پتوں کی یہ مجبوری طرفداری نہ تھی

خشک پتوں کی یہ مجبوری، طرفداری نہ تھی

آندھیوں کے ساتھ ہو لینے میں دُشواری نہ تھی

تم نے کیسے اپنی دنیا سے الگ جانا مجھے؟

میرے حصے میں بھی بے ہوشی تھی سرشاری نہ تھی

بس یوں ہی بیٹھے بٹھائے دھک سے رہ جاتا ہے دل

زندگی پہلے کبھی ایسی تھکی ہاری نہ تھی