فضول راز محبت کا سب چھپاتے ہیں
بجھائے جو نہ بجھے آگ وہ بجھاتے ہیں
میں جتنا راہِ محبت سے ہٹتا جاتا ہوں
وہ اتنے ہی مِرے نزدیک آئے جاتے ہیں
سنبھال جذبۂ خودداریٔ دلِ محزوں
کسی کے سامنے پھر اشک آئے جاتے ہیں
فضول راز محبت کا سب چھپاتے ہیں
بجھائے جو نہ بجھے آگ وہ بجھاتے ہیں
میں جتنا راہِ محبت سے ہٹتا جاتا ہوں
وہ اتنے ہی مِرے نزدیک آئے جاتے ہیں
سنبھال جذبۂ خودداریٔ دلِ محزوں
کسی کے سامنے پھر اشک آئے جاتے ہیں
اپنی نگاہ شوق کو رسوا کریں گے ہم
ہر دل کو بے قرار تمنا کریں گے ہم
ہاں آپ کو اٹھانا پڑے گی نگاہ لطف
کیا مفت اپنے راز کو افشا کریں گے ہم
خلوت کدے میں دل کے بٹھا دیں گے حسن کو
اور اپنے جلوے انجمن آرا کریں گے ہم