Showing posts with label معین احسن جذبی. Show all posts
Showing posts with label معین احسن جذبی. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

فضول راز محبت کا سب چھپاتے ہیں

 فضول راز محبت کا سب چھپاتے ہیں

بجھائے جو نہ بجھے آگ وہ بجھاتے ہیں

میں جتنا راہِ محبت سے ہٹتا جاتا ہوں

وہ اتنے ہی مِرے نزدیک آئے جاتے ہیں

سنبھال جذبۂ خودداریٔ دلِ محزوں

کسی کے سامنے پھر اشک آئے جاتے ہیں

Sunday, 18 October 2020

اپنی نگاہ شوق کو رسوا کریں گے ہم

 اپنی نگاہ شوق کو رسوا کریں گے ہم

ہر دل کو بے قرار تمنا کریں گے ہم

ہاں آپ کو اٹھانا پڑے گی نگاہ لطف

کیا مفت اپنے راز کو افشا کریں گے ہم

خلوت کدے میں دل کے بٹھا دیں گے حسن کو

اور اپنے جلوے انجمن آرا کریں گے ہم

Sunday, 27 November 2016

بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں

بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
اک میٹھے میٹھے در کی راحت کہاں سے لائیں
ڈھونڈیں کہاں وہ نالۂ شبِ تاب کا جمال
آہِ سحر گہی کی صباحت کہاں سے لائیں
سمجھائیں کیسے دل کی نزاکت کا ماجرہ
خاموشئ نظر کی خطابت کہاں سے لائیں

ہم ایک خواب لیے ماہ و سال سے گزرے

ہم ایک خواب لیے ماہ و سال سے گزرے
ہزاروں رنج، ہزاروں ملال سے گزرے
ہمیں ملا جو کوئی آسماں تو صورتِ ماہ
نہ جانے کتنے عروج و زوال سے گزرے
کبھی غریبوں کی آہوں میں کی بسر ہم نے
کبھی امیروں کے جاہ و جلال سے گزرے

شریک محفل دار و رسن کچھ اور بھی ہیں

شریک محفل دار و رسن کچھ اور بھی ہیں
ستم گرو! ابھی اہلِ کفن کچھ اور بھی ہیں
رواں رواں یونہی اے ننھی بوندیوں کے ابر
کہ اس دیار میں اجڑے چمن کچھ اور بھی ہیں
خدا کرے نہ تھکیں حشر تک جنوں کے پاؤں
ابھی مناظرِ دشت و دمن کچھ اور بھی ہیں

Wednesday, 16 November 2016

فطرت کے پجاری کچھ تو بتا

فطرت ایک مفلس کی نظر میں

فطرت کے پجاری کچھ تو بتا، کیا حسن ہے ان گلزاروں میں
ہے کون سی رعنائی آخر، ان پھولوں میں ان خاروں میں
وہ خواہ سلگتے ہوں شب بھر، وہ خواہ چمکتے ہوں شب بھر
میں نے بھی تو دیکھا ہے اکژ، کیا بات نئی ہے تاروں میں
اس چاند کی ٹھنڈی کرنوں سے، مجھ کو تو سکوں ہوتا ہی نہیں
مجھ کو تو جنوں ہوتا ہی نہیں، جب پھرتا ہوں گلزاروں میں

کتنی بلندیوں پہ سر دار آئے ہیں

کتنی بلندیوں پہ سرِ دار آئے ہیں
کسی معرکہ میں اہلِ جنوں ہار آئے ہیں
گھبرا اٹھے ہیں ظلمت شب سے تو بارہا
نالے ہمارے لب پہ شرربار آئے ہیں
اے قصہ گو! ازل سے جو بیتی ہے وہ سنا
کچھ لوگ تیرے فن کے پرستار آئے ہیں

داغ غم دل سے کسی طرح مٹایا نہ گیا

داغِ غم دل سے کسی طرح مٹایا نہ گیا
میں نے چاہا بھی مگر تم کو بھلایا نہ گیا
عمر بھر یوں تو زمانے کے مصائب جھیلے
تیری نظروں کا مگر بار اٹھایا نہ گیا
روٹھنے والوں سے اتنا کوئی جا کر پوچھے
خود ہی روٹھے رہے یا ہم سے منایا نہ گیا

Thursday, 19 November 2015

کیا جانے ذوق و شوق کے بازار کیا ہوئے

کیا جانے ذوق و شوق کے بازار کیا ہوئے
یوسفؑ پکارتا ہے، خریدار کیا ہوئے
گستاخئ نگاہِ تمنا کدھر گئی
تعزیرِ درد کے وہ سزاوار کیا ہوئے
صبر آزما وہ شوقِ نظارہ کہاں گیا
آسودگانِ سایۂ دیوار کیا ہوئے

ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں

ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں
اشکوں کی زباں میں کہتے ہیں، آہوں میں اشارا کرتے ہیں
کیا تجھ کو پتہ، کیا تجھ کو خبر، دن رات خیالوں میں اپنے
اے کاکلِ گیتی، ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں
اے موجِ بلا! ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں

Sunday, 14 June 2015

مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے

مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا، اب خواہشِ دنیا کون کرے
جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
جب کشتی ثابت و سالم تھی، ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

ملے غم سے اپنے فرصت تو سناؤں وہ فسانہ

ملے غم سے اپنے فرصت تو سناؤں وہ فسانہ
کہ ٹپک پڑے نظر سے مئے عشرتِ شبانہ
یہی زندگی مصیبت، یہی زندگی مسرت
یہی زندگی حقیقت، یہی زندگی فسانہ
کبھی درد کی تمنا، کبھی کوششِ مداوا
کبھی بجلیوں کی خواہش، کبھی فکرِ آشیانہ

اس بت کے ہر فریب پہ قربان سے رہے

اس بت کے ہر فریب پہ قربان سے رہے
اک عمر اپنے مٹنے کے سامان سے رہے
اس جاں نواز کوچے میں ہم بھی رہے، مگر
بے دل کبھی رہے، کبھی بے جان سے رہے
رِندانِ مۓ کدہ ہیں کہ تنگ آ کے اٹھ گئے
یارانِ مۓ کدہ ہیں کہ انجان سے رہے