Showing posts with label فاتحہ چوہدری. Show all posts
Showing posts with label فاتحہ چوہدری. Show all posts

Monday, 17 April 2023

خامشی کی یہ ہچکیاں سن لو

 خامشی کی یہ ہچکیاں سُن لو

میرے لفظوں کی سِسکیاں سن لو

ان پہ رسموں کا بوجھ مت ڈالو

بولتی کیا ہیں لڑکیاں سن لو

در پہ دستک جو تم نہیں دیتے

بین کرتی ہیں کھڑکیاں سن لو

Tuesday, 16 November 2021

سجا کر چوڑیاں بانہوں میں جاناں

 سجا کر چوڑیاں بانہوں میں جاناں

مروں گی میں تیری راہوں میں جاناں 

ہوئی مدت ہوئے ہیں خواب رخصت

ہے ویرانی میری آنکھوں میں جاناں

تمہارے نقشِ پا پر جاں لٹائی

ہوئے یوں گم تیری راہوں میں جاناں

Thursday, 4 November 2021

سو کربلا کی طرف اب سفر تو بنتا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 سو کربلا کی طرف اب سفر تو بنتا ہے

کہ بے نواؤں کا کوئی نگر تو بنتا ہے

میں ایسی خاک ہوں جس کو ملا تِرا سایہ

جو خاک میں ہوں ملے ان کا گھر تو بنتا ہے

ستم جنہوں نے کیے آلِ زہراؑ پر مل کر

گلے پہ ان کے بھی کوئی خنجر تو بنتا ہے

Tuesday, 2 November 2021

خود اپنی آنکھ کے آنسو کے ہمسفر ہوئے ہم

 خود اپنی آنکھ کے آنسو کے ہمسفر ہوئے ہم

تمہارے دل سے جو نکلے تو دربدر ہوئے ہم

ہم اپنے آپ کی ہمت سے آج باقی ہیں

ہمیں مٹاؤ گے کیسے کہ اب امر ہوئے ہم

ہماری نیند سے پلکیں ہوئی تھیں بھاری بہت

لگی نہ آنکھ کسی پر کہ کم نظر ہوئے ہم

یاد تیری جو سر شام رلا دیتی ہے

 یاد تیری جو سرِ شام رُلا دیتی ہے

یہ تو جلتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتی ہے

کر کے دریا کا دِوانہ کسی پیاسے کو یہ پیاس

ایک ہی لمحے میں موجوں میں بہا دیتی ہے

تم سے ملنے کے فقط ہم کو دِلاسے دے کر

یہ محبت ہمیِں ہر رات سُلا دیتی ہے

Monday, 1 November 2021

صحرا کی آنکھ میں تو گلابوں کا درد ہے

 صحرا کی آنکھ میں تو گلابوں کا درد ہے

لیکن ہماری آنکھ میں خوابوں کا درد ہے

گرچہ ہے آشیاں کے جھلسنے پہ آنکھ نم

لیکن حقیقتوں میں کتابوں کا درد ہے

پوچھا جو میں نے قیس سے وحشت کا کچھ علاج

کہنے لگا؛ ہمیں تو جوابوں کا درد ہے

Sunday, 31 October 2021

یوں ساتوں سر سماعت میں سما کے رقص کرتے ہیں

  یوں ساتوں سُر سماعت میں سما کے رقص کرتے ہیں

تو پیاس اپنی محبت کی بجھا کے رقص کرتے ہیں

جو لڑکا ہو چکا ہے اب محبت سے بھی انکاری

تو ہم بھی اس کے خط سارے جلا کے رقص کرتے ہیں

جو حالِ دل نہیں جانا تو پایا کیا مزا تم نے

جو تیرے عشق میں خود کو مٹا کے رقص کرتے ہیں