خامشی کی یہ ہچکیاں سُن لو
میرے لفظوں کی سِسکیاں سن لو
ان پہ رسموں کا بوجھ مت ڈالو
بولتی کیا ہیں لڑکیاں سن لو
در پہ دستک جو تم نہیں دیتے
بین کرتی ہیں کھڑکیاں سن لو
خامشی کی یہ ہچکیاں سُن لو
میرے لفظوں کی سِسکیاں سن لو
ان پہ رسموں کا بوجھ مت ڈالو
بولتی کیا ہیں لڑکیاں سن لو
در پہ دستک جو تم نہیں دیتے
بین کرتی ہیں کھڑکیاں سن لو
سجا کر چوڑیاں بانہوں میں جاناں
مروں گی میں تیری راہوں میں جاناں
ہوئی مدت ہوئے ہیں خواب رخصت
ہے ویرانی میری آنکھوں میں جاناں
تمہارے نقشِ پا پر جاں لٹائی
ہوئے یوں گم تیری راہوں میں جاناں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
سو کربلا کی طرف اب سفر تو بنتا ہے
کہ بے نواؤں کا کوئی نگر تو بنتا ہے
میں ایسی خاک ہوں جس کو ملا تِرا سایہ
جو خاک میں ہوں ملے ان کا گھر تو بنتا ہے
ستم جنہوں نے کیے آلِ زہراؑ پر مل کر
گلے پہ ان کے بھی کوئی خنجر تو بنتا ہے
خود اپنی آنکھ کے آنسو کے ہمسفر ہوئے ہم
تمہارے دل سے جو نکلے تو دربدر ہوئے ہم
ہم اپنے آپ کی ہمت سے آج باقی ہیں
ہمیں مٹاؤ گے کیسے کہ اب امر ہوئے ہم
ہماری نیند سے پلکیں ہوئی تھیں بھاری بہت
لگی نہ آنکھ کسی پر کہ کم نظر ہوئے ہم
یاد تیری جو سرِ شام رُلا دیتی ہے
یہ تو جلتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتی ہے
کر کے دریا کا دِوانہ کسی پیاسے کو یہ پیاس
ایک ہی لمحے میں موجوں میں بہا دیتی ہے
تم سے ملنے کے فقط ہم کو دِلاسے دے کر
یہ محبت ہمیِں ہر رات سُلا دیتی ہے
صحرا کی آنکھ میں تو گلابوں کا درد ہے
لیکن ہماری آنکھ میں خوابوں کا درد ہے
گرچہ ہے آشیاں کے جھلسنے پہ آنکھ نم
لیکن حقیقتوں میں کتابوں کا درد ہے
پوچھا جو میں نے قیس سے وحشت کا کچھ علاج
کہنے لگا؛ ہمیں تو جوابوں کا درد ہے
یوں ساتوں سُر سماعت میں سما کے رقص کرتے ہیں
تو پیاس اپنی محبت کی بجھا کے رقص کرتے ہیں
جو لڑکا ہو چکا ہے اب محبت سے بھی انکاری
تو ہم بھی اس کے خط سارے جلا کے رقص کرتے ہیں
جو حالِ دل نہیں جانا تو پایا کیا مزا تم نے
جو تیرے عشق میں خود کو مٹا کے رقص کرتے ہیں