Showing posts with label طالب قریشی. Show all posts
Showing posts with label طالب قریشی. Show all posts

Monday, 26 October 2026

زن مریدوں کو ہدایت کسی کی جیب کاٹ لے

(طنزیہ کلام) زن مُریدوں کو ہدایت


کسی کی جیب کاٹ لے

کسی کا بٹوہ پار کر

روڈ پہ اب اکڑ کے چل

سینے کو یُوں اُبھار کر

سر کو ذرا لپیٹ لے

اپنی قمیض اُتار کر

Sunday, 18 February 2024

عروج دیکھ کے سارے زوال بھول گئے

عرُوج دیکھ کے سارے زوال بھُول گئے 

چلے تھے ہنس کی جو، اپنی چال بھول گئے 

اندھیری رات میں روشن کیا تھا جس نے سفر 

ہم ایک جگنو 🌟 کا کسبِ کمال بھول گئے 

وہ لوگ بھی تھے، جو رشتوں کو جوڑ دیتے تھے 

ہم اپنے عہد کی روشن مثال بھول گئے