(طنزیہ کلام) زن مُریدوں کو ہدایت
کسی کی جیب کاٹ لے
کسی کا بٹوہ پار کر
روڈ پہ اب اکڑ کے چل
سینے کو یُوں اُبھار کر
سر کو ذرا لپیٹ لے
اپنی قمیض اُتار کر
(طنزیہ کلام) زن مُریدوں کو ہدایت
کسی کی جیب کاٹ لے
کسی کا بٹوہ پار کر
روڈ پہ اب اکڑ کے چل
سینے کو یُوں اُبھار کر
سر کو ذرا لپیٹ لے
اپنی قمیض اُتار کر
عرُوج دیکھ کے سارے زوال بھُول گئے
چلے تھے ہنس کی جو، اپنی چال بھول گئے
اندھیری رات میں روشن کیا تھا جس نے سفر
ہم ایک جگنو 🌟 کا کسبِ کمال بھول گئے
وہ لوگ بھی تھے، جو رشتوں کو جوڑ دیتے تھے
ہم اپنے عہد کی روشن مثال بھول گئے