Showing posts with label انعام الحق جاوید. Show all posts
Showing posts with label انعام الحق جاوید. Show all posts

Saturday, 21 October 2023

دہر میں کچھ اس طرح حیرانیاں پیدا کرو

 زعفرانی کلام


دہر میں کچھ اس طرح حیرانیاں پیدا کرو

سرو کے پودے پہ بھی ’خُرمانیاں‘ پیدا کرو

یا تو پھر پکڑو نہ بے لائسنس موٹر سائیکل

یا ’پروسیجر‘ میں کچھ آسانیاں پیدا کرو

کچھ تو شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہو سکے

بال بچوں کی جگہ استانیاں پیدا کرو

Tuesday, 17 October 2023

دونوں مکان چپکے سے جوئے میں ہار کے

زعفرانی غزل


 دونوں مکان چپکے سے جوئے میں ہار کے 

"وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے"

مشکل ہے کہ پھر نقد کی جانب نظر کرے 

اک بار جس کو پڑ گئے چسکے ادھار کے

غم روزگار کے بھی کڑے ہیں بہت مگر 

دکھ اس سے بھی زیادہ ہیں بیروزگار کے

Friday, 14 April 2023

اگرچہ بات ہمیشہ زمیں کی کرتا ہے

 اگرچہ بات ہمیشہ زمیں کی کرتا ہے

مگر یقین فقط آسماں میں رکھتا ہے

ہر ایک سمت، ہر اک رُخ پہ راج ہے اس کا

ہوائیں بند کفِ بادباں میں رکھتا ہے

نگاہ جس پہ ذرا مہربان ہو جائے

تمام عمر اسے امتحاں میں رکھتا ہے

Saturday, 31 December 2022

تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا

 تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا

میں کہتا ہوں کب کچھ ہو گا

بس اس آس پہ عمر گزاری

اب کچھ ہو گا، اب کچھ ہو گا

کچھ بھی نہ ہونے پر یہ عالم

کیا کچھ ہو گا، جب کچھ ہو گا

Monday, 1 August 2022

تیرگی میں جل اٹھنا چاندنی میں کھو جانا

 تیرگی میں جل اٹھنا چاندنی میں کھو جانا

کس طرح ہوا ممکن پانیوں پہ سو جانا

عمر بھر کی چاہت کا ایک ہی صلہ پایا

درد نے ہمیں سمجھا ہم نے درد کو جانا

ایک رنگ اپنا ہے رات رت کی چھاؤں میں

چاندنی بھی آئے گی تم بھی آ کے رو جانا

Sunday, 26 June 2022

ہر لفظ کو کاغذ پہ اتارا نہیں جاتا

 ہر لفظ کو کاغذ پہ اُتارا نہیں جاتا​

ہر نام سرِ عام پکارا نہیں جاتا​

ہوتی ہیں محبت میں کئی راز کی باتیں​

ویسے ہی اس کھیل میں ہارا نہیں جاتا​

آنکھوں میں لگایا نہیں جاتا یونہی کاجل​

زلفوں کو بلاوجہ سنوارا نہیں جاتا

Friday, 24 June 2022

تتلیوں کے پاؤں میں پھول پھول زنجیریں

 انکشاف


تتلیوں کے پاؤں میں پھول پھول زنجیریں

خوشبوؤں کی بستی میں خواب خواب تعبیریں

ہے بس ایک ہی خواہش

راگ رنگ دنیا میں

دل کی تنگ دنیا میں

Tuesday, 21 June 2022

سچ سے روگرداں نہیں ہوتا

 اعتراف


حقیقی دشمنی کو دوستی کے مکر پر اور پیرہن پر

خواہ اس میں فائدہ ہی کیوں نہ ہو

ترجیح دیتا ہوں

کہ میری تربیت میں

یا مِرے ماحول میں یا پھر جبلت میں

Tuesday, 14 June 2022

لکھیں گے نہ اس ہار کے اسباب کہاں تک

 لکھیں گے نہ اس ہار کے اسباب کہاں تک

رکھیں گے مِرا دل مِرے احباب کہاں تک

گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں پڑا ہوں

شل ہوں گے نہ آخر مِرے اعصاب کہاں تک

حسرت ہے کہ تعبیر کے ساحل پہ بھی اتروں

دیکھوں گا یونہی روز نئے خواب کہاں تک

Monday, 13 June 2022

دماغوں سے ابھی تک سوچ تاتاری نہیں نکلی

 دماغوں سے ابھی تک سوچ تاتاری نہیں نکلی 

مہذب ہو کے بھی اندر کی خونخواری نہیں نکلی

بدل ڈالے سبھی قانون اک اک کر کے جنگل کے 

شفا تو مل گئی پر جڑ سے بیاری نہیں نکلی 

شہنشاہییں تو ہو گئیں دربار سے باہر 

مگر درباریوں کی خوئے درباری نہیں نکلی

Sunday, 12 June 2022

وہ ایک شخص کہ باعث مرے زوال کا تھا

 وہ ایک شخص کہ باعث مِرے زوال کا تھا

زمیں سے ملتا ہوا رنگ اس کے جال کا تھا

دل و نگاہ میں جھگڑا بھی منفرد تھا مگر

جو فیصلہ ہوا وہ بھی بڑے کمال کا تھا

میں جان دینے کا دعویٰ وہاں پہ کیا کرتا

جو مسئلہ اسے درپیش تھا، مثال کا تھا

Saturday, 11 June 2022

اک بے وفا کے خفیہ پیغام پر ہوا ہے

 اک بے وفا کے خفیہ پیغام پر ہوا ہے

اور فیصلہ بھی خالی الزام پر ہوا ہے

جو ہوا ہے میکدے میں ساقی سے آج جھگڑا

جو پیا نہیں تھا میں نے، اسی جام پر ہوا ہے

خلقِ خدا کی خاطر جو کیا تھا میں نے کھل کر

مِرے ساتھ یہ تماشا اسی کام پر ہوا ہے