زعفرانی کلام
دہر میں کچھ اس طرح حیرانیاں پیدا کرو
سرو کے پودے پہ بھی ’خُرمانیاں‘ پیدا کرو
یا تو پھر پکڑو نہ بے لائسنس موٹر سائیکل
یا ’پروسیجر‘ میں کچھ آسانیاں پیدا کرو
کچھ تو شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہو سکے
بال بچوں کی جگہ استانیاں پیدا کرو
زعفرانی کلام
دہر میں کچھ اس طرح حیرانیاں پیدا کرو
سرو کے پودے پہ بھی ’خُرمانیاں‘ پیدا کرو
یا تو پھر پکڑو نہ بے لائسنس موٹر سائیکل
یا ’پروسیجر‘ میں کچھ آسانیاں پیدا کرو
کچھ تو شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہو سکے
بال بچوں کی جگہ استانیاں پیدا کرو
زعفرانی غزل
دونوں مکان چپکے سے جوئے میں ہار کے
"وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے"
مشکل ہے کہ پھر نقد کی جانب نظر کرے
اک بار جس کو پڑ گئے چسکے ادھار کے
غم روزگار کے بھی کڑے ہیں بہت مگر
دکھ اس سے بھی زیادہ ہیں بیروزگار کے
اگرچہ بات ہمیشہ زمیں کی کرتا ہے
مگر یقین فقط آسماں میں رکھتا ہے
ہر ایک سمت، ہر اک رُخ پہ راج ہے اس کا
ہوائیں بند کفِ بادباں میں رکھتا ہے
نگاہ جس پہ ذرا مہربان ہو جائے
تمام عمر اسے امتحاں میں رکھتا ہے
تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا
میں کہتا ہوں کب کچھ ہو گا
بس اس آس پہ عمر گزاری
اب کچھ ہو گا، اب کچھ ہو گا
کچھ بھی نہ ہونے پر یہ عالم
کیا کچھ ہو گا، جب کچھ ہو گا
تیرگی میں جل اٹھنا چاندنی میں کھو جانا
کس طرح ہوا ممکن پانیوں پہ سو جانا
عمر بھر کی چاہت کا ایک ہی صلہ پایا
درد نے ہمیں سمجھا ہم نے درد کو جانا
ایک رنگ اپنا ہے رات رت کی چھاؤں میں
چاندنی بھی آئے گی تم بھی آ کے رو جانا
ہر لفظ کو کاغذ پہ اُتارا نہیں جاتا
ہر نام سرِ عام پکارا نہیں جاتا
ہوتی ہیں محبت میں کئی راز کی باتیں
ویسے ہی اس کھیل میں ہارا نہیں جاتا
آنکھوں میں لگایا نہیں جاتا یونہی کاجل
زلفوں کو بلاوجہ سنوارا نہیں جاتا
انکشاف
تتلیوں کے پاؤں میں پھول پھول زنجیریں
خوشبوؤں کی بستی میں خواب خواب تعبیریں
ہے بس ایک ہی خواہش
راگ رنگ دنیا میں
دل کی تنگ دنیا میں
اعتراف
حقیقی دشمنی کو دوستی کے مکر پر اور پیرہن پر
خواہ اس میں فائدہ ہی کیوں نہ ہو
ترجیح دیتا ہوں
کہ میری تربیت میں
یا مِرے ماحول میں یا پھر جبلت میں
لکھیں گے نہ اس ہار کے اسباب کہاں تک
رکھیں گے مِرا دل مِرے احباب کہاں تک
گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں پڑا ہوں
شل ہوں گے نہ آخر مِرے اعصاب کہاں تک
حسرت ہے کہ تعبیر کے ساحل پہ بھی اتروں
دیکھوں گا یونہی روز نئے خواب کہاں تک
دماغوں سے ابھی تک سوچ تاتاری نہیں نکلی
مہذب ہو کے بھی اندر کی خونخواری نہیں نکلی
بدل ڈالے سبھی قانون اک اک کر کے جنگل کے
شفا تو مل گئی پر جڑ سے بیاری نہیں نکلی
شہنشاہییں تو ہو گئیں دربار سے باہر
مگر درباریوں کی خوئے درباری نہیں نکلی
وہ ایک شخص کہ باعث مِرے زوال کا تھا
زمیں سے ملتا ہوا رنگ اس کے جال کا تھا
دل و نگاہ میں جھگڑا بھی منفرد تھا مگر
جو فیصلہ ہوا وہ بھی بڑے کمال کا تھا
میں جان دینے کا دعویٰ وہاں پہ کیا کرتا
جو مسئلہ اسے درپیش تھا، مثال کا تھا
اک بے وفا کے خفیہ پیغام پر ہوا ہے
اور فیصلہ بھی خالی الزام پر ہوا ہے
جو ہوا ہے میکدے میں ساقی سے آج جھگڑا
جو پیا نہیں تھا میں نے، اسی جام پر ہوا ہے
خلقِ خدا کی خاطر جو کیا تھا میں نے کھل کر
مِرے ساتھ یہ تماشا اسی کام پر ہوا ہے