آنکھوں کو اشکبار کیا کیا برا کیا
یوں غم کو آشکار کیا کیا برا کیا
اک عمر انتظار کیا کیا برا کیا
وعدے کا اعتبار کیا کیا برا کیا
جب وصل یار زیست کا عنواں نہ بن سکا
غم کو گلے کا ہار کیا کیا برا کیا
آنکھوں کو اشکبار کیا کیا برا کیا
یوں غم کو آشکار کیا کیا برا کیا
اک عمر انتظار کیا کیا برا کیا
وعدے کا اعتبار کیا کیا برا کیا
جب وصل یار زیست کا عنواں نہ بن سکا
غم کو گلے کا ہار کیا کیا برا کیا
تم کو نہیں ہے یاد ابھی کل کی بات ہے
باہم تھا اتحاد ابھی کل کی بات ہے
منزل تھی ایک جس پہ بہم گامزن رہے
بالکل نہ تھا تضاد ابھی کل کی بات ہے
اک روشنی تھی دل میں بہت پاک و صاف تھے
ایسا نہ تھا عناد ابھی کل کی بات ہے
نہ ہم نے آنکھ لڑائی نہ خواب میں دیکھا
مگر تمہیں دلِ خانہ خراب میں دیکھا
تڑپ تڑپ کے تِرے آستاں پہ لے آیا
بڑا اثر دلِ پُر اضطراب میں دیکھا
کبھی نگاہِ کرم ہے کبھی عتاب کی لہر
عجیب لطف تِرے پیچ و تاب میں دیکھا
لیتا ہوں تیرا نام ہر اک نام سے پہلے
کچھ ذکر نہیں کرتا ہوں اس کام سے پہلے
منزل کی صعوبت کبھی آزار نہ ہو گی
میں نام تِرا لیتا ہوں ہر گام سے پہلے
ہے عشق کا آغاز ہی انجام کا حاصل
انجام نظر آتا ہے انجام سے پہلے
اپنے اشکوں کی یہ برسات کسے پیش کروں
شب فرقت کی یہ سوغات کسے پیش کروں
غمِ دوراں کی شکایت غمِ جاناں کا گِلا
اف یہ پیچیدہ خیالات کسے پیش کروں
کون پوچھے گا مِرے حال فسردہ کا مزاج
غمِ دوراں کی حکایات کسے پیش کروں