Showing posts with label فوزیہ شیخ. Show all posts
Showing posts with label فوزیہ شیخ. Show all posts

Sunday, 5 May 2024

جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے

 جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے

کس نے کہا ہے عشق بھی رنگوں کا کھیل ہے

انساں تِرے نصیب کی گندم نہ اُگ سکی

سونا پہاڑ میں، کہیں صحرا میں تیل ہے

وہ دُکھ بھی دے تو کر نہیں سکتی اسے جُدا

لپٹی ہوئی بدن سے یہ آکاس بیل ہے

Tuesday, 12 December 2023

در پاک پر بلا لے مری جاں مدینے والے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


درِ پاک پر بُلا لے مِری جاں مدینے والےﷺ

اسی خاک میں سما لے مری جاں مدینے والے

مِرے سر کا تاج ہے یہ تِرے در کی یہ گدائی

مجھے قدموں میں بٹھا لے مری جاں مدینے والے

یہ بہشت کا جو ٹکڑا تِرے گھر کے سامنے ہے

مِرا گھر یہیں بسا لے، مری جاں مدینے والے

Tuesday, 7 November 2023

اتنی بلندیوں سے زمیں پر گرا دیا

 اتنی بلندیوں سے زمیں پر گِرا دیا

احسان ٹھوکروں کا جو چلنا سِکھا دیا

شاید کسی پڑاؤ میں سانسیں بھی چھوڑ دوں

اس بار زندگی کے سفر نے تھکا دیا

اک شخص کے نصیب پہ افسوس ہے بہت

پتھر سمجھ کے قیمتی ہیرا گنوا دیا

Wednesday, 27 September 2023

کتنے خواب پڑے ہوتے ہیں آنکھوں کی الماری میں

 کتنے خواب پڑے ہوتے ہیں آنکھوں کی الماری میں

سارے اک دن کھو جاتے ہیں عورت سے گھر داری میں

اماں بابا کے سائے میں جو گھر کی شہزادی تھی

سپنے بیچنے آئی ہے وہ مجبوری ناداری میں

سچ کہتے ہیں خوابوں کی تعبیریں اُلٹی ہوتی ہیں

مجھ کو خواب میں ملنے والے چھوڑ گئے بیداری میں

Friday, 4 August 2023

ملنے کی کوئی آس نہ شدت ہوا کرے

 مِلنے کی کوئی آس نہ شِدت ہُوا کرے

ایسی محبتوں پر لعنت ہوا کرے

ہم مانتے نہیں تِرے لفظوں کے کرب کو

پیلی ذرا جُدائی میں رنگت ہوا کرے

کوئی سکیل ہو، کوئی پیما نہ کاش ہو

جس میں بیان پیار کی وُقعت ہوا کرے

Tuesday, 25 April 2023

گناہوں سے مرا دامن بچانا یا رسول اللّه

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


گناہوں سے مِرا دامن بچانا یا رسول اللّهﷺ

مِری ہستی کو پستی سے اٹھانا یا رسول اللّهﷺ

میں روز و شب تمنائے زیارت میں تڑپتی ہوں

مِری سوئی ہوئی قسمت جگانا یا رسول اللّهﷺ

ہو عالم جب نزع کا اور دنیا چھوڑ کر جاؤں

مجھے توحید کا کلمہ پڑھانا یا رسول اللّهﷺ

Friday, 31 March 2023

یہ جو باقی ہے محبت کا حوالہ پاگل

 یہ جو باقی ہے محبت کا حوالہ پاگل

یہ حوالہ مِری راتوں کا اجالا پاگل

اتنا آساں نہیں دل سے بُھلانا تجھ کو

کیسے پُھوٹے گا بھلا آنکھ کا چھالا پاگل

لوگ بچھڑے ہیں جو مخلص تھے دعاؤں جیسے

ایسے نقصان کا مشکل ہے ازالہ پاگل

Thursday, 29 December 2022

سب جانتی ہوں کرب ہے جو انتظار میں

 سب جانتی ہوں کرب ہے جو انتظار میں

گزرے ہیں ماہ و سال ہی لمبی قطار میں

خاموش رہ کے ظلم کی حامی نہ بن سکی

شامل ہوں کم سے کم کسی چیخ و پکار میں

ہم آخری گلاب ہیں دنیا کی شاخ پر

ترسیں گے ہم کو لوگ یہ اگلی بہار میں

Monday, 5 December 2022

جس کو دیکھو کال یا تصویر کے چکر میں ہے

 جس کو دیکھو کال یا تصویر کے چکر میں ہے

عشق بھی تعویذ والے پیر کے چکر میں ہے

ہوش میں مجنوں ملے گا جھنگ کے بازار میں

چھوڑ کر لیلیٰ کو اب وہ ہیر کے چکر میں ہے

اتنا بھی آساں نہیں ہے دل کسی کا جیتنا

پوچھ لے انڈیا سے جو کشمیر کے چکر میں ہے

Friday, 30 September 2022

ان کے چہروں پہ مسافت کے نشاں ہوتے ہیں

 ان کے چہروں پہ مسافت کے نشاں ہوتے ہیں

جن کی قسمت میں کرائے کے مکاں ہوتے ہیں

وقت کے ساتھ اترتی ہیں نقابیں ساری

ہوتے ہوتے ہی کئی راز عیاں ہوتے ہیں

تم نے سوچا ہے کبھی تم سے بچھڑ نے والے

کیسے جلتے ہیں، شب و روز دھواں ہوتے ہیں

Saturday, 17 September 2022

یا شفیع الامم اب نگاہِ کرم دیکھ امت کی کشتی ہے منجدھار میں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یا شفیع الاممﷺ، اب نگاہِ کرم 

دیکھ اُمت کی کشتی ہے منجدھار میں 

چار سُو غم کے طوفاں نے گھیرا ہوا 

دل لرزتے ہوئے، ہاتھ جوڑے ہوئے 

آئے چوکھٹ پہ نادم گنہگار ہیں

کیسا پانی فلک سے برسنے لگا 

Monday, 27 June 2022

اک دیا سا کف امید پہ دھر جاتے ہو

 اک دِیا سا کفِ امید پہ دھر جاتے ہو

خواب بن کر چلے آتے ہو گزر جاتے ہو 

تم نے سمجھا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرے دکھ کو

تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مر جاتے ہو

تمہیں اندازہ نہیں آگ کے پھیلاؤ کا

روز جنگل کی طرف لے کے شرر جاتے ہو

Tuesday, 3 May 2022

آپ کے دل سے اتر جاتے کنارا کرتے

 آپ کے دل سے اُتر جاتے، کنارہ کرتے

آپ مبہم سا اگر ایک اشارہ کرتے

ہم نے دیکھی ہے جدائی میں وہ لذت کہ ہمیں

کرنا پڑتا تو یہی ہجر دوبارہ کرتے

کس اذیت میں ہمیں آپ نے چھوڑا تنہا

دوست ہوتے تو بھلا ایسے کنارہ کرتے

Monday, 2 May 2022

کبھی آنکھوں کے کوزوں میں سمندر دیکھنے آؤ

 کبھی آنکھوں کے کوزوں میں سمندر دیکھنے آؤ

جو برپا ہے مِرے دل میں وہ محشر دیکھنے آؤ

تمہیں بارش کے موسم سے بلا کا عشق ہوتا تھا

برستی آنکھ میں ساون کا منظر دیکھنے آؤ

وہ جس پاگل کا اک پل بھی تمہارے بن نہ کٹتا تھا

گزارا کس طرح اس نے دسمبر دیکھنے آؤ

Sunday, 1 May 2022

کبھی تو واپس پلٹ کے دیکھو

 کبھی تو واپس پلٹ کے دیکھو

ہماری پلکوں پہ ٹھہرے آنسو سے حال پوچھو

شبِ الم کی مسافتوں کا

دھواں دھواں دل کی حسرتوں کا

کبھی تو پوچھو کہ کیسے گزرے

وہ سارے پل جب ہماری آنکھیں

Friday, 29 April 2022

رکھا ہے کائنات میں کیا آپ کے سوا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


رکھا ہے کائنات میں کیا آپﷺ کے سوا

ہے کون اس جہاں میں مِرا آپﷺ کے سوا

واپس پلٹ کے آ گئی بابِ قبول سے

جائے گا لے کے کون دعا آپﷺ کے سوا

ہنگامِ فتحِ مکہ کِیا سب کو ہی معاف

بخشی ہے یوں کسی نے خطا آپﷺ کے سوا

Wednesday, 27 April 2022

آکاش سے گواہی تو لانے سے میں رہی

 آکاش سے گواہی تو لانے سے میں رہی

شجرہ اٹھا کے سر پہ سجانے سے میں رہی

جتنا کسی میں ظرف تھا ویسا ہی کہہ دیا

قسموں سے آبرو تو بچانے سے میں رہی

آنکھوں سے جس کو درد یہ پڑھنا نہ آ سکا

دل چیر کے تو اس کو دِکھانے سے میں رہی

Wednesday, 20 April 2022

ہر عیب چھپاتے ہیں قباؤں کی طرح ہیں

 ہر عیب چھپاتے ہیں قباؤں کی طرح ہیں

مخلص ہیں مِرے یار وفاؤں کی طرح ہیں

کچھ لوگ بچھڑ کر بھی مِرے ساتھ رہے ہیں

ہونٹوں پہ کئی نام دعاؤں کی طرح ہیں

چہرے سے ذرا سخت نظر آتے ہیں تم کو

ہم لوگ تو معصوم دعاؤں کی طرح ہیں

Friday, 11 February 2022

لفظوں کو ان کی نعت سے ماہ و نجوم کر

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


فوزی قلم اٹھا ذرا کاغذ کو چُوم کر

لفظوں کو انؐ کی نعت سے، ماہ و نجوم کر

ہر غم کو بھولنے کا ہے نسخۂ کیمیا

پڑھتے رہیں درود سدا جھوم جھوم کر

جاتی نہیں ہے تشنگی بھرتا نہیں ہے دل

چوکھٹ درِ حضورﷺ کی سو بار چوم کر

Tuesday, 17 August 2021

یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں

 یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں

پاؤں صحرا کے سمندر سے ہی نم ہوتے ہیں

 پھرنا پڑتا ہے کئی بوجھ اضافی لے کر

ہم سے لوگوں کو زمانے کے بھی غم ہوتے ہیں

اب تو لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے لیے

تجربے عمر ریاضت سبھی کم ہوتے ہیں