جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے
کس نے کہا ہے عشق بھی رنگوں کا کھیل ہے
انساں تِرے نصیب کی گندم نہ اُگ سکی
سونا پہاڑ میں، کہیں صحرا میں تیل ہے
وہ دُکھ بھی دے تو کر نہیں سکتی اسے جُدا
لپٹی ہوئی بدن سے یہ آکاس بیل ہے
جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے
کس نے کہا ہے عشق بھی رنگوں کا کھیل ہے
انساں تِرے نصیب کی گندم نہ اُگ سکی
سونا پہاڑ میں، کہیں صحرا میں تیل ہے
وہ دُکھ بھی دے تو کر نہیں سکتی اسے جُدا
لپٹی ہوئی بدن سے یہ آکاس بیل ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درِ پاک پر بُلا لے مِری جاں مدینے والےﷺ
اسی خاک میں سما لے مری جاں مدینے والے
مِرے سر کا تاج ہے یہ تِرے در کی یہ گدائی
مجھے قدموں میں بٹھا لے مری جاں مدینے والے
یہ بہشت کا جو ٹکڑا تِرے گھر کے سامنے ہے
مِرا گھر یہیں بسا لے، مری جاں مدینے والے
اتنی بلندیوں سے زمیں پر گِرا دیا
احسان ٹھوکروں کا جو چلنا سِکھا دیا
شاید کسی پڑاؤ میں سانسیں بھی چھوڑ دوں
اس بار زندگی کے سفر نے تھکا دیا
اک شخص کے نصیب پہ افسوس ہے بہت
پتھر سمجھ کے قیمتی ہیرا گنوا دیا
کتنے خواب پڑے ہوتے ہیں آنکھوں کی الماری میں
سارے اک دن کھو جاتے ہیں عورت سے گھر داری میں
اماں بابا کے سائے میں جو گھر کی شہزادی تھی
سپنے بیچنے آئی ہے وہ مجبوری ناداری میں
سچ کہتے ہیں خوابوں کی تعبیریں اُلٹی ہوتی ہیں
مجھ کو خواب میں ملنے والے چھوڑ گئے بیداری میں
مِلنے کی کوئی آس نہ شِدت ہُوا کرے
ایسی محبتوں پر لعنت ہوا کرے
ہم مانتے نہیں تِرے لفظوں کے کرب کو
پیلی ذرا جُدائی میں رنگت ہوا کرے
کوئی سکیل ہو، کوئی پیما نہ کاش ہو
جس میں بیان پیار کی وُقعت ہوا کرے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
گناہوں سے مِرا دامن بچانا یا رسول اللّهﷺ
مِری ہستی کو پستی سے اٹھانا یا رسول اللّهﷺ
میں روز و شب تمنائے زیارت میں تڑپتی ہوں
مِری سوئی ہوئی قسمت جگانا یا رسول اللّهﷺ
ہو عالم جب نزع کا اور دنیا چھوڑ کر جاؤں
مجھے توحید کا کلمہ پڑھانا یا رسول اللّهﷺ
یہ جو باقی ہے محبت کا حوالہ پاگل
یہ حوالہ مِری راتوں کا اجالا پاگل
اتنا آساں نہیں دل سے بُھلانا تجھ کو
کیسے پُھوٹے گا بھلا آنکھ کا چھالا پاگل
لوگ بچھڑے ہیں جو مخلص تھے دعاؤں جیسے
ایسے نقصان کا مشکل ہے ازالہ پاگل
سب جانتی ہوں کرب ہے جو انتظار میں
گزرے ہیں ماہ و سال ہی لمبی قطار میں
خاموش رہ کے ظلم کی حامی نہ بن سکی
شامل ہوں کم سے کم کسی چیخ و پکار میں
ہم آخری گلاب ہیں دنیا کی شاخ پر
ترسیں گے ہم کو لوگ یہ اگلی بہار میں
جس کو دیکھو کال یا تصویر کے چکر میں ہے
عشق بھی تعویذ والے پیر کے چکر میں ہے
ہوش میں مجنوں ملے گا جھنگ کے بازار میں
چھوڑ کر لیلیٰ کو اب وہ ہیر کے چکر میں ہے
اتنا بھی آساں نہیں ہے دل کسی کا جیتنا
پوچھ لے انڈیا سے جو کشمیر کے چکر میں ہے
ان کے چہروں پہ مسافت کے نشاں ہوتے ہیں
جن کی قسمت میں کرائے کے مکاں ہوتے ہیں
وقت کے ساتھ اترتی ہیں نقابیں ساری
ہوتے ہوتے ہی کئی راز عیاں ہوتے ہیں
تم نے سوچا ہے کبھی تم سے بچھڑ نے والے
کیسے جلتے ہیں، شب و روز دھواں ہوتے ہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یا شفیع الاممﷺ، اب نگاہِ کرم
دیکھ اُمت کی کشتی ہے منجدھار میں
چار سُو غم کے طوفاں نے گھیرا ہوا
دل لرزتے ہوئے، ہاتھ جوڑے ہوئے
آئے چوکھٹ پہ نادم گنہگار ہیں
کیسا پانی فلک سے برسنے لگا
اک دِیا سا کفِ امید پہ دھر جاتے ہو
خواب بن کر چلے آتے ہو گزر جاتے ہو
تم نے سمجھا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرے دکھ کو
تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مر جاتے ہو
تمہیں اندازہ نہیں آگ کے پھیلاؤ کا
روز جنگل کی طرف لے کے شرر جاتے ہو
آپ کے دل سے اُتر جاتے، کنارہ کرتے
آپ مبہم سا اگر ایک اشارہ کرتے
ہم نے دیکھی ہے جدائی میں وہ لذت کہ ہمیں
کرنا پڑتا تو یہی ہجر دوبارہ کرتے
کس اذیت میں ہمیں آپ نے چھوڑا تنہا
دوست ہوتے تو بھلا ایسے کنارہ کرتے
کبھی آنکھوں کے کوزوں میں سمندر دیکھنے آؤ
جو برپا ہے مِرے دل میں وہ محشر دیکھنے آؤ
تمہیں بارش کے موسم سے بلا کا عشق ہوتا تھا
برستی آنکھ میں ساون کا منظر دیکھنے آؤ
وہ جس پاگل کا اک پل بھی تمہارے بن نہ کٹتا تھا
گزارا کس طرح اس نے دسمبر دیکھنے آؤ
کبھی تو واپس پلٹ کے دیکھو
ہماری پلکوں پہ ٹھہرے آنسو سے حال پوچھو
شبِ الم کی مسافتوں کا
دھواں دھواں دل کی حسرتوں کا
کبھی تو پوچھو کہ کیسے گزرے
وہ سارے پل جب ہماری آنکھیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رکھا ہے کائنات میں کیا آپﷺ کے سوا
ہے کون اس جہاں میں مِرا آپﷺ کے سوا
واپس پلٹ کے آ گئی بابِ قبول سے
جائے گا لے کے کون دعا آپﷺ کے سوا
ہنگامِ فتحِ مکہ کِیا سب کو ہی معاف
بخشی ہے یوں کسی نے خطا آپﷺ کے سوا
آکاش سے گواہی تو لانے سے میں رہی
شجرہ اٹھا کے سر پہ سجانے سے میں رہی
جتنا کسی میں ظرف تھا ویسا ہی کہہ دیا
قسموں سے آبرو تو بچانے سے میں رہی
آنکھوں سے جس کو درد یہ پڑھنا نہ آ سکا
دل چیر کے تو اس کو دِکھانے سے میں رہی
ہر عیب چھپاتے ہیں قباؤں کی طرح ہیں
مخلص ہیں مِرے یار وفاؤں کی طرح ہیں
کچھ لوگ بچھڑ کر بھی مِرے ساتھ رہے ہیں
ہونٹوں پہ کئی نام دعاؤں کی طرح ہیں
چہرے سے ذرا سخت نظر آتے ہیں تم کو
ہم لوگ تو معصوم دعاؤں کی طرح ہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فوزی قلم اٹھا ذرا کاغذ کو چُوم کر
لفظوں کو انؐ کی نعت سے، ماہ و نجوم کر
ہر غم کو بھولنے کا ہے نسخۂ کیمیا
پڑھتے رہیں درود سدا جھوم جھوم کر
جاتی نہیں ہے تشنگی بھرتا نہیں ہے دل
چوکھٹ درِ حضورﷺ کی سو بار چوم کر
یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں
پاؤں صحرا کے سمندر سے ہی نم ہوتے ہیں
پھرنا پڑتا ہے کئی بوجھ اضافی لے کر
ہم سے لوگوں کو زمانے کے بھی غم ہوتے ہیں
اب تو لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے لیے
تجربے عمر ریاضت سبھی کم ہوتے ہیں