یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں
پاؤں صحرا کے سمندر سے ہی نم ہوتے ہیں
پھرنا پڑتا ہے کئی بوجھ اضافی لے کر
ہم سے لوگوں کو زمانے کے بھی غم ہوتے ہیں
اب تو لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے لیے
تجربے عمر ریاضت سبھی کم ہوتے ہیں
تب کہیں جا کے چھلکتا ہے یہ پیمانۂ دل
کتنے دریا ہیں سمندر میں جو ضم ہوتے ہیں
ہم شکنجے میں روایات کے جینے والے
ہم پہ غیرت کے حوالے سے ستم ہوتے ہیں
کھینچ لاتی ہے سرِ شام کشش بچوں کی
گھر کی دہلیز سے جب دور قدم ہوتے ہیں
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment