Showing posts with label فرحان وارثی. Show all posts
Showing posts with label فرحان وارثی. Show all posts

Saturday, 13 November 2021

قد کے لحاظ سے تو سبھی آسمان تھے

 قد کے لحاظ سے تو سبھی آسمان تھے

ہم جیسے با کمال مگر بے نشان تھے

جیتے نہ تھے گزارتے رہتے تھے روز و شب

سانسیں نہ تھیں قدم بہ قدم امتحان تھے

تنہا نہتے لڑتے رہے زندگی کی جنگ

لشکر تھا ساتھ اور نہ تیر و کمان تھے

Saturday, 6 November 2021

شبنم شبنم روتا ہے دریا ہو کر پیاسا ہے

 شبنم شبنم روتا ہے 

دریا ہو کر پیاسا ہے 

نفرت کا احساس ہوا 

جب جب شیشہ دیکھا ہے 

میں بھی کم کم ملتا ہوں 

وہ بھی کٹ کٹ جاتا ہے

Wednesday, 27 October 2021

یہ دنیا دائمی گھر ہے نہیں ہے

 یہ دنیا دائمی گھر ہے؟ نہیں ہے

پھر اس کے بعد محشر ہے نہیں ہے

نہیں سایہ سراپا نور، یعنی

تذبذب ہے وہ پیکر ہے نہیں ہے

بصارت سے ضروری ہے بصیرت

نگاہوں میں جو منظر ہے نہیں ہے

Monday, 25 October 2021

اپنے بارے میں سوچ لیتے ہیں

 اپنے بارے میں سوچ لیتے ہیں

یعنی اب ہم بہت اکیلے ہیں

خوف آتا ہے بھیڑ سے جب بھی

گھر کی ویرانیوں سے ڈرتے ہیں

میرے ماضی کی بند مٹھی میں

تیری یادوں کے چند سکے ہیں

Sunday, 24 October 2021

عمومی سوچ سے بڑھ کر بھی کچھ فنکار رکھتا ہے

 عمومی سوچ سے بڑھ کر بھی کچھ فنکار رکھتا ہے

وسیلہ کوئی بھی ہو، قوتِ اظہار رکھتا ہے

مِرا یہ دل بظاہر مصلحت اندیش ہے، لیکن

انا حاوی اگر ہو، جرأتِ انکار رکھتا ہے

رعایا خود کو کتنی بے اماں محسوس کرتی ہے

عداوت شاہ سے جب بھی سپہ سالار رکھتا ہے

Tuesday, 17 August 2021

دن ویراں شب بوجھل لکھ

 دن ویراں شب بوجھل لکھ

غزلیں، سگریٹ، بوتل لکھ

گمناموں کی نگری میں

شہرت کو تو پاگل لکھ

صدیوں جیسا اس کے بن

لمحہ لمحہ پل پل لکھ

Saturday, 14 August 2021

مکان چہرے دکان چہرے

 مکان چہرے دُکان چہرے

ہماری بستی کی جان چہرے

اُجاڑ نسلوں کے نوحہ گر ہیں

خزاں رسیدہ جوان چہرے

دھواں دھواں منظروں کا حصہ

خیال، خوشبو، گمان چہرے

Sunday, 11 July 2021

ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے

 ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے

آبائی رکھ رکھاؤ کے قصے بھی جل گئے

جسموں میں کھولتا ہی رہا آگہی کا خون

تپتے ہوئے خیال میں لہجے بھی جل گئے

گہری ریاضتوں سے میں سورج نما ہوا

پھر یوں ہوا کہ خون کے رشتے بھی چل گئے