قد کے لحاظ سے تو سبھی آسمان تھے
ہم جیسے با کمال مگر بے نشان تھے
جیتے نہ تھے گزارتے رہتے تھے روز و شب
سانسیں نہ تھیں قدم بہ قدم امتحان تھے
تنہا نہتے لڑتے رہے زندگی کی جنگ
لشکر تھا ساتھ اور نہ تیر و کمان تھے
قد کے لحاظ سے تو سبھی آسمان تھے
ہم جیسے با کمال مگر بے نشان تھے
جیتے نہ تھے گزارتے رہتے تھے روز و شب
سانسیں نہ تھیں قدم بہ قدم امتحان تھے
تنہا نہتے لڑتے رہے زندگی کی جنگ
لشکر تھا ساتھ اور نہ تیر و کمان تھے
شبنم شبنم روتا ہے
دریا ہو کر پیاسا ہے
نفرت کا احساس ہوا
جب جب شیشہ دیکھا ہے
میں بھی کم کم ملتا ہوں
وہ بھی کٹ کٹ جاتا ہے
یہ دنیا دائمی گھر ہے؟ نہیں ہے
پھر اس کے بعد محشر ہے نہیں ہے
نہیں سایہ سراپا نور، یعنی
تذبذب ہے وہ پیکر ہے نہیں ہے
بصارت سے ضروری ہے بصیرت
نگاہوں میں جو منظر ہے نہیں ہے
اپنے بارے میں سوچ لیتے ہیں
یعنی اب ہم بہت اکیلے ہیں
خوف آتا ہے بھیڑ سے جب بھی
گھر کی ویرانیوں سے ڈرتے ہیں
میرے ماضی کی بند مٹھی میں
تیری یادوں کے چند سکے ہیں
عمومی سوچ سے بڑھ کر بھی کچھ فنکار رکھتا ہے
وسیلہ کوئی بھی ہو، قوتِ اظہار رکھتا ہے
مِرا یہ دل بظاہر مصلحت اندیش ہے، لیکن
انا حاوی اگر ہو، جرأتِ انکار رکھتا ہے
رعایا خود کو کتنی بے اماں محسوس کرتی ہے
عداوت شاہ سے جب بھی سپہ سالار رکھتا ہے
دن ویراں شب بوجھل لکھ
غزلیں، سگریٹ، بوتل لکھ
گمناموں کی نگری میں
شہرت کو تو پاگل لکھ
صدیوں جیسا اس کے بن
لمحہ لمحہ پل پل لکھ
مکان چہرے دُکان چہرے
ہماری بستی کی جان چہرے
اُجاڑ نسلوں کے نوحہ گر ہیں
خزاں رسیدہ جوان چہرے
دھواں دھواں منظروں کا حصہ
خیال، خوشبو، گمان چہرے
ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے
آبائی رکھ رکھاؤ کے قصے بھی جل گئے
جسموں میں کھولتا ہی رہا آگہی کا خون
تپتے ہوئے خیال میں لہجے بھی جل گئے
گہری ریاضتوں سے میں سورج نما ہوا
پھر یوں ہوا کہ خون کے رشتے بھی چل گئے