نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں
دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں
نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں
یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں
لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی
میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں
سر محشر اگر پرسش ہوئی مجھ سے تو کہہ دوں گا
سراپا جرم ہوں اشک ندامت لے کے آیا ہوں
مٹا کر ہستئ ناکام کو راہ محبت میں
زمانے کے لیے اک درس عبرت لے کے آیا ہوں
تلاش ساحل مقصد جہاں بے سود ہوتی ہے
میں ان موجوں میں اک پیغام راحت لے کے آیا ہوں
نسیم شاہجہانپوری
No comments:
Post a Comment