Thursday, 10 September 2026

نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں

 نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں 

دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں

نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں 

یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں

لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی 

میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں

سر محشر اگر پرسش ہوئی مجھ سے تو کہہ دوں گا 

سراپا جرم ہوں اشک ندامت لے کے آیا ہوں

مٹا کر ہستئ ناکام کو راہ محبت میں 

زمانے کے لیے اک درس عبرت لے کے آیا ہوں

تلاش ساحل مقصد جہاں بے سود ہوتی ہے 

میں ان موجوں میں اک پیغام راحت لے کے آیا ہوں

 

نسیم شاہجہانپوری

No comments:

Post a Comment