Thursday, 10 September 2026

مرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

 مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے

وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج

وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے

صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں

چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے

وہ مٹی جس سے ساری عمر ہم بچ کر گُزرتے ہیں

اسی کو وہ ہمارے جسم کے پوشاک کرتا ہے

وہی ہے جو ملاتا ہے ہمارا کِبر مٹی میں

وہی کیڑے مکوڑوں کی ہمیں خوراک کرتا ہے


ندیم عرشی

No comments:

Post a Comment