عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حامی و حاجت روا کوئی نہیں
جُز تِرے مُشکل کُشا کوئی نہیں
ہر صفت میں اپنی یکتا کون ہے
تیرے جیسا دوسرا کوئی نہیں
دل کی کیفیّت بتاؤں کیا تجھے
تجھ سے بہتر جانتا کوئی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حامی و حاجت روا کوئی نہیں
جُز تِرے مُشکل کُشا کوئی نہیں
ہر صفت میں اپنی یکتا کون ہے
تیرے جیسا دوسرا کوئی نہیں
دل کی کیفیّت بتاؤں کیا تجھے
تجھ سے بہتر جانتا کوئی نہیں
صد رنگ ترے جبر کی لذت ہی الگ ہے
گزری ہے جو دل پر وہ قیامت ہی الگ ہے
لے جائے جہاں چاہے ہوا ہم کو اُڑا کر
ٹوٹے ہوئے پتوں کی حکایت ہی الگ ہے
پردیس میں رہ کر کوئی کیا پانو جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اُتار دیکھ
ہر شے میں کار سازیِ پروردگار دیکھ
کس کے اشارے پر یہ دھڑکتا ہے تیرا دل
کس کا ہے جسم و جاں پہ ترے اختیار دیکھ
کس نے بچھائی فرشِ زمیں دیکھ اے نگاہ
کس نے اُگائے اتنے حسیں کوہسار دیکھ
زعفرانی غزل
شادیاں کر چکا ہوں تین سے میں
اب ہوں خائف ہر اک حسین سے میں
کس قدر کانپتا ہوں بیوی سے
کہہ نہیں سکتا کچھ یقین سے میں
کچھ تو پہنچے گا آسماں تک بھی
پھینکتا ہوں بہت زمین سے میں
ان کو آتی ہے ہنسی یار مِرے غصے پر
چلتی رہتی ہے یہ تلوار مرے غصے پر
ان کے غصے پہ مجھے بھی کبھی آ جائے ہنسی
وہ بھی غصہ کریں اک بار مرے غصے پر
جو ستم ڈھائے گئے ان کا کہیں ذکر نہیں
اور برہم ہیں سب اخبار مرے غصے پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خواہش نہیں ذرا بھی مجھے نام وام کی
میرے قلم کو پیاس ہے کوثر کے جام کی
یہ دل کہ جس میں پیار بسا ہے حضورؐ کا
اِک چیز بس یہی ہے مِرے پاس کام کی
پیغامِ شاہِ دیںﷺ کی محتاج کائنات
رحمت ہے سب کے واسطے اُنؐ کے پیام کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہی جو خالق جہاں کا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے
جو روح جسموں میں ڈالتا ہے وہی خدا ہے، وہی خدا ہے
وہ جس کی حِکمت کی سرفرازی، وہ جس کی قدرت کی کارسازی
ہر ایک ذرّہ میں رونما ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے
وہ بے حقیقت سا ایک دانہ، جو آب و گِل میں تھا مِٹنے والا
جو اس میں کونپل نکالتا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے
دن میں آنے لگے ہیں خواب مجھے
اس نے بھیجا ہے اک گلاب مجھے
گفتگو سن رہا ہوں آنکھوں کی
چاہیۓ آپ کا جواب مجھے
وقت فرصت کا انتظار کروں
اتنی فرصت کہاں جناب مجھے
چاہتوں کا سلسلہ ہے مستقل
سبز موسم کرب کا ہے مستقل
کیا بتاؤں دل میں کس کی یاد کا
ایک کانٹا چبھ رہا ہے مستقل
بڑھ رہا ہے مستقل قحطِ شجر
زہر آلودہ فضا ہے مستقل
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اُتار دیکھ
ہر شے میں کارسازئ پروردگار دیکھ
کس کے اشارے پر یہ دھڑکتا ہے تیرا دل
کس کا ہے جسم و جاں پہ تِرے اختیار دیکھ
کس نے بچھائی فرشِ زمیں دیکھ اے نگاہ
کس نے اُگائے اتنے حسیں کوہسار دیکھ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
چومیں گے لبِ دل سے طیبہ کی زمیں جا کر
آئے گا قرار اب تو اس دل کو وہیں جا کر
وہ ارض کہ جو رشکِ فردوسِ بریں ٹھہری
دیکھیں گے زہے قسمت ہم بھی وہ زمیں جا کر
آنکھیں ہیں کہ شرمندہ، دل ہے کہ بڑا نادم
کس کس کو سنبھالوں گا آقاﷺ کے قریں جا کر
چشمِ تر کو زبان کر بیٹھے
حال دل کا بیان کر بیٹھے
تم نے رسماً مجھے سلام کیا
لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے
ایک پَل بھی کہاں سکون ملا
آپ کو جب سے جان کر بیٹھے
جب ادائے حسن میں ظالم ادائیں آ گئیں
اس دلِ بے تاب کے سر پر بلائیں آ گئیں
دل جلاتی اور کرتی سائیں سائیں آ گئیں
پھر تمہاری یاد کی پاگل ہوائیں آ گئیں
دل ہی دل میں کوئی دل سے یاد کرتا ہے مجھے
دل سے دل تک دل دھڑکنے کی صدائیں آ گئیں
میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں نہ تیرے گھر کی طرف
نگاہیں خود چلی جاتی ہیں بام و در کی طرف
نگاہِ قلب سے دیکھو مِری نظر کی طرف
چلا ہے ڈوبنے ہر خواب چشمِ تر کی طرف
کسی کا دھیان نہ ہو سختیِ سفر کی طرف
ہر ایک شخص مخاطب ہو راہبر کی طرف