Showing posts with label افتخار راغب. Show all posts
Showing posts with label افتخار راغب. Show all posts

Tuesday, 23 July 2024

حامی و حاجت روا کوئی نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حامی و حاجت روا کوئی نہیں

جُز تِرے مُشکل کُشا کوئی نہیں

ہر صفت میں اپنی یکتا کون ہے

تیرے جیسا دوسرا کوئی نہیں

دل کی کیفیّت بتاؤں کیا تجھے

تجھ سے بہتر جانتا کوئی نہیں

Monday, 22 July 2024

صد رنگ ترے جبر کی لذت ہی الگ ہے

 صد رنگ ترے جبر کی لذت ہی الگ ہے

گزری ہے جو دل پر وہ قیامت ہی الگ ہے

لے جائے جہاں چاہے ہوا ہم کو اُڑا کر

ٹوٹے ہوئے پتوں کی حکایت ہی الگ ہے

پردیس میں رہ کر کوئی کیا پانو جمائے

گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے

Tuesday, 28 May 2024

آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اتار دیکھ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اُتار دیکھ

ہر شے میں کار سازیِ پروردگار دیکھ

کس کے اشارے پر یہ دھڑکتا ہے تیرا دل

کس کا ہے جسم و جاں پہ ترے اختیار دیکھ

کس نے بچھائی فرشِ زمیں دیکھ اے نگاہ

کس نے اُگائے اتنے حسیں کوہسار دیکھ

Sunday, 31 December 2023

شادیاں کر چکا ہوں تین سے میں

 زعفرانی غزل


شادیاں کر چکا ہوں تین سے میں

اب ہوں خائف ہر اک حسین سے میں

کس قدر کانپتا ہوں بیوی سے

کہہ نہیں سکتا کچھ یقین سے میں

کچھ تو پہنچے گا آسماں تک بھی

پھینکتا ہوں بہت زمین سے میں

Saturday, 28 October 2023

ان کو آتی ہے ہنسی یار مرے غصے پر

 ان کو آتی ہے ہنسی یار مِرے غصے پر

چلتی رہتی ہے یہ تلوار مرے غصے پر

ان کے غصے پہ مجھے بھی کبھی آ جائے ہنسی

وہ بھی غصہ کریں اک بار مرے غصے پر

جو ستم ڈھائے گئے ان کا کہیں ذکر نہیں

اور برہم ہیں سب اخبار مرے غصے پر

Friday, 13 October 2023

خواہش نہیں ذرا بھی مجھے نام وام کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خواہش نہیں ذرا بھی مجھے نام وام کی

میرے قلم کو پیاس ہے کوثر کے جام کی

یہ دل کہ جس میں‌ پیار بسا ہے حضورؐ کا

اِک چیز بس یہی ہے مِرے پاس کام کی

پیغامِ شاہِ دیںﷺ کی محتاج کائنات

رحمت ہے سب کے واسطے اُنؐ کے پیام کی

Thursday, 12 October 2023

وہی جو خالق جہاں کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہی جو خالق جہاں کا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

جو روح جسموں میں ڈالتا ہے وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

وہ جس کی حِکمت کی سرفرازی، وہ جس کی قدرت کی کارسازی

ہر ایک ذرّہ میں رونما ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

وہ بے حقیقت سا ایک دانہ، جو آب و گِل میں تھا مِٹنے والا

جو اس میں کونپل نکالتا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

Thursday, 6 April 2023

دن میں آنے لگے ہیں خواب مجھے

 دن میں آنے لگے ہیں خواب مجھے

اس نے بھیجا ہے اک گلاب مجھے

گفتگو سن رہا ہوں آنکھوں کی

چاہیۓ آپ کا جواب مجھے

وقت فرصت کا انتظار کروں

اتنی فرصت کہاں جناب مجھے

Friday, 10 February 2023

چاہتوں کا سلسلہ ہے مستقل

 چاہتوں کا سلسلہ ہے مستقل

سبز موسم کرب کا ہے مستقل

کیا بتاؤں دل میں کس کی یاد کا

ایک کانٹا چبھ رہا ہے مستقل

بڑھ رہا ہے مستقل قحطِ شجر

زہر آلودہ فضا ہے مستقل

Friday, 15 July 2022

آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اتار دیکھ

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اُتار دیکھ

ہر شے میں کارسازئ پروردگار دیکھ

کس کے اشارے پر یہ دھڑکتا ہے تیرا دل

کس کا ہے جسم و جاں پہ تِرے اختیار دیکھ

کس نے بچھائی فرشِ زمیں دیکھ اے نگاہ

کس نے اُگائے اتنے حسیں کوہسار دیکھ

Sunday, 21 November 2021

چومیں گے لب دل سے طیبہ کی زمیں جا کر

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


چومیں گے لبِ دل سے طیبہ کی زمیں جا کر

آئے گا قرار اب تو اس دل کو وہیں جا کر

وہ ارض کہ جو رشکِ فردوسِ بریں ٹھہری

دیکھیں گے زہے قسمت ہم بھی وہ زمیں جا کر

آنکھیں ہیں کہ شرمندہ، دل ہے کہ بڑا نادم

کس کس کو سنبھالوں گا آقاﷺ کے قریں جا کر

Tuesday, 6 July 2021

چشم تر کو زبان کر بیٹھے

 چشمِ تر کو زبان کر بیٹھے

حال دل کا بیان کر بیٹھے

تم نے رسماً مجھے سلام کیا

لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے

ایک پَل بھی کہاں سکون ملا

آپ کو جب سے جان کر بیٹھے

Friday, 18 December 2020

جب ادائے حسن میں ظالم ادائیں آ گئیں

 جب ادائے حسن میں ظالم ادائیں آ گئیں

اس دلِ بے تاب کے سر پر بلائیں آ گئیں

دل جلاتی اور کرتی سائیں سائیں آ گئیں

پھر تمہاری یاد کی پاگل ہوائیں آ گئیں

دل ہی دل میں کوئی دل سے یاد کرتا ہے مجھے

دل سے دل تک دل دھڑکنے کی صدائیں آ گئیں

Thursday, 17 December 2020

میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں نہ تیرے گھر کی طرف

 میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں نہ تیرے گھر کی طرف

نگاہیں خود چلی جاتی ہیں بام و در کی طرف

نگاہِ قلب سے دیکھو مِری نظر کی طرف

چلا ہے ڈوبنے ہر خواب چشمِ تر کی طرف

کسی کا دھیان نہ ہو سختیِ سفر کی طرف

ہر ایک شخص مخاطب ہو راہبر کی طرف

Sunday, 8 March 2020

روٹھنا مت کہ منانا نہیں آتا مجھ کو

روٹھنا مت کہ منانا نہیں آتا مجھ کو
پیار آتا ہے، جتانا نہیں آتا مجھ کو
آسماں سر پر اٹھانا نہیں آتا مجھ کو
بات بے وجہ بڑھانا نہیں آتا مجھ کو
غیر ممکن ہے مِرا جھوٹ نہ پکڑا جائے
غیر کی طرح بہانہ نہیں آتا مجھ کو

پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مل جانے کے بعد

پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مِل جانے کے بعد
گرچہ ہوں سہما ہوا بنیاد ہل جانے کے بعد
آپ اب ہم سے ہماری خیریت مت پوچھیے
آدمی خود کا کہاں رہتا ہے دل جانے کے بعد
سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دَم
خشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد

پی نہ جائے کہیں یہ پیاس مجھے

شربتِ ضبط آئے راس مجھے
پی نہ جائے کہیں یہ پیاس مجھے
تم سے شکوے کا اب دماغ کہاں
کتنا رکھتے ہو بد حواس مجھے
تیرے دل کا مکیں نہیں، نہ سہی
رہنے دے اپنے آس پاس مجھے

Friday, 11 December 2015

آگ سینے میں حسد کی پل رہی ہے یا نہیں

آگ سینے میں حسد کی پل رہی ہے یا نہیں
آپ کو شہرت ہماری کھل رہی ہے یا نہیں
آپسی رنجش ہی دل کو دَل رہی ہے یا نہیں
دشمنوں کی دال ہر سو گل رہی ہے یا نہیں
نفرتوں کی آندھیاں چلتی رہیں ہر دور میں
چاہتوں کی شمع پھر بھی جل رہی ہے یا نہیں

کہا کہ آپ کو یوں ہی گمان ایسا ہے

کہا کہ آپ کو یوں ہی گمان ایسا ہے
وہ بولے جی نہیں سچ مچ جہان ایسا ہے
کہا کہ آئیے بس جائیے مِرے دل میں
وہ بولے آپ کے دل کا مکان ایسا ہے
کہا کہ پھولوں میں کیا خوب دلربائی ہے
وہ بولے کیوں نہ ہو جب باغبان ایسا ہے

آپ سے رہ کر الگ ممکن گزارا ہے کہاں

آپ سے رہ کر الگ ممکن گزارا ہے کہاں
گھٹ کے مرنے کے سوا اب کوئی چارا ہے کہاں
ہاتھ رکھا تھا ہمارے دل پر اس نے ایک بار
کچھ نہیں معلوم جب سے دل ہمارا ہے کہاں
اہلِ دل کو کیوں نظر آتی نہیں اس کی چمک
اے محبت تیری قسمت کا ستارا ہے کہاں