Friday, 11 December 2015

آپ سے رہ کر الگ ممکن گزارا ہے کہاں

آپ سے رہ کر الگ ممکن گزارا ہے کہاں
گھٹ کے مرنے کے سوا اب کوئی چارا ہے کہاں
ہاتھ رکھا تھا ہمارے دل پر اس نے ایک بار
کچھ نہیں معلوم جب سے دل ہمارا ہے کہاں
اہلِ دل کو کیوں نظر آتی نہیں اس کی چمک
اے محبت تیری قسمت کا ستارا ہے کہاں
کھِل کھِلا کر ہنس رہے ہیں ہم پہ یہ گملے کے پھول
کس سے پوچھیں کیا بتائیں گھر ہمارا ہے کہاں
تم کو کیا معلوم کیسی آگ میں جلتا ہوں میں
دل  کسی  شعلہ ادا پر تم نے وارا ہے کہاں
ان کے دم سے کس قدر پر نور ہے دنیائے دل
ان کے جیسا روشنی کا استعارا ہے کہاں
برگِ آوارہ ہوں راغبؔ در بدر پھرتا ہوں میں
میرے جیسا مضطرب اور غم کا مارا ہے کہاں

افتخار راغب

No comments:

Post a Comment