آپ سے رہ کر الگ ممکن گزارا ہے کہاں
گھٹ کے مرنے کے سوا اب کوئی چارا ہے کہاں
ہاتھ رکھا تھا ہمارے دل پر اس نے ایک بار
کچھ نہیں معلوم جب سے دل ہمارا ہے کہاں
اہلِ دل کو کیوں نظر آتی نہیں اس کی چمک
کھِل کھِلا کر ہنس رہے ہیں ہم پہ یہ گملے کے پھول
کس سے پوچھیں کیا بتائیں گھر ہمارا ہے کہاں
تم کو کیا معلوم کیسی آگ میں جلتا ہوں میں
دل کسی شعلہ ادا پر تم نے وارا ہے کہاں
ان کے دم سے کس قدر پر نور ہے دنیائے دل
ان کے جیسا روشنی کا استعارا ہے کہاں
برگِ آوارہ ہوں راغبؔ در بدر پھرتا ہوں میں
میرے جیسا مضطرب اور غم کا مارا ہے کہاں
افتخار راغب
No comments:
Post a Comment