Showing posts with label نیلم بشیر. Show all posts
Showing posts with label نیلم بشیر. Show all posts

Tuesday, 3 November 2020

کچھ چڑیاں گدھوں سے محبت کرتی ہیں

 چڑیاں


کچھ چڑیاں گِدھوں سے محبت کرتی ہیں

گِدھ جو آسمانوں میں اڑتے کم ہیں

منڈیروں پر بیٹھتے زیادہ ہیں

کبھی کبھی وہ چڑیوں سے ملنے نیچے آنے کے لیے زقند بھرتے ہیں

یوں جیسے کسی نظم کی اچانک آمد ہو جائے

Monday, 2 November 2020

شریر چڑیو سنو مجھے اک گلہ ہے تم سے

 شریر چڑیو

سنو مجھے اک گلہ ہے تم سے

کہ منہ اندھیرے

تمہاری بک بک، تمہاری جھک جھک

تمہاری چوں چاں

سماعتوں پر تمہاری دستک

کالے کاگا یہ تو بتا آخر تجھ کو جلدی کیا

 کالے کاگا


کالے کاگا یہ تو بتا آخر تجھ کو جلدی کیا

چندن رنگا تن میرا

ہیرے جیسا من میرا

موتی جیسا مُکھڑا دیکھ

آنکھ میں رِستا دُکھڑا دیکھ

Sunday, 1 November 2020

محبتوں کے ناچ گھر میں ناچتے تھے دو بشر

 رقصِ حیات


محبتوں کے ناچ گھر میں ناچتے تھے دو بشر

تھام کر ہاتھوں میں ہاتھ، پیر اٹھتے ساتھ ساتھ

اک حسینہ پھول سی، اک دیوانہ شوخ سا

زندگی کے *والٹز کی دھن بج رہی تھی شان سے

کیسی تھی مدھر مدھر

Saturday, 31 October 2020

بدن مسمار ہوتا جا رہا ہے

 بدن مسمار ہوتا جا رہا ہے

بہت بیزار ہوتا جا رہا ہے

چنریا اوڑھ لی ہے لال میں نے

کسی سے پیار ہوتا جا رہا ہے

یہ کیسا دور ہے ہر ماں کا بچہ

سمندر پار ہوتا جا رہا ہے

کہاں ہو تم

کہاں ہو تم؟

وہ ہر دم مجھ سے پوچھا کرتا تھا

کہاں ہے وہ؟

میں کس سے پوچھوں آج؟

اور کیوں پوچھوں؟

کہیں وہ سچ ہی نہ بول دے

Friday, 30 October 2020

جذبہ مرا پڑا تھا

 جذبہ


کھانے کے وقت دونوں 

چپ چاپ کھا رہے تھے

صدیوں سے بھوکی لڑکی، قرنوں سے پیاسا مرد

آپس میں کوئی بات کرنے کو نہ بچی تھی

اور چادروں کے بیچ سلوٹوں میں دفن

تانے بانے میں الجھی جالے بنتی ہوں

 قلبِ ماہیت


تانے بانے میں الجھی جالے بنتی ہوں

مکڑی جیسی لگتی ہو، خود سے سنتی ہوں

یہ تالاب بھی کہتا ہے

جس کے بھیتر عکس میرا چھپ رہتا ہے

اصل میں میں اک تتلی ہوں

Thursday, 29 October 2020

زندگی اے زندگی

 زندگی اے زندگی

اک بات تو سن، پل بھر تو ٹھہر

کیا اتنی مہلت دے گی تُو

یا ایسی سہولت دے گی تُو

وہ سارے کپڑے پہن لوں میں جو الماری میں لٹکے ہیں

سارے سوہنے سینڈل، پاؤں میں ڈال کر چھم چھم رقص کروں

میں تمہیں وہیں بیٹھی ملوں گی

 اگر دستک دو 

اور میں گھر پہ نہ ملوں

تو رکنا

لوٹ نہ جانا

خود میں انتظار کی سکت نہ پاؤ تو

اپنے دل میں جھانک لینا