چڑیاں
کچھ چڑیاں گِدھوں سے محبت کرتی ہیں
گِدھ جو آسمانوں میں اڑتے کم ہیں
منڈیروں پر بیٹھتے زیادہ ہیں
کبھی کبھی وہ چڑیوں سے ملنے نیچے آنے کے لیے زقند بھرتے ہیں
یوں جیسے کسی نظم کی اچانک آمد ہو جائے
چڑیاں
کچھ چڑیاں گِدھوں سے محبت کرتی ہیں
گِدھ جو آسمانوں میں اڑتے کم ہیں
منڈیروں پر بیٹھتے زیادہ ہیں
کبھی کبھی وہ چڑیوں سے ملنے نیچے آنے کے لیے زقند بھرتے ہیں
یوں جیسے کسی نظم کی اچانک آمد ہو جائے
شریر چڑیو
سنو مجھے اک گلہ ہے تم سے
کہ منہ اندھیرے
تمہاری بک بک، تمہاری جھک جھک
تمہاری چوں چاں
سماعتوں پر تمہاری دستک
کالے کاگا
کالے کاگا یہ تو بتا آخر تجھ کو جلدی کیا
چندن رنگا تن میرا
ہیرے جیسا من میرا
موتی جیسا مُکھڑا دیکھ
آنکھ میں رِستا دُکھڑا دیکھ
رقصِ حیات
محبتوں کے ناچ گھر میں ناچتے تھے دو بشر
تھام کر ہاتھوں میں ہاتھ، پیر اٹھتے ساتھ ساتھ
اک حسینہ پھول سی، اک دیوانہ شوخ سا
زندگی کے *والٹز کی دھن بج رہی تھی شان سے
کیسی تھی مدھر مدھر
بدن مسمار ہوتا جا رہا ہے
بہت بیزار ہوتا جا رہا ہے
چنریا اوڑھ لی ہے لال میں نے
کسی سے پیار ہوتا جا رہا ہے
یہ کیسا دور ہے ہر ماں کا بچہ
سمندر پار ہوتا جا رہا ہے
کہاں ہو تم؟
وہ ہر دم مجھ سے پوچھا کرتا تھا
کہاں ہے وہ؟
میں کس سے پوچھوں آج؟
اور کیوں پوچھوں؟
کہیں وہ سچ ہی نہ بول دے
جذبہ
کھانے کے وقت دونوں
چپ چاپ کھا رہے تھے
صدیوں سے بھوکی لڑکی، قرنوں سے پیاسا مرد
آپس میں کوئی بات کرنے کو نہ بچی تھی
اور چادروں کے بیچ سلوٹوں میں دفن
قلبِ ماہیت
تانے بانے میں الجھی جالے بنتی ہوں
مکڑی جیسی لگتی ہو، خود سے سنتی ہوں
یہ تالاب بھی کہتا ہے
جس کے بھیتر عکس میرا چھپ رہتا ہے
اصل میں میں اک تتلی ہوں
زندگی اے زندگی
اک بات تو سن، پل بھر تو ٹھہر
کیا اتنی مہلت دے گی تُو
یا ایسی سہولت دے گی تُو
وہ سارے کپڑے پہن لوں میں جو الماری میں لٹکے ہیں
سارے سوہنے سینڈل، پاؤں میں ڈال کر چھم چھم رقص کروں
اگر دستک دو
اور میں گھر پہ نہ ملوں
تو رکنا
لوٹ نہ جانا
خود میں انتظار کی سکت نہ پاؤ تو
اپنے دل میں جھانک لینا