رہبر بھی کرے کیا کوئی دعویٰ مرے آگے
بن جاتا ہے جنگل میں بھی رستہ مرے آگے
میں تجھ کو سمیٹوں یہی کوشش رہی ہر دم
اتنا نہ بکھر اے مِری دنیا مرے آگے
تیری ہی طرح میں نے لٹایا ہے سبھی کچھ
شرمندہ نہ کر ہاتھ نہ پھیلا مرے آگے
رہبر بھی کرے کیا کوئی دعویٰ مرے آگے
بن جاتا ہے جنگل میں بھی رستہ مرے آگے
میں تجھ کو سمیٹوں یہی کوشش رہی ہر دم
اتنا نہ بکھر اے مِری دنیا مرے آگے
تیری ہی طرح میں نے لٹایا ہے سبھی کچھ
شرمندہ نہ کر ہاتھ نہ پھیلا مرے آگے
مکاں سے لا مکاں ہوتے ہوئے بھی
کہاں ہم ہیں کہاں ہوتے ہوئے بھی
بہت کچھ اب بھی باقی ہے زمیں پر
بہت کچھ رائیگاں ہوتے ہوئے بھی
سرے سے ہم ہی غائب ہو گئے ہیں
سبھی کے درمیاں ہوتے ہوئے بھی
کوئی تو کام اچھا رہ گیا ہے
ہمیں بس یاد اتنا رہ گیا ہے
ہمیں ڈھونا ہے لاشوں کو مسلسل
یہی اک کام اپنا رہ گیا ہے
محبت کم مروت ہے زیادہ
وہاں بس آنا جانا رہ گیا ہے
یہ میرا شہر صحرا ہو گیا ہے
نہیں ہونا تھا ایسا ہو گیا ہے
خوشی میں بھی کمی کچھ آ گئی ہے
غموں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے
میں اتنا ٹوٹ کر اس سے ملا ہوں
مِرا دشمن بھی میرا ہو گیا ہے