Showing posts with label ریاض رحیم. Show all posts
Showing posts with label ریاض رحیم. Show all posts

Wednesday, 30 April 2025

رہبر بھی کرے کیا کوئی دعویٰ مرے آگے

 رہبر بھی کرے کیا کوئی دعویٰ مرے آگے

بن جاتا ہے جنگل میں بھی رستہ مرے آگے

میں تجھ کو سمیٹوں یہی کوشش رہی ہر دم

اتنا نہ بکھر اے مِری دنیا مرے آگے

تیری ہی طرح میں نے لٹایا ہے سبھی کچھ

شرمندہ نہ کر ہاتھ نہ پھیلا مرے آگے

Tuesday, 29 April 2025

مکاں سے لا مکاں ہوتے ہوئے بھی

 مکاں سے لا مکاں ہوتے ہوئے بھی

کہاں ہم ہیں کہاں ہوتے ہوئے بھی

بہت کچھ اب بھی باقی ہے زمیں پر

بہت کچھ رائیگاں ہوتے ہوئے بھی

سرے سے ہم ہی غائب ہو گئے ہیں

سبھی کے درمیاں ہوتے ہوئے بھی

Thursday, 16 September 2021

کوئی تو کام اچھا رہ گیا ہے

کوئی تو کام اچھا رہ گیا ہے

ہمیں بس یاد اتنا رہ گیا ہے

ہمیں ڈھونا ہے لاشوں کو مسلسل

یہی اک کام اپنا رہ گیا ہے

محبت کم مروت ہے زیادہ

وہاں بس آنا جانا رہ گیا ہے

Sunday, 11 July 2021

یہ میرا شہر صحرا ہو گیا ہے

یہ میرا شہر صحرا ہو گیا ہے

نہیں ہونا تھا ایسا ہو گیا ہے

خوشی میں بھی کمی کچھ آ گئی ہے

غموں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے

میں اتنا ٹوٹ کر اس سے ملا ہوں

مِرا دشمن بھی میرا ہو گیا ہے