Showing posts with label سلطان محمود. Show all posts
Showing posts with label سلطان محمود. Show all posts

Thursday, 4 January 2024

رکھ لیں جو مجھے در پہ وہ دربان وغیرہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رکھ لیں جو مجھے در پہ وہ دربان وغیرہ

پھر کیا ہے میرے سامنے سُلطان وغیرہ

آقاﷺ کی چٹائی کی بڑی شان ہے واللہ

بس نام کے ہیں تختِ سلیمان وغیرہ

دیکھے تو کوئی لفظِ یداللہ کی تاثیر

اُن ہاتھوں میں بول اٹھتے ہیں بے جان وغیرہ

Thursday, 29 September 2022

میں جس کے واسطے سب سے لڑا ہوں

 میں جس کے واسطے سب سے لڑا ہوں

اسی کے ہاتھ سے مارا گیا ہوں

قفس میں اس لیے دل لگ گیا ہے

کہ تیرے ساتھ بھی تنہا رہا ہوں

گزارا تجھ سے ممکن تو نہیں ہے

مگر اے زندگی! میں کر رہا ہوں

Saturday, 17 September 2022

جو ترے در پر پڑے رہتے ہیں

 جو تِرے در پر پڑے رہتے ہیں

مثلِ کہسار کھڑے رہتے ہیں

دل سمجھ جاتا ہے سمجھانے سے

اشک ہی ضد پہ اڑے رہتے ہیں

ہجر زیور ہے مِری آنکھوں کا

موتی پلکوں پہ جَڑے رہتے ہیں

Wednesday, 14 September 2022

کج کلاہوں کی طرفداری نہیں کر سکتے

 کج کلاہوں کی طرفداری نہیں کر سکتے

میرے الفاظ اداکاری نہیں کر سکتے

فرق ہوتا ہے ہوس اور محبت میں میاں

ہم برابر کی سند جاری نہیں کر سکتے

ہم تو بازار سے کترا کے گزر جاتے ہیں

ہم تہی دست، خریداری نہیں کر سکتے

Tuesday, 13 September 2022

جو مری ذات سے شناسا ہے

 جو مِری ذات سے شناسا ہے

وہ مِری زندگی کا پیاسا ہے

خوش کریں کس کو اور کسے ناراض

شہر کا شہر ہی خدا سا ہے

تیرے آنے کی ہو خبر کیسے

تیرا آنا تو بس ہوا سا ہے

Wednesday, 6 April 2022

کوئی طبیب ہے نہ مسیحائے عشق ہے

 کوئی طبیب ہے نہ مسیحائے عشق ہے

خود روگ عشق ہی کا مداوائے عشق ہے

دریائے عشق ہے کہیں صحرائے عشق ہے

سلطان! اب یہی تِری دنیائے عشق ہے

جس کو بھی دیکھئے یہاں شیدائےعشق ہے

ہر ایک کو مگر کہاں یارائے عشق ہے