عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رکھ لیں جو مجھے در پہ وہ دربان وغیرہ
پھر کیا ہے میرے سامنے سُلطان وغیرہ
آقاﷺ کی چٹائی کی بڑی شان ہے واللہ
بس نام کے ہیں تختِ سلیمان وغیرہ
دیکھے تو کوئی لفظِ یداللہ کی تاثیر
اُن ہاتھوں میں بول اٹھتے ہیں بے جان وغیرہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رکھ لیں جو مجھے در پہ وہ دربان وغیرہ
پھر کیا ہے میرے سامنے سُلطان وغیرہ
آقاﷺ کی چٹائی کی بڑی شان ہے واللہ
بس نام کے ہیں تختِ سلیمان وغیرہ
دیکھے تو کوئی لفظِ یداللہ کی تاثیر
اُن ہاتھوں میں بول اٹھتے ہیں بے جان وغیرہ
میں جس کے واسطے سب سے لڑا ہوں
اسی کے ہاتھ سے مارا گیا ہوں
قفس میں اس لیے دل لگ گیا ہے
کہ تیرے ساتھ بھی تنہا رہا ہوں
گزارا تجھ سے ممکن تو نہیں ہے
مگر اے زندگی! میں کر رہا ہوں
جو تِرے در پر پڑے رہتے ہیں
مثلِ کہسار کھڑے رہتے ہیں
دل سمجھ جاتا ہے سمجھانے سے
اشک ہی ضد پہ اڑے رہتے ہیں
ہجر زیور ہے مِری آنکھوں کا
موتی پلکوں پہ جَڑے رہتے ہیں
کج کلاہوں کی طرفداری نہیں کر سکتے
میرے الفاظ اداکاری نہیں کر سکتے
فرق ہوتا ہے ہوس اور محبت میں میاں
ہم برابر کی سند جاری نہیں کر سکتے
ہم تو بازار سے کترا کے گزر جاتے ہیں
ہم تہی دست، خریداری نہیں کر سکتے
جو مِری ذات سے شناسا ہے
وہ مِری زندگی کا پیاسا ہے
خوش کریں کس کو اور کسے ناراض
شہر کا شہر ہی خدا سا ہے
تیرے آنے کی ہو خبر کیسے
تیرا آنا تو بس ہوا سا ہے
کوئی طبیب ہے نہ مسیحائے عشق ہے
خود روگ عشق ہی کا مداوائے عشق ہے
دریائے عشق ہے کہیں صحرائے عشق ہے
سلطان! اب یہی تِری دنیائے عشق ہے
جس کو بھی دیکھئے یہاں شیدائےعشق ہے
ہر ایک کو مگر کہاں یارائے عشق ہے