جو مِری ذات سے شناسا ہے
وہ مِری زندگی کا پیاسا ہے
خوش کریں کس کو اور کسے ناراض
شہر کا شہر ہی خدا سا ہے
تیرے آنے کی ہو خبر کیسے
تیرا آنا تو بس ہوا سا ہے
چار سُو رتجگوں کے لاشے ہیں
خواب کا دشت کربلا سا ہے
عمر گزرے گی اس کو پانے میں
دور صحرا میں جو دِیا سا ہے
جان لے لے گا ایک دن سلطان
دل میں یہ خوف جو ذرا سا ہے
سلطان محمود
No comments:
Post a Comment