سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے
صحرا کو ہم بھی شہر سے پھر لوٹ کر گئے
اچھے دنوں کی آس میں جانے کدھر گئے
جتنے تھے میرے خواب سہانے بکھر گئے
گہرائی ناپنے میں تھے کچھ لوگ منہمک
کچھ لوگ پانیوں میں بلا خوف اتر گئے
سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے
صحرا کو ہم بھی شہر سے پھر لوٹ کر گئے
اچھے دنوں کی آس میں جانے کدھر گئے
جتنے تھے میرے خواب سہانے بکھر گئے
گہرائی ناپنے میں تھے کچھ لوگ منہمک
کچھ لوگ پانیوں میں بلا خوف اتر گئے
ظلمت و نور میں وحدت نہیں ہو گی ہم سے
یعنی ما بعدِ صداقت نہیں ہو گی ہم سے
جن کی تعبیر میں ہستی کا زیاں بھی ہو قبول
ایسے خوابوں کی اہانت نہیں ہو گی ہم سے
ہم حسینیؑ ہیں ملوکانہ اصولوں کے خلاف
اے یزیدی! تِری بیعت نہیں ہو گی ہم سے
ایک شاعر کی بشارتیں
مرے مایوس لوگو تم سمجھتے ہو
تمام عالم کو سیلابِ بلا غرقاب کر دے گا
مرے نومید قریے کے مکینو تم کو لگتا ہے
بھڑکتے شعلے تم کو بھسم کر دیں گے
قبیلے کے ڈرے سہمے ہوئے مظلوم انسانو
تمہیں یہ خوف و دہشت ہے
اے فلسطین کے ننھے منے شہیدو
تم تو جنت کے باغوں میں جھولا جھول رہے ہو
ذرا ہماری بے بسی دیکھو اے فردوس کی مہکتی کلیو
ہم دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہیں تو بموں کا اژدھا ہمارے ہاتھ نگل جاتا ہے
ہم چیختے چلاتے بھی نہیں کہ ہماری آہوں کا دھواں
بارودوں کے دھندلکے میں ضم ہو کر اسے بے وقعت کر جاتا ہے
جو عہدِ نو میں خمیرِ بشر بنایا جائے
سناں کو ہاتھ تو نیزے کو سر بنایا جائے
شبِ حیات کو ایسے سحر بنایا جائے
اک آفتاب سرِ چشمِ تر بنایا جائے
مِرے حواس کو یہ کون حکم دیتا ہے
کہ اس کو مرکزِ قلب و نظر بنایا جائے
سر بہ نیزہ پکارتا ہے عشق
میرے اندر وہ کربلا ہے عشق
کیسی وحشت ہے، بے قراری ہے
کس قیامت سے ہو گیا ہے عشق
ختم ہو گا نہ ختم کرنے سے
وہ جبلت ہے، خلقیہ ہے عشق
بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں
با الفاظ دیگر قضا چاہتا ہوں
مِری وحشتوں کا سبب کون سمجھے
کہ میں گم شدہ قافلہ چاہتا ہوں
بتوں سے ہوں بیزار اتنا کہ بس اب
خدا ہی خدا بس خدا چاہتا ہوں