Showing posts with label خالد مبشر. Show all posts
Showing posts with label خالد مبشر. Show all posts

Sunday, 22 June 2025

سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے

 سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے

صحرا کو ہم بھی شہر سے پھر لوٹ کر گئے

اچھے دنوں کی آس میں جانے کدھر گئے

جتنے تھے میرے خواب سہانے بکھر گئے

گہرائی ناپنے میں تھے کچھ لوگ منہمک

کچھ لوگ پانیوں میں بلا خوف اتر گئے

Tuesday, 10 June 2025

ظلمت و نور میں وحدت نہیں ہو گی ہم سے

 ظلمت و نور میں وحدت نہیں ہو گی ہم سے

یعنی ما بعدِ صداقت نہیں ہو گی ہم سے

جن کی تعبیر میں ہستی کا زیاں بھی ہو قبول

ایسے خوابوں کی اہانت نہیں ہو گی ہم سے

ہم حسینیؑ ہیں ملوکانہ اصولوں کے خلاف

اے یزیدی! تِری بیعت نہیں ہو گی ہم سے

Wednesday, 7 August 2024

مرے مایوس لوگو تم سمجھتے ہو

 ایک شاعر کی بشارتیں


مرے مایوس لوگو تم سمجھتے ہو

تمام عالم کو سیلابِ بلا غرقاب کر دے گا

مرے نومید قریے کے مکینو تم کو لگتا ہے

بھڑکتے شعلے تم کو بھسم کر دیں گے

قبیلے کے ڈرے سہمے ہوئے مظلوم انسانو

تمہیں یہ خوف و دہشت ہے 

Friday, 19 July 2024

میرے پاس صرف ایک بزدلی اور بے حسی ہے

 اے فلسطین کے ننھے منے شہیدو

تم تو جنت کے باغوں میں جھولا جھول رہے ہو

ذرا ہماری بے بسی دیکھو اے فردوس کی مہکتی کلیو

ہم دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہیں تو بموں کا اژدھا ہمارے ہاتھ نگل جاتا ہے

ہم چیختے چلاتے بھی نہیں کہ ہماری آہوں کا دھواں 

بارودوں کے دھندلکے میں ضم ہو کر اسے بے وقعت کر جاتا ہے

Tuesday, 25 June 2024

جو عہد نو میں خمیر بشر بنایا جائے

 جو عہدِ نو میں خمیرِ بشر بنایا جائے

سناں کو ہاتھ تو نیزے کو سر بنایا جائے

شبِ حیات کو ایسے سحر بنایا جائے

اک آفتاب سرِ چشمِ تر بنایا جائے

مِرے حواس کو یہ کون حکم دیتا ہے

کہ اس کو مرکزِ قلب و نظر بنایا جائے

Monday, 10 June 2024

سر بہ نیزہ پکارتا ہے عشق

 سر بہ نیزہ پکارتا ہے عشق

میرے اندر وہ کربلا ہے عشق

کیسی وحشت ہے، بے قراری ہے

کس قیامت سے ہو گیا ہے عشق

ختم ہو گا نہ ختم کرنے سے

وہ جبلت ہے، خلقیہ ہے عشق

Tuesday, 5 October 2021

بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں

 بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں

با الفاظ دیگر قضا چاہتا ہوں

مِری وحشتوں کا سبب کون سمجھے

کہ میں گم شدہ قافلہ چاہتا ہوں

بتوں سے ہوں بیزار اتنا کہ بس اب

خدا ہی خدا بس خدا چاہتا ہوں