تمہاری یاد کی تلخی ابھی بچی ہوئی ہے
سو اک شراب کی بوتل نئی رکھی ہوئی ہے
نہ آستین میں خنجر، نہ لب پہ شیرینی
یہ کیسے عقل کے دشمن سے دوستی ہوئی ہے
وہ پھول کس کے شبستاں میں کھل رہا ہو گا
جو میرے کمرے میں خوشبو بھری بھری ہوئی ہے
تمہاری یاد کی تلخی ابھی بچی ہوئی ہے
سو اک شراب کی بوتل نئی رکھی ہوئی ہے
نہ آستین میں خنجر، نہ لب پہ شیرینی
یہ کیسے عقل کے دشمن سے دوستی ہوئی ہے
وہ پھول کس کے شبستاں میں کھل رہا ہو گا
جو میرے کمرے میں خوشبو بھری بھری ہوئی ہے
بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں
لوگ یوں تجھ سے بچھڑنے کا سبب پوچھتے ہیں
کیا تمسخر ہے بلندی بھی کہ اب حال اپنا
پہلے جن لوگوں نے پوچھا نہیں اب پوچھتے ہیں
اپنا پیکر نہیں پہچان بدل کر آؤ
یہ وہ محفل ہے جہاں نام و نسب پوچھتے ہیں
یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے
خدا دلوں پہ دماغوں پہ بار ہے ہاں ہے
تمام مفتی و واعظ خدا کو بیچتے ہیں
تو کیا خدا بھی کوئی کاروبار ہے ہاں ہے
ہر ایک چیز میں تم عیب دیکھتے ہو نہیں
تمہارا لہجہ شکایت گزار ہے ہاں ہے