Showing posts with label انجم برہانی. Show all posts
Showing posts with label انجم برہانی. Show all posts

Monday, 24 November 2025

تمہاری یاد کی تلخی ابھی بچی ہوئی ہے

 تمہاری یاد کی تلخی ابھی بچی ہوئی ہے

سو اک شراب کی بوتل نئی رکھی ہوئی ہے

نہ آستین میں خنجر، نہ لب پہ شیرینی

یہ کیسے عقل کے دشمن سے دوستی ہوئی ہے

وہ پھول کس کے شبستاں میں کھل رہا ہو گا

جو میرے کمرے میں خوشبو بھری بھری ہوئی ہے

Sunday, 10 August 2025

بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں

 بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں

لوگ یوں تجھ سے بچھڑنے کا سبب پوچھتے ہیں

کیا تمسخر ہے بلندی بھی کہ اب حال اپنا

پہلے جن لوگوں نے پوچھا نہیں اب پوچھتے ہیں

اپنا پیکر نہیں پہچان بدل کر آؤ

یہ وہ محفل ہے جہاں نام و نسب پوچھتے ہیں

Saturday, 21 June 2025

یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے

 یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے

خدا دلوں پہ دماغوں پہ بار ہے ہاں ہے

تمام مفتی و واعظ خدا کو بیچتے ہیں

تو کیا خدا بھی کوئی کاروبار ہے ہاں ہے

ہر ایک چیز میں تم عیب دیکھتے ہو نہیں

تمہارا لہجہ شکایت گزار ہے ہاں ہے