نہیں معلوم پائیں گے سکوں اہلِ جہاں کب تک
خدا جانے رہے گا اس زمیں پر آسماں کب تک
یہ افسانہ ابھی تو زیرِ عنوانِ کرم بھی ہے
سنائے جاؤں میں ان کے ستم کی داستاں کب تک
قفس میں تو مجھے جب تک بھی رہنا ہو مگر یا رب
تصور میں مِرے جلتا رہے گا آشیاں کب تک
نہیں معلوم پائیں گے سکوں اہلِ جہاں کب تک
خدا جانے رہے گا اس زمیں پر آسماں کب تک
یہ افسانہ ابھی تو زیرِ عنوانِ کرم بھی ہے
سنائے جاؤں میں ان کے ستم کی داستاں کب تک
قفس میں تو مجھے جب تک بھی رہنا ہو مگر یا رب
تصور میں مِرے جلتا رہے گا آشیاں کب تک
جو مرا خیال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں
تو مِری بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں
کوئی دل بھلا سکا ہو اگر اپنی دھڑکنوں کو
تو کوئی مثال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں
یہ زمیں یہ آسماں کیا مرے بھولنے کو کم ہیں
یہ کوئی سوال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں
عشق جو ناگہاں نہیں ہوتا
وہ کبھی جاوداں نہیں ہوتا
عشق رکھتا ہے جس جگہ دل کو
میں بھی اکثر وہاں نہیں ہوتا
مجھ پہ ہوتے ہیں مہرباں جب وہ
خود پر اپنا گماں نہیں ہوتا
وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لیے
اپنے سر لیں میں نے کیا کیا آفتیں تیرے لیے
کر لیا نظارۂ حسن اپنی آنکھوں پر حرام
میں نے رد کر دیں نظر کی دعوتیں تیرے لیے
تیرے ملنے کے لیے ممکن تھیں جتنی صورتیں
میں نے کر ڈالیں وہ ساری صورتیں تیرے لیے
شرابِ عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے
کہیں یہ زہر ہوتی ہے، کہیں اکسیر ہوتی ہے
نہ مفہوم اس کا فُرقت ہے نہ منشا وصل ہے اس کا
محبت اصل میں اک خواب، خود تعبیر ہوتی ہے
جدا ہو کر اسی میں جذب ہو جاتی ہے پھر اک دن
محبت آفتابِ حُسن کی تنویر ہوتی ہے
کب سے اُلجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم
دو اشک پونچھنے کو تِری آستیں سے ہم
ہو گا تمہارا نام ہی عنوان ہر ورق
اوراق زندگی کو الٹ دیں کہیں سے ہم
سنگِ درِ عدو پہ ہماری جبیں نہیں
یہ سجدے کر رہے ہیں تمہاری جبیں سے ہم
غم نہیں نازِ حسن ہے، حسن کے ناز اٹھائے جا
اے دلِ مبتلائے غم! غم میں بھی مسکرائے جا
حسن ہے عشقِ آفریں، حسن پہ دل لٹائے جا
عشق کو دردِ دل بنا، درد کو دل بنائے جا
جلوہ بہ جلوہ گر نہیں، پردہ بہ پردہ آئے جا
دل میں مِرے سمائے جا، روح میں جگمگائے جا
رہرو راہ محبت کون سی منزل میں ہے
دل ہے بیزار محبت اور محبت دل میں ہے
کیا زباں پر ہے کسی کی کیا کسی کے دل میں ہے
جس کی محفل ہے وہی جانے وہ جس مشکل میں ہے
کاروانِ حسن و عشق اب تک کہیں ٹھہرا نہیں
قیس ابھی صحرا میں ہے، لیلیٰ ابھی محمل میں ہے
غیر ممکن بھی ہے ممکن مجھے معلوم نہ تھا
ایک دن آئے گا یہ دن مجھے معلوم نہ تھا
اور کچھ میں تِرے ظاہر سے سمجھتا تھا تجھے
اور کچھ ہے تِرا باطن مجھے معلوم نہ تھا
دشمنی کے لیے مخصوص ہے جو طرزِ عمل
دوستی میں ہے وہ ممکن مجھے معلوم نہ تھا
عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے
وہ دو عالم سے الگ ایک جہاں ہوتا ہے
شدتِ شوق کا اللہ رے فسوں اف رے فریب
ان کی نفرت پہ محبت کا گماں ہوتا ہے
صرف اک دل ہی وہ معبد ہے، وہ اک معبدِ عشق
جس میں ناقوس ہم آوازِ اذاں ہوتا ہے