Showing posts with label بسمل سعیدی. Show all posts
Showing posts with label بسمل سعیدی. Show all posts

Friday, 21 April 2023

نہیں معلوم پائیں گے سکوں اہل جہاں کب تک

 نہیں معلوم پائیں گے سکوں اہلِ جہاں کب تک

خدا جانے رہے گا اس زمیں پر آسماں کب تک

یہ افسانہ ابھی تو زیرِ عنوانِ کرم بھی ہے

سنائے جاؤں میں ان کے ستم کی داستاں کب تک

قفس میں تو مجھے جب تک بھی رہنا ہو مگر یا رب

تصور میں مِرے جلتا رہے گا آشیاں کب تک

Tuesday, 8 November 2022

جو مرا خیال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

 جو مرا خیال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

تو مِری بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

کوئی دل بھلا سکا ہو اگر اپنی دھڑکنوں کو

تو کوئی مثال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

یہ زمیں یہ آسماں کیا مرے بھولنے کو کم ہیں

یہ کوئی سوال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

Friday, 8 April 2022

عشق جو ناگہاں نہیں ہوتا

 عشق جو ناگہاں نہیں ہوتا

وہ کبھی جاوداں نہیں ہوتا

عشق رکھتا ہے جس جگہ دل کو

میں بھی اکثر وہاں نہیں ہوتا

مجھ پہ ہوتے ہیں مہرباں جب وہ

خود پر اپنا گماں نہیں ہوتا

Monday, 21 March 2022

وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لیے

وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لیے

اپنے سر لیں میں نے کیا کیا آفتیں تیرے لیے

کر لیا نظارۂ حسن اپنی آنکھوں پر حرام

میں نے رد کر دیں نظر کی دعوتیں تیرے لیے

تیرے ملنے کے لیے ممکن تھیں جتنی صورتیں

میں نے کر ڈالیں وہ ساری صورتیں تیرے لیے

Tuesday, 18 May 2021

شراب عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے

 شرابِ عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے

کہیں یہ زہر ہوتی ہے، کہیں اکسیر ہوتی ہے

نہ مفہوم اس کا فُرقت ہے نہ منشا وصل ہے اس کا

محبت اصل میں اک خواب، خود تعبیر ہوتی ہے

جدا ہو کر اسی میں جذب ہو جاتی ہے پھر اک دن

محبت آفتابِ حُسن کی تنویر ہوتی ہے

Wednesday, 21 April 2021

کب سے الجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم

 کب سے اُلجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم

دو اشک پونچھنے کو تِری آستیں سے ہم

ہو گا تمہارا نام ہی عنوان ہر ورق

اوراق زندگی کو الٹ دیں کہیں سے ہم

سنگِ درِ عدو پہ ہماری جبیں نہیں

یہ سجدے کر رہے ہیں تمہاری جبیں سے ہم

Saturday, 16 January 2021

غم نہیں ناز حسن ہے حسن کے ناز اٹھائے جا

 غم نہیں نازِ حسن ہے، حسن کے ناز اٹھائے جا

اے دلِ مبتلائے غم! غم میں بھی مسکرائے جا

حسن ہے عشقِ آفریں، حسن پہ دل لٹائے جا

عشق کو دردِ دل بنا، درد کو دل بنائے جا

جلوہ بہ جلوہ گر نہیں، پردہ بہ پردہ آئے جا

دل میں مِرے سمائے جا، روح میں جگمگائے جا

Sunday, 3 January 2021

رہرو راہ محبت کون سی منزل میں ہے

 رہرو راہ محبت کون سی منزل میں ہے 

دل ہے بیزار محبت اور محبت دل میں ہے 

کیا زباں پر ہے کسی کی کیا کسی کے دل میں ہے 

جس کی محفل ہے وہی جانے وہ جس مشکل میں ہے 

کاروانِ حسن و عشق اب تک کہیں ٹھہرا نہیں 

قیس ابھی صحرا میں ہے، لیلیٰ ابھی محمل میں ہے 

Friday, 1 January 2021

غیر ممکن بھی ہے ممکن مجھے معلوم نہ تھا

 غیر ممکن بھی ہے ممکن مجھے معلوم نہ تھا

ایک دن آئے گا یہ دن مجھے معلوم نہ تھا

اور کچھ میں تِرے ظاہر سے سمجھتا تھا تجھے

اور کچھ ہے تِرا باطن مجھے معلوم نہ تھا

دشمنی کے لیے مخصوص ہے جو طرزِ عمل

دوستی میں ہے وہ ممکن مجھے معلوم نہ تھا

Monday, 5 October 2020

عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے

 عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے

وہ دو عالم سے الگ ایک جہاں ہوتا ہے

شدتِ شوق کا اللہ رے فسوں اف رے فریب

ان کی نفرت پہ محبت کا گماں ہوتا ہے

صرف اک دل ہی وہ معبد ہے، وہ اک معبدِ عشق

جس میں ناقوس ہم آوازِ اذاں ہوتا ہے

Tuesday, 12 November 2019

نہ اب وہ عشق نہ وہ عشق کی ادائیں رہیں

نہ اب وہ عشق نہ وہ عشق کی ادائیں رہیں 
نہ اب وہ حسن نہ وہ حسن کی ہوائیں رہیں 
نہ عشق عشق رہا اب نہ حسن حسن رہا 
نہ وہ وفائیں رہیں اب، نہ وہ جفائیں رہیں 
وہ حسن و عشق کے راز و نیاز ہی نہ رہے 
نہ وہ خطائیں رہیں اب، نہ وہ سزائیں رہیں 

Wednesday, 28 March 2018

اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے

اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے 
طوفان کے بعد کا سکوں ہے 
احساس کو ضد ہے دردِ دل سے 
کم ہو تو یہ جانیے فزوں ہے 
راس آئی ہے عشق کو زبونی 
جس حال میں دیکھیے زبوں ہے 

کون سمجھے عشق کی دشواریاں

کون سمجھے عشق کی دشواریاں 
اک جنوں اور لاکھ ذمہ داریاں 
اہتمام زندگی عشق دیکھ 
روز مر جانے کی ہیں تیاریاں 
عشق کا غم وہ بھی تیرے عشق کا 
کون کر سکتا مِری غم خواریاں 

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے
ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے
کیا اہلِ جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے
کہتے تو ہیں لیکن تِرے منہ پر نہیں کہتے
کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر
بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے