مُضطرب ہیں سبھی تقدیر بدلنے کے لیے
کوئی آمادہ ہو شعلوں پہ بھی چلنے کے لیے
آج کے دور میں جینا کوئی آسان نہیں
وقت ملتا ہے کہاں گِر کے سنبھلنے کے لیے
زندگی! ہم کو قضا سے تُو ڈراتی کیوں ہے
ہم تو ہر وقت ہی تیار ہیں چلنے کے لیے
مُضطرب ہیں سبھی تقدیر بدلنے کے لیے
کوئی آمادہ ہو شعلوں پہ بھی چلنے کے لیے
آج کے دور میں جینا کوئی آسان نہیں
وقت ملتا ہے کہاں گِر کے سنبھلنے کے لیے
زندگی! ہم کو قضا سے تُو ڈراتی کیوں ہے
ہم تو ہر وقت ہی تیار ہیں چلنے کے لیے
ہم تو ٹکرا گئے ہیں شیشوں سے
آپ بچ جائیے گا کرچیوں سے
خار دیتے جو زخم ممکن تھا
ہم نے کھائے ہیں زخم پھولوں سے
شخصیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے
جب بھی ٹکرا گئے اصولوں سے
ہوا سکوں بھی میسر تو اضطراب رہا
دلِ خراب، ہمیشہ دلِ خراب رہا
سبھی کے سامنے محفل میں باحجاب رہا
ہمارے ساتھ مگر چاند بے نقاب رہا
گہن کا سایا بھی آنے نہیں دیا اس پر
ہماری آنکھ میں جب تک وہ ماہتاب رہا
تیری یاد کا ہر پل، وجہِ شادمانی ہے
صبح بھی سہانی تھی شام بھی سہانی ہے
دوسروں سے برہم ہوں، خود سے بد گمانی ہے
کیا یہی محبت کا عالمِ جوانی ہے
یہ خلوص کے دعوے، مصلحت ہیں دھوکا ہیں
صرف جام بدلے ہیں، مئے وہی پرانی ہے
وا نہ ہوں گے مِرے لب فریاد
جس قدر چاہو تم کرو بیداد
مٹ گئیں یک قلم تمنائیں
میرا دل حسرتوں سے ہے آباد
آپ مَیلا کریں نہ دل اپنا
دل تو میرا ہے فطرتاً ناشاد
کسے پروا لگی ہے آگ کس کے آشیانے میں
چمن والے مگن ہیں جشن چراغاں کے منانے میں
جو ذمے دار تھے آرائش صحن گلستاں کے
وہی مصروف ہیں آشیانوں کے جلانے میں
نہ دیکھ اے آسماں تو رشک سے میرے نشیمن کو
ہوا ہے صَرف خونِ دل مرا اس کے بنانے میں
کسی نے جیسے قسم کھائی ہے ستانے کی
ہمیں پہ ختم ہیں سب گردشیں زمانے کی
چمن میں گل بھی کھلے مسکرائے غنچے بھی
ہمیں ہی راس نہ آئی فضا زمانے کی
کہ جس کے انتظار میں ہوئے زمانے سے ہم غافل
اس نے ذرا بھی دیر نہ کی ہم کو بھول جانے کی
شاید یہ کرب مجھ کو نئے خدوخال دے
اللہ میرا درد تیرے دل میں ڈال دے
اس آسرے پہ کاٹ رہی ہوں خزاں کے دن
شاید بہار پاؤں سے کانٹے نکال دے
جب تم تھے میرے ساتھ تو زندگی تھی خوشنما
اب پھر وہی خواب میری آنکھوں میں ڈال دے