Showing posts with label شگفتہ یاسمین. Show all posts
Showing posts with label شگفتہ یاسمین. Show all posts

Thursday, 24 November 2022

مضطرب ہیں سبھی تقدیر بدلنے کے لیے

 مُضطرب ہیں سبھی تقدیر بدلنے کے لیے

کوئی آمادہ ہو شعلوں پہ بھی چلنے کے لیے

آج کے دور میں جینا کوئی آسان نہیں

وقت ملتا ہے کہاں گِر کے سنبھلنے کے لیے

زندگی! ہم کو قضا سے تُو ڈراتی کیوں ہے

ہم تو ہر وقت ہی تیار ہیں چلنے کے لیے

Tuesday, 25 January 2022

ہم تو ٹکرا گئے ہیں شیشوں سے

 ہم تو ٹکرا گئے ہیں شیشوں سے 

آپ بچ جائیے گا کرچیوں سے 

خار دیتے جو زخم ممکن تھا

ہم نے کھائے ہیں زخم پھولوں سے

شخصیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے 

جب بھی ٹکرا گئے اصولوں سے

Friday, 29 October 2021

ہوا سکوں بھی میسر تو اضطراب رہا

 ہوا سکوں بھی میسر تو اضطراب رہا

دلِ خراب، ہمیشہ دلِ خراب رہا

سبھی کے سامنے محفل میں باحجاب رہا

ہمارے ساتھ مگر چاند بے نقاب رہا

گہن کا سایا بھی آنے نہیں دیا اس پر

ہماری آنکھ میں جب تک وہ ماہتاب رہا

Monday, 26 April 2021

تیری یاد کا ہر پل وجہ شادمانی ہے

 تیری یاد کا ہر پل، وجہِ شادمانی ہے

صبح بھی سہانی تھی شام بھی سہانی ہے

دوسروں سے برہم ہوں، خود سے بد گمانی ہے

کیا یہی محبت کا عالمِ جوانی ہے

یہ خلوص کے دعوے، مصلحت ہیں دھوکا ہیں

صرف جام بدلے ہیں، مئے وہی پرانی ہے

Monday, 19 April 2021

وا نہ ہوں گے مرے لب فریاد

 وا نہ ہوں گے مِرے لب فریاد

جس قدر چاہو تم کرو بیداد

مٹ گئیں یک قلم تمنائیں

میرا دل حسرتوں سے ہے آباد

آپ مَیلا کریں نہ دل اپنا

دل تو میرا ہے فطرتاً ناشاد

Friday, 16 April 2021

کسے پروا لگی ہے آگ کس کے آشیانے میں

 کسے پروا لگی ہے آگ کس کے آشیانے میں

چمن والے مگن ہیں جشن چراغاں کے منانے میں

جو ذمے دار تھے آرائش صحن گلستاں کے

وہی مصروف ہیں آشیانوں کے جلانے میں

نہ دیکھ اے آسماں تو رشک سے میرے نشیمن کو

ہوا ہے صَرف خونِ دل مرا اس کے بنانے میں

کسی نے جیسے قسم کھائی ہے ستانے کی

کسی نے جیسے قسم کھائی ہے ستانے کی

ہمیں پہ ختم ہیں سب گردشیں زمانے کی

چمن میں گل بھی کھلے مسکرائے غنچے بھی

ہمیں ہی راس نہ آئی فضا زمانے کی

کہ جس کے انتظار میں ہوئے زمانے سے ہم غافل

اس نے ذرا بھی دیر نہ کی ہم کو بھول جانے کی

Sunday, 15 November 2020

شاید یہ کرب مجھ کو نئے خد و خال دے

 شاید یہ کرب مجھ کو نئے خدوخال دے

اللہ میرا درد تیرے دل میں ڈال دے

اس آسرے پہ کاٹ رہی ہوں خزاں کے دن

شاید بہار پاؤں سے کانٹے نکال دے

جب تم تھے میرے ساتھ تو زندگی تھی خوشنما

اب پھر وہی خواب میری آنکھوں میں ڈال دے