وا نہ ہوں گے مِرے لب فریاد
جس قدر چاہو تم کرو بیداد
مٹ گئیں یک قلم تمنائیں
میرا دل حسرتوں سے ہے آباد
آپ مَیلا کریں نہ دل اپنا
دل تو میرا ہے فطرتاً ناشاد
ہم ستم کو کرم ہی سمجھیں گے
ستم ایجاد، کر ستم ایجاد
اس کی جنت کی ہو گئی تکمیل
اس میں داخل نہ ہو سکا شداد
اس کے کُوچے میں عافیت معلوم
ہر قدم پر ہے اک نئی اُفتاد
اس کو کہتے ہیں فتنہ سامانی
جا بجا جال، جا بجا صیاد
عشق کے تیر سے ہوئے گھائل
سارے مجنون اور سبھی فرہاد
یاسمین اور کچھ ہے حُسن کی بات
عشق کی ہر دلیل بے بنیاد
شگفتہ یاسمین
No comments:
Post a Comment