دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا
دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا
اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا
ورنہ تِرا قصور نہ کرنا قصور تھا
تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں
تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا
دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا
دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا
اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا
ورنہ تِرا قصور نہ کرنا قصور تھا
تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں
تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا
جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہارِ تمنا کون کرے
ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے
خالی ہے مِرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارہ کون کرے
خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار تقاضا کون کرے
جب اپنا دل خود لے ڈوبے اوروں پہ سہارہ کون کرے
کشتی پہ بھروسا جب نہ رہا تنکوں پہ بھروسا کون کرے