Showing posts with label آنند نرائن ملا. Show all posts
Showing posts with label آنند نرائن ملا. Show all posts

Monday, 22 April 2024

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا

 دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا 

دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا 

اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا 

ورنہ تِرا قصور نہ کرنا قصور تھا 

تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں 

تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا 

Tuesday, 1 November 2022

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے

 جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہارِ تمنا کون کرے

ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے

خالی ہے مِرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارہ کون کرے

خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار تقاضا کون کرے

جب اپنا دل خود لے ڈوبے اوروں پہ سہارہ کون کرے

کشتی پہ بھروسا جب نہ رہا تنکوں پہ بھروسا کون کرے

Saturday, 12 September 2020

ہمیں اب اس سے کیا آئی سحر یا وقت شام آیا

نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا
ہمیں اب اس سے کیا آئی سحر یا وقت شام آیا
زبان عشق پر اک چیخ بن کر تیرا نام آیا
خرد کی منزلیں طے ہو چکیں دل کا مقام آیا
اٹھانا ہے جو پتھر رکھ کے سینہ پر وہ گام آیا
محبت میں تری ترک محبت کا مقام آیا

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا
دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا
اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا
ورنہ ترا قصور نہ کرنا قصور تھا
تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں
تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا

Wednesday, 28 December 2016

چپ ہوں لیکن ہے خموشی بھی کلام آلودہ

چپ ہوں لیکن ہے خموشی بھی کلام آلودہ
تیغ پھر تیغ ہے، ہو لاکھ نیام آلودہ
ساقیا! بزم میں ارزاں ہیں بنامِ مے آج
آبِ ناپاک کے کچھ قطرۂ جام آلودہ
ایک دنیا کا تصور کوئی آسان نہیں
ذہنِ انساں ہے ابھی تک تو مقام آلودہ

جفا صیاد کی اہل وفا نے رائیگاں کر دی

جفا صیاد کی اہلِ وفا نے رائیگاں کر دی
قفس کی زندگی وقفِ خیالِ آشیاں کر دی
یہ دل کیا ہے کسی کو امتحانِ ظرف لینا تھا
تنِ خاکی میں اک چھوٹی سی چنگاری نہاں کر دی
بھرم حسنِ حقیقت کا کوئی کھلنے نہیں دیتا
نظر جب سامنے آئی، تجلی درمیاں کر دی

جل بجھی جب شمع دل پیغام شام آیا تو کیا

جل بجھی جب شمعِ دل، پیغامِ شام آیا تو کیا
مر چکی جب پیاس ساقی لے کے جام آیا تو کیا
تابِ جلوہ بھی تو ہو، وہ سُوۓ بام آیا تو کیا
چشم موسیٰ لے کے عشقِ تشنہ کام آیا تو کیا
گر چکی اک بار جب بجلی نگاہِ شوق پر
طور کی چوٹی سے پھر کوئی پیام آیا تو کیا

Sunday, 25 December 2016

تنظیم چمن کے عزم وہ سب وہ قول وہ پیماں بھول گئے

تنظیم چمن کے عزم وہ سب، وہ قول وہ پیماں بھول گئے
جو قبلِ بہاراں لب پر تھے، ہنگامِ بہاراں بھول گئے
ہر سو وہ ہراس و دہشت ہے اپنوں کو بھی انساں بھول گئے
دل رسمِ محبت بھول گئے، شاعر غمِ جاناں بھول گئے
پھولوں میں نہیں وہ خندہ لبی، نکہت نفسی، شبنم دہنی
وہ دورِ سموم و برق آیا، تہذیبِ گلستاں بھول گئے

جھجک اظہار ارماں کی بہ آسانی نہیں جاتی

جھجک، اظہارِ ارماں کی بہ آسانی نہیں جاتی
خود اپنے شوق کی دل سے پشیمانی نہیں جاتی
تڑپ شیشے کے ٹکڑے بھی اڑا لیتے ہیں ہیرے کی
محبت کی نظر جلدی سے پہچانی نہیں جاتی
کسی کے لطفِ بے پایاں نے کچھ یوں سوۓ دل دیکھا
کہ اب نا کردہ جرموں کی پشیمانی نہیں جاتی

ہم نے بھی کی تھیں کوششیں ہم نہ تمہیں بھلا سکے

ہم نے بھی کی تھیں کوششیں، ہم نہ تمہیں بھلا سکے
کوئی کمی ہمیں میں تھی، یاد تمہیں نہ آ سکے
زیست کی راحتوں میں بھی غم نہ ترا بھلا سکے
لب سے ہنسے ہزار بار دل سے نہ مسکرا سکے
نام ترا کیا ہے نقش میں نے اسی دعا کے ساتھ
دل سے نہ مٹ سکے کبھی، لب پہ کبھی نہ آ سکے

Monday, 28 November 2016

وہی حرص و ہوس کا تنگ زنداں ہے جہاں میں ہوں

وہی حرص و ہوس کا تنگ زنداں ہے جہاں میں ہوں
وہی انساں وہی دنیائے انساں ہے جہاں میں ہوں
تمنا قید، ہمت پا بہ جولاں ہے، جہاں میں ہوں
مجھے جکڑے ہوئے زنجیر امکاں ہے جہاں میں ہوں
کبھی شاید یہ محفل بھی ستاروں سے چمک اٹھے
ابھی تو اشکِ بے کس سے چراغاں ہے جہاں میں ہوں

بشر کو مشعل ایماں سے آگہی نہ ملی

بشر کو مشعلِ ایماں سے آگہی نہ ملی
دھواں وہ تھا کہ نگاہوں کو روشنی نہ ملی
خوشی کی معرفت اور غم کی آگہی نہ ملی
جسے جہاں میں محبت کی زندگی نہ ملی
یہ کہہ کے آخرِ شب شمع ہو گئی خاموش
کسی کی زندگی لینے سے زندگی نہ ملی

گزری حیات وہ نہ ہوئے مہرباں کبھی

گزری حیات وہ نہ ہوئے مہرباں کبھی
سنتے تھے ہم کہ عشق نہیں رائیگاں کبھی
اتنا تو یاد سا ہے کہ ہم تھے جواں کبھی
پھرتی ہیں کچھ نگاہ میں پرچھائیاں کبھی
دو گل قفس میں رکھ کے نہ صیاد دے فریب
دیکھا ہے ہم نے جیسے نہیں آشیاں کبھی

Wednesday, 26 October 2016

فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے

فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے
خون ہی خون مجھے رنگِ سحر لگتا ہے
مان لوں کيسے کہ ميں عيب سراپا ہوں فقط
ميرے احباب کا يہ حسنِ نظر لگتا ہے
کل جسے پھونکا تھا يہ کہہ کے کہ دشمن کا ہے گھر
سوچتا ہوں تو وہ آج اپنا ہی گھر لگتا ہے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے

سرِ محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے​
تُو نے روکا بھی تھا مجرم کی خطا سے پہلے ​
اشک آنکھوں میں ہیں، ہونٹوں پہ بُکا سے پہلے ​
قافلہ غم کا چلا،۔ بانگِ درا سے پہلے ​
اڑ گیا جیسے یکایک میرے شانوں پر سے ​
وہ جو اک بوجھ تھا، تسلیمِ خطا سے پہلے​

دل کی دل کو خبر نہیں ملتی

دل کی دل کو خبر نہیں مِلتی
جب نظر سے نظر نہیں ملتی
سحر آئ ہے دن کی دھوپ لیے
اب، نسیمِ سحر نہیں ملتی
دلِ معصوم کی وہ پہلی چوٹ
دوستوں سے نظر نہیں ملتی

Monday, 23 November 2015

خورشید گہن سے چھوٹ چکا بدلی سے رہائی باقی ہے

خورشید گہن سے چھوٹ چکا بدلی سے رہائی باقی ہے
طوفان سے تو کشتی کھے لائے، ساحل پہ لڑائی باقی ہے
پیروں کی کٹی بیڑی جس دم، قیدی سمجھا، آزاد ہوا
یہ بھول گیا گردن میں ابھی زنجیرِ طلائی باقی ہے
رہرو دونوں خطروں سے اگر بچ نکلا، منزل پائے گا
اب راہزنی تو ختم ہوئی، ہاں راہنمائی باقی ہے

جنوں کا دور ہے کس کس کو جائیں سمجھانے

جنوں کا دور ہے کس کس کو جائیں سمجھانے
اِدھر بھی ہوش کے دشمن، اُدھر بھی دیوانے
کسی میں دم نہیں، اہلِ ستم سے کچھ بھی کہے
ستم زدوں کو ہر اک آ رہا ہے سمجھانے
فصیلِ باغ سے یہ آندھیاں رکیں گی کہیں 
چمن کی سمت بڑھے آ رہے ہیں ویرانے

چھپ کے دنیا سے سواد دل خاموش میں آ

چھپ کے دنیا سے سوادِ دلِ خاموش میں آ
آ یہاں تُو مِری ترسی ہوئی آغوش میں آ
اور دنیا میں تِرا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں
اے مِرے دل کی تمنا لبِ خاموش میں آ
مئے رنگیں! پسِ مِینا سے اشارے کب تک
ایک دن ساغرِ رِندانِ بلا نوش میں آ

Monday, 28 September 2015

پردے کو لو دے وہ جھلک اور ہی کچھ ہے

پردے کو لَو دے وہ جھلک اور ہی کچھ ہے
نادیدہ ہے شعلہ تو لپک اور ہی کچھ ہے
ٹکراتے ہوئے جام بھی دیتے ہیں کھنک سی
لڑتی ہیں نگاہیں تو کھنک اور ہی کچھ ہے
ہاں جوشِ جوانی بھی ہے اک خلدِ نظارہ
اک طفل کی معصوم ہمک اور ہی کچھ ہے