حصولِ دید کی خواہش ہے بندگی کی طرح
"مجھے عزیز ہے تُو میری زندگی کی طرح"
غموں کی بھیڑ میں کچھ پل خوشی کے دو مجھ کو
سجو اداس لبوں پر کبھی ہنسی کی طرح
ہر ایک سمت ہے آہ و فغاں فضاؤں میں
گزر رہی ہے مگر دیکھ ان سُنی کی طرح
حصولِ دید کی خواہش ہے بندگی کی طرح
"مجھے عزیز ہے تُو میری زندگی کی طرح"
غموں کی بھیڑ میں کچھ پل خوشی کے دو مجھ کو
سجو اداس لبوں پر کبھی ہنسی کی طرح
ہر ایک سمت ہے آہ و فغاں فضاؤں میں
گزر رہی ہے مگر دیکھ ان سُنی کی طرح
سیاہ رات میں جگنو کی روشنی کی طرح
"مجھے عزیز ہے تُو میری زندگی کی طرح"
اسی نے اپنے پرائے سے روشناس کیا
فریب بھی تو جہاں میں ہے آگہی کی طرح
ہر اک اناؤں میں خود کو خدا سمجھتا ہے
ملے کوئی تو مجھے عام آدمی کی طرح
اس طرح درد کی شدت کو گھٹا لے تُو بھی
"چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہا لے تُو بھی"
مجھ کو دنیا نے کئی رنج و الم بخشے ہیں
اب غمِ ہجر کے کرنا نہ حوالے تُو بھی
تجھ کو سچائی نظر آئے گی پھر دنیا کی
بس گمانوں کے ذرا پردے ہٹا لے تُو بھی
ہم نے مانا عشق میں ہونی ہے رُسوائی بہت
بیٹھ میرے پاس، ہم نے یہ سزا پائی بہت
اک عذابِ جان ہے یہ یاد ماضی کی مگر
یاد آتا ہے مجھے اکثر وہ ہرجائی بہت
کوئی گل کِھلتا نہیں گلشن میں میرے دیکھئے
جب بہار آئی گلِستاں سے پَرے آئی بہت
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
پیہم تو پرے ٹھہرا، اک بار نہیں ملتا
اس حسنِ مجسم سا شہکار نہیں ملتا
وہ سینہ مجھے یارو! مومن کا نہیں لگتا
جس سینے میں دل انؐ کا حُبدار نہیں ملتا
اُمت کے لیے روئے راتوں کو مصلّے پہ
دو جگ میں محمدﷺ سا غمخوار نہیں ملتا
گل آج گلستاں میں نِکھر جائے تو اچھا
صحراؤں میں آ کر نہ بِکھر جائے تو اچھا
ہر دور میں فرعون نے ہونا ہے جو پیدا
موسیٰ بھی کوئی نِیل سفر جائے تو اچھا
ہر بار غمِ ہجر میں عشّاق جلے ہیں
یہ غم کبھی معشوق نگر جائے تو اچھا
کتنا چلے مسافر صدمات کے سفر میں
کب تک دِیا جلے گا برسات کے سفر میں
تِیرہ شبی مقدر کچھ اس طرح بھی ٹھہرا
تم نے بھی ساتھ چھوڑا اس رات کے سفر میں
ملتے ہیں آج سارے بدلے ہوئے جہاں میں
دنیا بدل گئی ہے حالات کے سفر میں
مفلسِ وقت کے حالات سمجھ
میں اکیلا ہوں میری بات سمجھ
دل، جگر روح عشق نے پُھونکی
جسم کو میری باقیات سمجھ
وہ اکیلا تھا ذات میں اپنی
ہاں مگر میری کائنات سمجھ
سرکار محبت میں تو نقصان بہت ہے
اک جان ہے اور سانس کا فقدان بہت ہے
تعظیم ضروری ہے یہاں اہلِ ادب کی
مانا کہ دلِ ذوق پریشان بہت ہے
افتاد کے صحرا میں بھٹکتا ہے مسافر
اور یاس کی ریتی بھی پشیمان بہت ہے
وفاؤں کو میری تم دھیان میں رکھنا
جو بچھڑو تو ملنا پھر امکان میں رکھنا
بعد تیرے لوگ یوں میرے دل میں آئے
کرایہ دار کوئی جیسے خالی میں مکان میں رکھنا
جانے سیکھی کہاں سے مِرے دل نے سوداگری
نفع سب اس کا، ہمیشہ خود کو نقصان میں رکھنا
دامن دریدہ، سر بُریدہ لوگ ہیں
ہمیں نہ سمجھ کہ ہم پیچیدہ لوگ ہیں
ہماری ہے پہنچ عرش فرش کے مالک تک
ناز ہے ہمیں کہ ہم شنیدہ لوگ ہیں
ہوئی ہے عطا ہمیں نوع انسان کی رہبری
قابل تکریم ہیں ہم، ہم چُنیدہ لوگ ہیں