Showing posts with label شہزاد حیدر. Show all posts
Showing posts with label شہزاد حیدر. Show all posts

Friday, 1 April 2022

حصولِ دید کی خواہش ہے بندگی کی طرح

 حصولِ دید کی خواہش ہے بندگی کی طرح

"مجھے عزیز ہے تُو میری زندگی کی طرح"

غموں کی بھیڑ میں کچھ پل خوشی کے دو مجھ کو

سجو اداس لبوں پر کبھی ہنسی کی طرح

ہر ایک سمت ہے آہ و فغاں فضاؤں میں

گزر رہی ہے مگر دیکھ ان سُنی کی طرح

Sunday, 6 February 2022

سیاہ رات میں جگنو کی روشنی کی طرح

 سیاہ رات میں جگنو کی روشنی کی طرح

"مجھے عزیز ہے تُو میری زندگی کی طرح"

اسی نے اپنے پرائے سے روشناس کیا

فریب بھی تو جہاں میں ہے آگہی کی طرح

ہر اک اناؤں میں خود کو خدا سمجھتا ہے

ملے کوئی تو مجھے عام آدمی کی طرح

Saturday, 5 February 2022

اس طرح درد کی شدت کو گھٹا لے تو بھی

 اس طرح درد کی شدت کو گھٹا لے تُو بھی

"چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہا لے تُو بھی"

مجھ کو دنیا نے کئی رنج و الم بخشے ہیں

اب غمِ ہجر کے کرنا نہ حوالے تُو بھی

تجھ کو سچائی نظر آئے گی پھر دنیا کی

بس گمانوں کے ذرا پردے ہٹا لے تُو بھی

Friday, 4 February 2022

ہم نے مانا عشق میں ہونی ہے رسوائی بہت

 ہم نے مانا عشق میں ہونی ہے رُسوائی بہت

بیٹھ میرے پاس، ہم نے یہ سزا پائی بہت

اک عذابِ جان ہے یہ یاد ماضی کی مگر

یاد آتا ہے مجھے اکثر وہ ہرجائی بہت

کوئی گل کِھلتا نہیں گلشن میں میرے دیکھئے

جب بہار آئی گلِستاں سے پَرے آئی بہت

Thursday, 25 November 2021

دو جگ میں محمد سا غمخوار نہیں ملتا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


پیہم تو پرے ٹھہرا، اک بار نہیں ملتا

اس حسنِ مجسم سا شہکار نہیں ملتا

وہ سینہ مجھے یارو! مومن کا نہیں لگتا

جس سینے میں دل انؐ کا حُبدار نہیں ملتا

اُمت کے لیے روئے راتوں کو مصلّے پہ

دو جگ میں محمدﷺ سا غمخوار نہیں ملتا

Thursday, 1 April 2021

گل آج گلستاں میں نکھر جائے تو اچھا

 گل آج گلستاں میں نِکھر جائے تو اچھا

صحراؤں میں آ کر نہ بِکھر جائے تو اچھا

ہر دور میں فرعون نے ہونا ہے جو پیدا

موسیٰ بھی کوئی نِیل سفر جائے تو اچھا

ہر بار غمِ ہجر میں عشّاق جلے ہیں

یہ غم کبھی معشوق نگر جائے تو اچھا

Wednesday, 31 March 2021

کتنا چلے مسافر صدمات کے سفر میں

 کتنا چلے مسافر صدمات  کے سفر میں

کب تک دِیا جلے گا برسات کے سفر میں

تِیرہ شبی مقدر کچھ اس طرح بھی ٹھہرا

تم نے بھی ساتھ چھوڑا اس رات کے سفر میں

ملتے ہیں آج سارے  بدلے ہوئے جہاں میں

دنیا بدل گئی ہے حالات کے سفر میں

Tuesday, 23 March 2021

مفلس وقت کے حالات سمجھ

 مفلسِ وقت کے حالات سمجھ

میں اکیلا ہوں میری بات سمجھ

دل، جگر روح عشق نے پُھونکی

جسم کو میری باقیات سمجھ

وہ اکیلا تھا ذات میں اپنی

ہاں مگر میری کائنات سمجھ

Monday, 22 March 2021

سرکار محبت میں تو نقصان بہت ہے

 سرکار محبت میں تو نقصان بہت ہے

اک جان ہے اور سانس کا فقدان بہت ہے

تعظیم ضروری ہے یہاں اہلِ ادب کی

مانا کہ دلِ ذوق پریشان بہت ہے

افتاد کے صحرا میں بھٹکتا ہے مسافر

اور یاس کی ریتی بھی پشیمان بہت ہے

وفاؤں کو میری تم دھیان میں رکھنا

 وفاؤں کو میری تم دھیان میں رکھنا

جو بچھڑو تو ملنا پھر امکان میں رکھنا

بعد تیرے لوگ یوں میرے دل میں آئے

کرایہ دار کوئی جیسے خالی میں مکان میں رکھنا

جانے سیکھی کہاں سے مِرے دل نے سوداگری

نفع سب اس کا، ہمیشہ خود کو نقصان میں رکھنا

Sunday, 21 March 2021

دامن دریدہ سر بریدہ لوگ ہیں

 دامن دریدہ، سر بُریدہ لوگ ہیں

ہمیں نہ سمجھ کہ ہم پیچیدہ لوگ ہیں

ہماری ہے پہنچ عرش فرش کے مالک تک

ناز ہے ہمیں کہ ہم شنیدہ لوگ ہیں

ہوئی ہے عطا ہمیں نوع انسان کی رہبری

 قابل تکریم ہیں ہم، ہم چُنیدہ لوگ ہیں