Saturday, 5 February 2022

اس طرح درد کی شدت کو گھٹا لے تو بھی

 اس طرح درد کی شدت کو گھٹا لے تُو بھی

"چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہا لے تُو بھی"

مجھ کو دنیا نے کئی رنج و الم بخشے ہیں

اب غمِ ہجر کے کرنا نہ حوالے تُو بھی

تجھ کو سچائی نظر آئے گی پھر دنیا کی

بس گمانوں کے ذرا پردے ہٹا لے تُو بھی

یہ زمانہ ہے تماشائی،۔ تماشہ مت بن

اپنی آنکھوں کے سبھی اشک چُھپا لے تُو بھی

یوں بھی تسکین سی ملتی ہے سنا ہے میں نے

مجھ کو سینے سے ذرا یار لگا لے تُو بھی

اک خلش ہے جو جدائی کی دلوں میں یکسر

آ کبھی جشنِ غمِ ہجر منا لے تُو بھی

دل بھی کہتا ہے کہ ماضی کو بھلا کر شہزاد

اک نئی دنیا محبت کی بسا لے تُو بھی


شہزاد حیدر

No comments:

Post a Comment