Showing posts with label ستیہ پال آنند. Show all posts
Showing posts with label ستیہ پال آنند. Show all posts

Monday, 2 October 2023

ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا

 انّا للٰہ و انّا الیہ راجعون


ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا

اپنے کندھوں پر اٹھائے

آج آخر دفن کر کے آ گیا ہوں

بوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیے

بے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤں

اور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں

Friday, 1 April 2022

کیمیا گر نے مجھے جِھڑکا کہا گھر جاؤ

 کیمیا گر نے مجھے جِھڑکا، کہا؛ گھر جاؤ

کچا لوہا کہاں بنتا ہے طلا؟، گھر جاؤ

میری تاریکی میں کیوں پھرتے ہو یوں آوارہ 

دھوپ پہنا کے مجھے شب نے کہا؛ گھر جاؤ

قطرہ قطرہ مِری آنکھوں سے نچڑتا گیا درد 

اور ہر قطرہ مجھے کہتا رہا؛ گھر جاؤ

Wednesday, 30 March 2022

دعا فلک سے گر کے بکھر گئی

 عدم قبولیت


عجیب حادثہ ہوا

علیل ماں جو اسپتال میں پڑی 

کئی دنوں سے چھٹپٹا رہی تھی

ایکا ایک جیسے سو گئی

تو آسماں کی سمت دیکھ کر یتیم طفل چیخ چیخ اٹھے

Sunday, 23 January 2022

چھوٹے تابوتوں کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے

 تابوتوں کا بوجھ


تم بھی کندھا دینا، بھائی

چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا

بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے

دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے

ان میں وہ ننھے منے سپنے سوئے ہیں

Wednesday, 28 December 2016

ہمیں حنوط کرو ہم جیتے جی فرعونوں جیسے افضل تھے

ہمیں حنوط کرو 

ہم جیتے جی فرعونوں جیسے افضل تھے
برتر، اعلیٰ، سب سے اونچے
ہم مخدوم، مکرم، مقبول و ماجد
سب کے آقا تھے
آج ہماری ہار ہوئی ہے

چیز چمکیلی سی بیٹھی تھی مرے پھن میں تنی

چیز چمکیلی سی بیٹھی تھی مِرے پھن میں تنی
سنگِ اسود کا کوئی ٹکڑا تھا، یا پارس منی
کھٹکھٹائیں کس کا در اس شہر کے دریوزہ گر
گانٹھ کے پکے ہیں دونوں، شوم کیا اور کیا غنی
اک زمرد وقت آنے پر اگلنا ہی پڑا
بھول سے وہ کیوں نگل بیٹھی تھی ہیرے کی کنی

بوڑھا دڑھیل پیڑ تھا جانے کس طوفان میں اکھڑا تھا

بوڑھا دڑھیل پیڑ تھا، جانے کس طوفان میں اُکھڑا تھا
کیا دیکھوں اب پیچھے مڑ کر، میں کب گھر سے اجڑا تھا
چوکھٹ پر آنکھیں دفنائیں، دروازے سے پیار کیا
ستیہ پال آنند کی ہجرت کا بس اتنا دکھڑا تھا
پھٹے پرانے کپڑے تھے اس بھیک مانگتے بچے کے
پتی پتی بکھری ہوئی تھی، پھول بھی ادھڑا ادھڑا تھا

Friday, 16 December 2016

تابوتوں کا بوجھ تم بھی کندھا دینا بھائی

تابوتوں کا بوجھ

تم بھی کندھا دینا، بھائی
چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا
بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے
دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے
ان میں وہ ننھے منے سپنے سوئے ہیں

اے خدا میرے ابو سلامت رہیں

میرے ابو سلامت رہیں

“اے خدا! میرے ابو سلامت رہیں”
یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا
ظالموں نے اسے بھون ڈالا ہے کچھ اس طرح
ناک نقشہ کہاں، اس کا چہرہ بھی اک لوتھڑا ہے
لہو میں نہایا ہوا

Saturday, 8 October 2016

ریت گھڑی

ریت گھڑی

کس سے پوچھوں
اک ٹوٹے تارے کی طرح ہوا میں جل کر
میرے دھرتی پر گِرنے کے بعد بھلا کوئی پوچھے گا
کون شخص تھا؟
کیا کچھ برسوں بعد بھی مجھ کو یاد کریں گے
ان نظموں کے پڑھنے والے
شاید میرا نام کسی گلدان میں رکھے

کفن کی جیب کہاں ہے

کفن کی جیب کہاں ہے؟

یہ تین دن بہت بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں
مجھے یہ علم ہے، تم اپنے اختیارات کے تحت
مِری حیات کا اعمال نامہ پَرکھو گے
برائیوں کا، گناہوں کا جائزہ لو گے
میں جانتا ہوں فرشتو! کہ مجھ پہ لازم ہے
تمہیں بتاؤں کہ اعمال میرے کیسے تھے

دھیان میں گم اے شہنشاہ اسوۂ حسنہ

 منظوم ہدیۂ نعت

دھیان میں گم

اے شہنشاہِ اسوۂ حسنہؐ
آپ کا بندہ ستیہ پال آنند
غیر مسلم ضرور ہے لیکن
یہ اجازت تو دیں مجھے سرکارؐ
دھیان میں گم زمیں کو بوسہ دوں
اور باقی کی عمر اے آقاؐ
یوں ہی ٹھہرا رہوں جھکائے ہوئے

Saturday, 15 November 2014

اٹھائی گیر تھا وہ عزرائیل تھا ہی نہیں

اٹھائی گیر تھا، وہ عزرائیلؑ تھا ہی نہیں 

(اپنی اہلیہ کی پانچویں برسی کے دن لکھی گئی نظم)

 میں نصف جان لیے جی رہا ہوں مدت سے
 کہاں تو ربط تھا، ادغام تھا رگ و پے میں
 کہاں یہ حال ہے اب بکھرا بکھرا رہتا ہوں
 وہ کاملیت و وحدت، سوادِ اعظمِ کُل
 نہیں رہے کہ میں اب لخت لخت پھرتا ہوں

سوالوں کے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں

سوالوں کے پرندے

 سوالوں کے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں
 کہیں گہرے کنوؤں، تاریک غاروں میں
 میں ان کو چھو نہیں سکتا
کہ میں بھی تو انہیں تاریک گہرائیوں کا باسی ہوں
 کبھی اک جسم تھا، اب آتما ہوں
سوالوں کو چھوؤں کیسے؟

آسماں کی چھت کہاں ہے

آسماں کی چھت کہاں ہے
(وَجَعَلْنَا السَّمَاء سَقْفاً مَّحْفُوظاً: سورۃ الأنبياء (۳۲

اپنے گھر کے صحن میں یوں ششدر و حیراں کھڑا ہوں
جیسے رستہ کھو گیا ہو
 دھیرے دھیرے پاؤں میرے
 صحن کے کیچڑ میں دھنستے جا رہے ہیں
 جسم کے کیچڑ میں دھنسنے کا تصور
 روح فرسا تو ہے، لیکن
 اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں ہے

Thursday, 7 August 2014

اگلا سفر طویل نہیں

اگلا سفر طویل نہیں

 وہ دن بھی آئے ہیں، اس کی سیاہ زلفوں میں
 کپاس کھلنے لگی ہے، جھلکتی چاندی کے
 کشیدہ تار چمکنے لگے ہیں بالوں میں
 وہ دن بھی آئے ہیں، سرخ و سپید بالوں میں
 دھنک کا کھیلنا ممنوع ہے، لبوں پہ فقط
 گلوں کی تازگی اک سایۂ گریزاں ہے

بہی کھاتہ

بہی کھاتہ

 روز لکھتا ہوں آنے والے کل
 اور پرسوں کی زندگی کا حساب
 بہی کھاتہ کہ جس میں “فردا” کے
 قرض کی واجبی ادائی کی
 ذمہ داری ہے “آج” کے سر پر
یہ “زرِ پیشگی” عجب ہے مِرا