انّا للٰہ و انّا الیہ راجعون
ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا
اپنے کندھوں پر اٹھائے
آج آخر دفن کر کے آ گیا ہوں
بوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیے
بے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤں
اور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں
انّا للٰہ و انّا الیہ راجعون
ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا
اپنے کندھوں پر اٹھائے
آج آخر دفن کر کے آ گیا ہوں
بوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیے
بے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤں
اور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں
کیمیا گر نے مجھے جِھڑکا، کہا؛ گھر جاؤ
کچا لوہا کہاں بنتا ہے طلا؟، گھر جاؤ
میری تاریکی میں کیوں پھرتے ہو یوں آوارہ
دھوپ پہنا کے مجھے شب نے کہا؛ گھر جاؤ
قطرہ قطرہ مِری آنکھوں سے نچڑتا گیا درد
اور ہر قطرہ مجھے کہتا رہا؛ گھر جاؤ
عدم قبولیت
عجیب حادثہ ہوا
علیل ماں جو اسپتال میں پڑی
کئی دنوں سے چھٹپٹا رہی تھی
ایکا ایک جیسے سو گئی
تو آسماں کی سمت دیکھ کر یتیم طفل چیخ چیخ اٹھے
تابوتوں کا بوجھ
تم بھی کندھا دینا، بھائی
چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا
بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے
دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے
ان میں وہ ننھے منے سپنے سوئے ہیں